Ertugrul ghazi ارتعرل غازی – A Real Story

Ertugrul ghazi ارتعرل غازی – A Real Story

تاریخ کی کتابوں میں ارطغرل کی زندگی کے احوال اور ان

کی سرگرمیوں سے متعلق پختہ معلومات نہیں ملتیں، البتہ ان کے بیٹے عثمان اول کے ڈھالے ہوئے سکوں سے تاریخی طور پر ان کے وجود کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان سکوں میں عثمان اول نے اپنے والد کا نام ارطغرل نقش کروایا تھا۔تاریخ دانوں کو اُن کے حالات زندگی کے حوالے سے اُن لوگ کہانیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو اُن کی وفات کے سو سال بعد سلطنت عثمانیہ میں مقبول ہوئیں۔ ان لوگ داستانوں کی درستی پر بھی کئی طرح کے شبہات ظاہر کیےجاتے ہیں۔

عثمانی روایات کے مطابق[8] ارطغرل اپنے والد سلیمان شاہکی وفات کے بعد[9]) اپنے رفقا کو لے کر سلاجقہ روم کے پاس گئے اور ان سے زمین کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ انھوں نے سوغوت (ترکی: Söğüt) کی زمین ارطغرل کے حوالے کر دی جو اس زمانے میں بازنطینی سلطنت کی سرحد پر واقع تھا اور ارطغرل کو اس کا سردار بھی مقرر کر دیا۔ بعد ازاں اس سرزمین پر کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو آگے چل کر سلطنت عثمانیہ کی بنیاد کا سبب بنے۔

اسلام کی سربلندی کی خاطر ارطغرل اور دیگر عثمانی سلاطین کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی بنا پر عموماً ان کے ناموں کے ساتھ “غازی” کا لقب لگایا جاتا ہے۔ ارطغرل غازی عمر بھر سلجوقی سلطنت کے وفادار رہے لیکن ان کی زندگی کے آخری ایام میں سلجوقی سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں اور منگول سلطنت نے پورے اناطولیہ(موجودہ ترکی) پر قبضہ کر لیا تھا جو ان کے لیے سخت تشویش کا باعث تھا اور ان کی آرزو تھی کہ ایک عظیم اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں آئے۔ چنانچہ ارطغرل کے سب سے چھوٹے بیٹے غازی عثمان اول نے ان کا یہ خواب پورا کیا اور ایک عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ جو کارنامے ارطغرل غازی نے سر انجام دے شاید ہی کسی دوسرے مسلم سپہ سالار نے سر انجام دیے ہوں۔

وفات

وفات کے وقت ارطغرل کی عمر 90 سال سے زیادہ تھی۔ وہ ترکی کے شہر سوغوت میں مدفون ہیں۔ ان کی درست تاریخ وفات میں مؤرخین میں اختلاف ہے:

  • مشہور ہے کہ ارطغرل غازی کی وفات قائی قبیلے کی سرداری اپنے بیٹے عثمان اول کے سپرد کرنے کے بعد، سوغوت شہر میں 1281ء یا 1282ء میں ہوئی۔
  • بعض دوسرے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی وفات 1288ء یا 1289 میں ہوئی تھی۔[5]

مقبرہ

ارطغرل غازی سے منسوب ایک قبر سوغوت شہر کے باہر واقع ہے[10] لیکن اس پر کوئی قدیم تحریر موجود نہیں۔[11] مقبرہ پر موجودہ تحریر کی تاریخ سلطان عبد الحمید دوم کے سابقہ مقبرے کی بحالی عمل کے وقت کی ہے جو 1886–1887 کی ہے۔[12]

مقبرہ کی تعمیر کی تاریخ کا تعین نہیں ہے لیکن یہ تیرہویں صدی کے آخر میں موجود تھا:

  • اس کو پہلے عثمان اول نے مجرد قبر کے طور پر تعمیر کیا تھا۔[13]
  • بعد میں سلطان محمد اول کے دور میں اس قبر کو مقبرے میں تبدیل کردیا گیا۔[14]
  • مصطفٰی ثالث کے دور میں، دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اصل عمارت کی ہیت تبدیل کردی گئی۔
  • 1886ء میں سلطان عبدالحمید دوم نے اسے بحال کیا اور وضو کرنے کے لئے اس میں پانی کا چشمہ شامل کیا گیا۔

Leave a Reply