Aaina By Momal Aarain Urdu Afsana

Aaina by Momal Aarain is Urdu Afsana and is very interesting Urdu collection written by very talented Momal Aarain who is famous Urdu Novels Writer and written many Urdu columns and novels..

Aaina is Reality based Urdu Afsana and it is a story about social topic and very common issue Avidity that ruins many of the relations and sometime one becomes own enemy. Read here complete story and learn what happened next.. Very Romantic Urdu Novel that you will love reading.

About Momal Aarain

Momal is young talented writer who has started to write early in 2018 from Poetry. She has written in many topics and got very much appreciation from her column Aankh Aur Aansoo. Here you are going to read another masterpiece.

تم پھر اتنی صبح اٹھ گئے! تابش برتنوں کے شور سے اٹھ بیٹھا ۔
ایک تو روز یہ نمونہ عالیان صبح سویرے اٹھ جاتا ہے_ یہ کہتا تابش اسے دیکھنے اٹھ آیا
وہ ڈرائنگ روم میں پہنچا تو اسکی نگاہ سامنے نرم و مکائم رنگت والی اٹھارہ انیس سالہ لڑکی پہ گئی
اس سے بامشکل نظر ہٹا کے اسکی نظر ایک عورت پہ گئ جو چائے پیتے ہوئے عالیان سے کچھ کہہ رہی تھیں _
لو جی آگئے معروف شاعر تابش احمد !عالیان نے اسے دیکھتے ہی کہا
اس کے کہتے ہی وہ دونوں اسے سلام کرنے لگیں _
تابش انجان نگاہوں سے ان سے ملتا گیا۔
اس نے عالیان سے اشاروں میں پوچھنا چاہا مگر وہ کچن کی طرف بڑھ گیا _
میں آپکے لئے چائے لاؤں تابش جی ؟ وہ لڑکی شوخ نگاہوں سے اسے کہہ رہی تھی_ جس کا نام لیلا بتایا تھا
نہیں عالیان لے آئے گا _ تابش کی بے رخی انتہا پہ تھی
عالیان چائے لئے کمرے میں داخل ہوا تو رضیہ بیگم اسے اشاروں سے کچھ کہنے لگیں _
کچھ لمحوں بعد وہ کہنے لگا _
تابش انہوں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے_
جی کہیے میں سن رہا ہوں ‘ تابش چائے کا کپ تھامے انکی طرف متوجہ ہوگیا
ہمیں نہیں پتا تھا یہاں لوگ اتنی جلدی سو جاتے ہیں ‘ رات ایک بجے ہم آئے تھے آپ سے اہم بات کرنی تھی آپکی مدد چاہیے تھی مگر تب آپ نیند میں جا چکے تھے_ ہم کسی ہوٹل جانے کا سوچ رہے تھے تو عالیان نے رات رکنے کی پناہ دے دی _ اللہ تم لوگوں کو اجر دے_
وہ رات کی داستان سنا رہی تھیں _ جس میں تابش کو کوئی دلچسپی نا تھی_
اصل بات کیجئے_ اس نے مداخلت کی_
ہمارے گاؤں سلطان پور میں ۔ میں ایک کوٹھے کی مالکن ہوں _ میرے مرحوم شوہر کے مرنے کے بعد مجھے محض وہ حویلی ہی ملی جسے میں نے کوٹھے میں تبدیل کر دیا _ اور وہ کوٹھا بھی میں نے گاؤں کے کئی لوگوں کے دباؤ میں کھولا۔
وہ کہتے جارہی تھیں جبکہ عالیان اور تابش سن رہے تھے
بات دراصل کچھ یوں تھی کہ
رضیہ بیگم کے کوٹھے پہ کئ نامور شخص راتوں کو رنگ رلیاں منانے آتے تھے_ ان میں سے ایک ایم این اے نے ایک روز کوٹھے پہ اپنے صاحبزادے کو نشہ میں دھند دیکھ لیا تھا ۔ تبھی وہ سر تھامے بیٹھ گئے تھے_
ان کے جانے کے اگلے دن بعد پولیس کانسٹیبل جو کے علاقے کا امیر ترین شخص تھا وہ کوٹھے پہ آیا تھا ۔
دن کی روشنی میں اسے دیکھ کر تمام حسینائیں چونک گئیں تھیں _ اس نے رضیہ بیگم کو کوٹھی خالی کرنے کا کہا تھا _
اسے کہہ رہا تھا کے کسی بڑے آدمی نے آپکے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے اسلئے جلد از جلد یہ کوٹھی خالی کرنی ہوگی_
یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا تھا مگر رضیہ بیگم سارا ماجرہ سمجھ گئی تھیں وہ جان گئ تھیں یہ حکم ایم این اے خالد نے ہی دیا ہے آخر اپنے صاحبزادے کو اپنے نقش و قدم پہ جو دیکھ لیا تھا _
مگر رضیہ بیگم نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خالد کے دفتر کا رخ کیا ۔ اسے کئی قسمیں دیں مگر وہ نا مانا _
آخر فیصلہ یہ ہوا کہ پنچائت بلوا لینی چاہئے ۔
دو دن مشکل کے کاٹ کے پنچائت بیٹھی تو اس میں دو تو وہی تھے ایک خالد اور پولییس والا مراد ۔
باقی تین تھے ۔ ایک امام مسجد جو ہر روز کا تو نہیں مگر انکے اہم گاہکوں میں سے ایک تھا ۔ دوسرا تھا ایم فل کیا ہوا لیکچرار پاشا جو کہ ان کا مستقل گاہک تھا ۔ تیسرا فیصلہ کرنے والا ایک فیکٹری کا مالک تھا جعفر جو رضیہ بیگم کے کوٹھے کا لگاتار گاہک تھا _
پنچائت میں موجود ہر شخص رضیہ بیگم کا گاہک تھا ۔ مگر وہ پانچوں ایک دوسرے کے عیبوں سے غافل تھے_
خیر پنچائت کا فیصلہ یہ ہوا کے رضیہ بیگم یہ کوٹھا خالی کرکے اس گاؤں کو پندرہ دن کے اندر چھوڑ دیں گی ۔ جبکہ ان کے کوٹھے کا سارا سامان وہ بیچ کے جائیں گی_
بات یہ ہوئی کہ ‘بڑی عمر افرادوں کی عادت تو کبھی ختم نا ہو سکے گی مگر یہ کوٹھا بند کرنے سے نوجوان نسل سیدھی راہ پہ چلے گی’
پنچائت نے سراسر نا انصافی کی تھی_ رضیہ بیگم کی سمجھ میں نا آرہا تھا کہ وہ کریں تو کیا کریں _ اتنی ساری لڑکیوں کو لیکر وہ آخر کہاں جائیں گی_ پانچ دن گزر جانے کے بعد اب وہ تابش سے مدد طلب کرنے آئی تھیں _
تابش نے ساری بات بہت تحمل سے سنی تھی_
آپ اس گاؤں میں رہنا چاہتی ہیں ۔؟ اس نے رضیہ بیگم سے سوال کیا
جی بالکل۔ رضیہ بیگم نے جھٹ سے جواب دیا
یہی کوٹھے کا کام کریں گی۔ ؟ تابش نے لیلا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تو اور کیا کروں گی لڑکیوں کا حسن اسی کام آسکتا ہے _ رضیہ منہ بناتے کہہ رہی تھیں آپ اسی کوٹھے میں انڈسٹری کھولیں گی ۔ جہان آپ کی یہ لڑکیاں ہنر سیکھیں نا کہ بری چیزیں۔ تانش کو انکی بات ناگوار گزری تھی
مگر انڈسٹری کھولنے کیلئے پیسہ کہاں سے آئے گا ؟ اور وہ لوگ تو مجھے وہاں رہنے نہیں دے رہے انڈسٹری کیسے کھولنے دیں گے ؟ رضیہ اسکی بات سے اکتفا نا کر سکیں
وہ سب مجھ پہ چھوڑ دیں ۔
آپ کی حویلی میں کتنے کمرے ہیں ۔ تابش ان سے پوچھنے لگا
کُل اٹھارہ کمرے۔ لیلا بیچ میں بول اٹھی
تو وہاں بناؤ سنگھار کے لا تعداد آئینے بھی ہونگے ؟ تابش نے سوال کیا
ہاں بہت سارے قیمتی آئینے ہیں ۔ رضیہ گنتی کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں
تو پھر تہہ ہوا ۔ رقم ہم آئنے بیچ کہ جمع کرینگے۔ تابش نے اطمینان سے کہا
کوئ سونے چاندی کے آئینے نہیں ہیں ۔ کہ اتنی رقم جمع ہوجائے_ رضیہ بیگم شانے اچکائے کہنے لگیں ۔۔
اسکی آپ فکر مت کریں جو جو میں کہتا جاؤں وہ کرتی رہیں ۔ آپ کے شیشے ہزاروں میں بکیں گے_ اور وہ رقم ہم انڈسٹری میں لگائیں گے_ مگر یاد رہے ۔ آخری آئینہ بکنے کی رقم ہمارے حصے میں آئیگی_ تابش اپنا مفاد لینا نا بھولا ۔
ٹھیک ہے کرنا کیا ہوگا ۔ ؟ رضیہ نے راز دانی سے اس سے پوچھا ۔
تابش انہیں سارا کھیل بتا تا گیا _
آپنے بس انہیں یہ کہنا ہے کہ بولی لگنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر رقم مل جانی چاہئے ورنہ سودا منسوخ ہوجائے گا۔
سہی ہے_ اب آپ لوگ واپسی کے لئے نکل جائے ۔ کل میں اور عالیان الگ بھیس میں آپ کے گاؤں آئیں گے۔ ممکن ہوگا کہ آپ بھی ہمیں پہچان نا سکیں ۔
ہمارے کچھ بندے ایک دو دن میں ایک ایک کر کے وہاں آجائیں گے_ اور عالیان آپکو ہر اگلے قدم کے بارے میں آگاہ کرتا رہے گا _
سب اسکی بات سے متفق ہوگئے تھے_
اور سبھی اپنی منزلوں کی جانب بڑھ گئے تھے_
***
پلان کے مطابق اگلے روز عالیان اور تابش گاؤں پہنچ چکے تھے_
ایک لمبے کوٹ میں ملبوس تھوڑا بڑی عمر کا آدمی سر پہ اونچی ٹاپی پہنے ۔ لاٹھی تھامے ہاٹل میں داخل ہوا ۔ اس کے ساتھ اسکا مینجر بھی موجود تھا ۔ جس نے سوٹ کیس اٹھایا ہوا تھا ۔
چند لمحوں کی مینجر سے گفتگو میں اس آدمی نے بتایا کے وہ سنگاپور کا ایک نامور جادوگر ہے جس کا نام شنگ شانگ ہے۔ وہ اس گاؤں میں اپنا شو دکھانے آیا ہے تاکہ لوگ فن کو دیکھ سکیں ۔ اس نے مزید یہ بھی بتایا کہ وہ اردو سے آشنا ہے اسلئے کسی تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ باتیں ابھی مکمل ہی ہوئی تھیں ۔کہ کوریڈور میں ایک جوڑا داخل ہوا جسے دیکھ کر سب پلٹے ہاتھ میں ایک مناسب سوٹ کیس تھامے وہ لوگ مینجر سے کہنے لگے۔ ایک ہفتے کیلئے ہمیں آپکے ہاٹل کا سوئیٹ روم چاہیے۔ جسے سن کر ہاٹل سٹاف کے چہرے چمکنے لگے_ شاید انکے وہاں لوگ قسمت ہی سے آتے جاتے تھے_
کمرے کی چابی لیکر وہ دونوں اندر کی جانب بڑھ گئے جبکہ شنگ شانگ اور اسکا مینجر کمروں کے بارے میں بتا رہا تھا کل چار کمرے انہیں چاہئے تھے
اور شنگ شانگ نے مزید بتایا کہ انہیں اس ہاٹل کا ہال چاہیے ہوگا تاکہ وہاں شو کر سکیں ۔
***
پلان کے مطابق گلی محلوں میں پوسٹر لگنے لگے_ سنگاپور کے مشہور جادوگر کا چار دن کا شو تھا ۔ چوتھے دن جادوگر نے سب کے سامنے آکر اپنی نئی تخلیق دکھانی تھی۔
ان پوسٹرز پہ دو نیم برہنہ عورتیں بنی تھیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ آئیں ۔
تین دن شو کھچا کھچ چلتا رہا۔
چوتھے دن ہال پوارا سرے تک بھرا ہوا تھا۔ بیک سٹیج پہ کھڑے شنگ شانگ کا نام اس کے مینجر نے پکارا تو وہ چلتے ہوئے آگے آئے پورا ہال تالیوں سے جھوم اٹھا۔
شنگ شانگ نے تھوڑا جھک کے سب کو سلام پیش کیا۔
تو آج یہاں میں اپنی تخلیق کردہ نئی چیز لیکر آیا ہوں۔ آپ سب اس چیز سے خوب واقف ہیں۔
شنگ شانگ مائیک پہ کہہ رہا تھا۔ وہ چلتے چلتے آگے گیا۔ جہاں کرسی پہ کچھ رکھا ہوا تھا. اس نے اس چیز سے پردہ گرایا۔
تو یہ کیا وہ تو آئینہ تھا ! سب نے بے ساختہ اوہ کہا ۔
گھبرانے کی بات نہیں ہے دوستوں یہ آئینہ بہت پرانا ہے۔ اس کے ذریعے میں آپکو اس آئینے کے سامنے گزرے ہزاروں سالوں کے مناظر دکھا سکتا ہوں ! شنگ شانگ نے طویل مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
سارا ہال جھوم اٹھا ۔ سب کو بے سبری سے انتظار تھا وہ مناظر دیکھنے کا۔
شنگ شانگ تیزی سے ریموٹ سے کچھ کرنے لگا۔ پھر ایک دم ہال میں اندھیرا ہوگیا۔ تو یہ ہے 1970 کا منظر
اور آئینہ پہ ایک کچا مکان نظر آنے لگا۔ سفید عقبی دروازے سے ایک انگریز عورت چلتی آئی ۔ اس نے اپنا منہ آگے کرکے دانتوں میں پھنسی گندگی نکالی۔ پھر وہ مسکرا کے دیکھنے لگی_ سب کے چہرے سپاٹ تھے
گھبرائے مت! وہ عورت آئینہ میں دیکھ رہی ہے_
سب مطمئن ہوگئے ۔ اس عورت نے بال کھولنے شروع کیے اور پھر اس نے اپنی شرٹ کے بٹن_
اس سے پہلے کہ وہ سارے کپڑے اتار دیتی ۔ جادوگر شنگ شانگ نے ریموٹ سے وہ منظر ہٹا دیا۔
سارا ہال افسردہ ہوگیا ! رکئے رکئے ابھی اور ماضی کے عکس دکھانا باقی ہے۔
اس نے ریموٹ سے بٹن دبایا۔
ایک وسیع و عریض کمرہ سامنے نظر آیا ۔ یہ 1985 کا منظر ہے_ اسے دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا وہ کوئ کوٹھا ہے۔ اور یہ ہار سنگھار کرنے والا آئینہ۔
ایک خوبصورت عورت رقص کرتی دکھائی دی۔ اور اس کے سامنے بیٹھا مرد بھی_ پھر وہ مرد چلتا ہوا آئینہ کے سامنے آیا اس نے اٹھا کے خوشبو اپنے کرتے پہ لگائی_ اس کے کچھ لمحوں بعد وہ خوبصورت عورت اس کے پاس آگئی اور اس کا ہاتھ تھامے باتیں کرنے لگی۔ سارا ہال خاموش تھا ۔
پھر وہ مرد اس عورت کا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا۔ اس سے پہلے کے مزید کچھ عیاں ہوتا ۔ جادوگر شنگ شانگ نے ریموٹ سے وہ سب بند کر دیا
کیوں بند کر دیا رے دیکھ لینے دیتے انکی رام لیلا۔ ایک نوجوان بیچ میں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
ہمیں اور دکھائیں ایسا۔ ایک پینتالیس سال کا آدمی کمینگی سے کہہ رہا تھا ۔
سارا ہال شور سے گونج اٹھا۔۔۔
***
خاموش! شنگ شانگ نے مائیک پہ کہا۔
تم ۔ اس نے ایک نوجوان کو اشارہ کرتے ہوئے کہا
تم ابھی جاؤ اور اپنے گھر میں لگا کوئی بھی آئینہ اُٹھا لاؤ۔ ہم دکھائیں گے یہاں تمھارے گھر میں لگے آئینے کا ماضی۔ وہ مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہا تھا ۔ جب کے اس نوجوان کا حلق خشک ہوگیا۔
نہیں۔ میرا گھر بہت دور ہے میں نے لا سکتا۔ اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔
جس کی بات پہ شنگ شانگ نے قہقہہ لگایا۔
اچھا تم ۔ اس نے ایک چالیس سالہ مرد کی طرف اشارہ کیا۔ تم اپنے کمرے میں لگا آئینہ لے آؤ تاکہ یہ سب تمھارے کمرے میں ہوئی رام لیلا دیکھ سکیں ۔ شنگ شانگ بہت دھیمے لہجے میں بول رہا تھا
جبکہ وہ مرد شاک میں آگیا تھا ۔ اس نے آئینہ لانے سے صاف انکار کردیا ۔
مینجر ! شنگ شانگ نے اپنے مینجر کو آواز لگائی_
اس ہوٹل میں موجود کسی بھی کمرے کا آئینہ اتار لاؤ۔ اس کمرے میں موجود لوگوں سے اور ہوٹل کے مینجر سے پوچھ ضرور لینا۔
ہدایت دینے کے بعد وہ پبلک کی طرف مڑ گیا۔ اس نے پبلک سے کئی سوال کیے جس سے یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ انہیں صرف اور صرف جسموں سے مطلب تھا۔
کچھ ہی دیر میں مینجر اور دو آدمی آئینہ لے آئے ۔
ان کے آئینہ رکھ دینے کے بعد پیچھے سے وہ جوڑا نکل آیا۔ جو پریشان دکھ رہا تھا
شنگ شانگ نے انہیں مطمئن کرکے بھیجا کہ وہ بس کچھ ہی چیزیں ظاہر کرے گا۔
وہ جوڑا واپس مڑ گیا۔
شنگ شانگ نے ریموٹ پہ انگلیاں چلائیں ۔
ہوٹل کا کمرہ دکھنے لگا۔ ایک آدمی وہی جو یہاں آیا تھا۔ وہ بنیان پہنے اپنے بال سنوار رہا تھا ۔ پھر اسکی بیوی پیچھے سے آگئ جو رات کے مخصوص کپڑے پہنے کھڑی تھی_
وہ دونوں باتیں کرنے لگے_ اور ایک دم !
شنگ شانگ نے وہ منظر بند کردیا ۔
سارا ہال شور سے گونج اٹھا۔
تو اب آپ جان گئے ہونگے۔ مجھے میری نئی ایجاد بہت اچھی لگی یقینن آپکو بھی پسند آئی ہوگی۔
اب مجھے بلیو فلمیں بنانے کیلئے کسی ڈائریکٹر یا ایکٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میں محض ایک شیشے سے کئی بلیو فلمیں بنا سکتا ہوں۔
یہ کہتا شنگ شانگ جھک گیا
اور شو اختتام پذیر ہوا۔
****

رضیہ بیگم کی حویلی میں موجود چیزوں کی بولی لگنے کا دن آچکا تھا _
خالد مراد پاشا اور دیگر پنچائت کے سربراہ وہیں بولی میں شریک تھے۔
رضیہ کے ساتھ عالیان بولی لگانے کیلئے بھیس بدل کر کھڑا تھا
جبکہ کچھ ہی لمحوں میں حویلی کے عقبی دروازے سے جادوگر شنگ شانگ داخل ہوا۔ سب حیران ہوئے اسے تک رہے تھے
تم یہاں بولی میں شریک ہونے آئے ہو ؟ یا پھر رام لیلا منانے ۔؟ پاشا نے اس سے کمینگی سے پوچھا
ہاہا نہیں تم سے کی بیتی رام لیلائیں دیکھنے کیلئے یہ خوبصورت آئینے خریدنے آیا ہوں _ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے اتنی بلند آواز میں کہا کہ سب سن لیں ۔
اسکے کہنے کی دیر تھی کہ وہاں کھڑے پنچائت کے پانچوں آدمیوں کے پیر زمین پہ کھڑے کانپنے لگے_
خالد نے مراد کو اپنی طرف بلایا ۔
‘یہ سب آئینے ہم سب خریدیں گے ورنہ ہمارے کارنامے سب کے سامنے عیاں ہوجائیں گے اور ہم کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے_’
اسکی بات سے مراد نے اکتفا کیا
اور باقی تینوں بھی پیسے لگانے کیلئے راضی ہوگئے_
یہ بولی کب شروع ہوگی ؟ شنگ شانگ نے رضیہ بیگم سے پوچھا
بس ابھی ۔ عالیان عالیان جاؤ آئینہ اٹھا لاؤ_ وہ عالیان کو کہنے لگیں
چند لمحوں میں آئینہ صحن میں موجود تھا
تو پھر بولی شروع کی جائے_
رضیہ نے عالیان کو دیکھا جو مسکرا کے بولی شروع کرنے لگا۔۔ یہ آئینہ پانچ ہزار ۔
پانچ ہزار ایک پانچ ہزار دو
پندرہ ہزار ! شنگ شانگ نے بلند آواز میں کہا
پندرہ ہزار ایک پندرہ ہزار دو۔
پچیس ہزار ! خالد نے بلند آواز میں کہا
پچیس ہزار ایک پچیس ہزار دو ۔
چالیس ہزار ! شنگ شانگ نے پکارا
سب مڑ کے اسے دیکھنے لگے
چالیس ہزار ایک چالیس۔
پچاس ہزار پاشا اٹھ کھڑا ہوا
پچاس ہزار ایک پچاس ہزار دو پچاس ہزار تین !
پہلی بولی ختم ہوئ یہ آئینہ پاشا کے نام کر دیا گیا ہے
خالد نے جیتی ہوئی نگاہوں سے شنگ شانگ کو دیکھا
دوسرا آئینہ لایا گیا

یہ آئینہ دس ہزار ! بولی شروع ہوئی
تیس ہزار ! مراد تیزی سے بولا
تیس ہزار ایک تیس ہزار دو
ساٹھ ہزار ! شنگ شانگ نے متفکر بھری نگاہوں سے کہا
ساٹھ ہزار ایک ساٹھ ہزار دو
اسی ہزار _ خالد بول پڑا
اسی ہزار ایک اسی ہزار دو اسی ہزار تین ۔
بولی ختم ہوئی یہ آئینہ خالد کے نام کیا جاتا ہے
ایسے کرتے آٹھ انمول آئینہ بِک گئے شنگ شانگ کے ہاتھ کچھ نا آیا البتہ خریدنے والوں کی جیب خالی ہوگئ تھیں
رضیہ بیگم نے سبھی کو کہہ دیا تھا کہ ایک گھنٹے کے اندر رقم مل جانی چاہئے ورنہ سودا منسوخ ہوجائے گا۔
سبھی نے تیزی سے پیسے جوڑنے شروع کیے وہ سبھی
اپنے گناہوں پہ پردہ رکھنا چاہ رہے تھے
**
اب تو کوئی آئینہ نا بچا نا رضیہ؟ خالد نے اسے گھورتے ہوئے کہا
نہیں ۔ ہاں بلکہ ایک رہ گیا
وہ مجھے آپ منہ بولی رقم پہ دے دیں ۔ شنگ شانگ بول اٹھا
رضیہ نے عالیان نے کان میں کچھ کھسر پھسر کی
آخری آئینہ ایک لاکھ چالیس ہزار میں شنگ شانگ کو دیا جاتا ہے ‘
یہ اطلاع سنتے ہی شنگ شانگ قہقہہ مار کے ہنس پڑا
جبکہ وہاں موجود باقی سبھی کے رنگ فک ہوگئے_
شنگ شانگ نے اپنا بیگ کھولا اور ایک لاکھ چالیس ہزار کے کڑک نوٹ رضیہ کو تھما دیے ۔
کل میرے بندے یہ آئینہ اٹھا لے جائیں گے ۔
یہ کہتا شنگ شانگ باہر کی جانب بڑھ گیا لیکن سبھی کو پریشان کرگیا _
**
آہستہ آہستہ سبھی گھروں کو لوٹ گئے جبکہ خالد وہیں جما رہا ۔
تمھیں کیا مسئلہ ہے اب ۔ سب تو لٹوا دیا میرا تم نے ! رضیہ بیگم نے خفگی سے کہا
یہ آئینہ تم اسے نہیں دو گی ! خالد نے دو ٹوک کہا
اس نے مجھے رقم دے دی ہے اب یہ اسکا ۔ رضیہ بیگم نے آنکھیں چڑھاتے کہا
تم یہیں پہ رہو ہم نہیں چاہتے تم جاؤ یہاں سے _ خالد نے آہستہ سے کہا
ہیں ؟ کیوں ۔ ؟ رضیہ بیگم نے حیرت ظاہر کی
بس تم یہیں رہوگی ۔ خالد نے کہا
مگر ایک شرط پہ _ خالد نے اسے کچھ بولنے سے ٹوکا
کیا شرط ۔ رضیہ نے اس سے پوچھا
تم ہمیں یہ آئینہ بدلی کرنے دوگی _ خالد نے اسے گھورتے ہوئے کہا
اچھااا ۔ مگر میں یہاں انڈسٹری کھولوں گی۔رضیہ بیگم نے حیرت سے منہ کھولا اور کہا
جو کھولنا ہوا کھول لینا۔ خالد نے بیزاری سے کہا
کل تک تو تم مجھے نکال رہے تھے آج کیا ہوگیا ۔
انہوں نے کہا
بس اب تم یہیں رہوگی فیصلہ ہوگیا ۔ رات کو میرے بندے آئینہ تبدیل کر جائیں گے_’ یہ کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا اور حکم صادر کرتا چلتا بنا ۔
اس کے جانے کے بعد رضیہ بیگم مسکرانے لگیں۔
انکا پلان کامیاب ہوا تھا_

***

خالد کے کہنے کے مطابق آئینہ تبدیل ہوگیا تھا ۔اور اگلے دن دو بندے وہ تبدیل شدہ آئینہ لے گئے تھے_
سب صحن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے_ تابش اپنے حلیے میں تھا ۔ عالیان بسکٹ ڈبو ڈبو کہ کھا رہا تھا
دیکھا کیسے ہوا کام تمام ۔ اب آرام سے آپ یہاں انڈسٹری کھولنا اور ان لڑکیوں کو ہنر سکھانا۔
تابش کہہ رہا تھا
ہاں تمھارا اور عالیان کا بہت بڑا احسان ہے ہم پہ _ رضیہ بیگم انکے گن گانے لگیں
ایک منٹ ۔ وہ یہ کہتیں اندر کی جانب بڑھ گئیں ۔
اور واپسی میں پیسے تھامے لوٹیں
یہ ہے ایک لاکھ چالیس ہزار رقم _ جو تہہ تھی کہ آخری آئینہ کی رقم تم لوگ کی ہوگی_
وہ مسکراتے اسے کہہ رہی تھیں ۔
تابش نے وہ رقم بیگ میں رکھ لی_
شکریہ کرتے وہ دونوں سامان سمیٹنے لگے
اور واپسی کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے_
‘انسان کی نفسیات سے کھیلا گیا یہ عظیم کھیل رنگ لے آیا تھا ‘
آخری میں ایک بات بتاتی جاؤں ۔
وہ آئینہ پہ دکھنے والے سبھی مناظر
ڈی وی ڈی پلئیر کا کمال تھے !!

••• تمام شُد••••

Pari by Momal Aarain Complete NovelMomal Aarain is famous for her unique writing style. Also, she has written many Novels before the one you are going to read. She started writing early in 2018 and since then completed her writing journey successfully.

Also Read Here Husna By Huma Waqas

Also Read Pari By Momal Aarain Complete Novel

 

Download Urdu Novels PDF

Urdu Kitabain is wonderful place for urdu readers. If you are Novels and Book lovers, you are at right place where you can read famous Urdu Novels and download them on your device.

You can request us your favorite Urdu Novel which we can share with you on this page upon your request. Further we are providing a wonderful platform for those who like to write and have not started yet. contact us on our facebook page here.

Leave a Reply