Afsaanay Afsana

Anjaam E Muhabbat Hai Ruswai By Asma Khan Urdu Afsana

انجام محبت ہے رسوائی

اردو افسانہ

اسماء خان

دسمبر کی یخ بستہ تاریک رات میں ایک ذی روح خود میں اٹھنے والی سوچوں سے لڑ رہی تھی ایسے میں جب ہر انسان نیند کی وادیوں میں تھا اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی اپنے اندر اٹھنے والی چیخوں کا گلا وہ خود گھونٹ رہی تھی اس کے اندر کیا چل رہا تھا یہ بس وہ جانتی تھی خون جما دینے والی سردی کا اس پہ کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا وقت اور حالات اس کے جذبات منجمد کر چکے تھے۔۔۔

ہیلو غازان کیسے ہو؟

*******************

۔۔۔۔۔۔میں کب سے تمہارا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔جانتے ہو میں کتنی پریشان ہو گئ تھی۔کال ریسیو ہونے کے بعد ایک ہی سانس میں کئ سوال کر کے حورم جواب کی منتظر تھی لہجے میں موجود پیار اور فکر ظاہر ہو رہی تھی۔۔ اور مقابل کے لئے یہ وبال جان سے زیادہ کچھ نہ تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔بس اب بولنا بند بھی کرو دماغ کھا گئی ہو۔ سوالات ایسے کر رہی ہو جیسے میں جواب دینے کا پابند ہوں۔ سویا ہوا تھا کیا میں سکون سے اب سو بھی نہیں سکتا؟ میری نیند حرام کر دی ہے تم نے۔۔۔

۔۔کیا ہو گیا ہے غازی ایسے کیوں بات کر ریے ہیں؟؟؟

کچھ نہیں ہوا کال بند کرو دماغ نہ کھاؤ۔۔

فون ہاتھ میں پکڑے وہ بدلتے روپے پہ حیران تھی آنکھوں میں تیرتی نمی نے سکرین کا منظر دھندلا دیا تھا۔۔۔

****************

….اففف یہ لڑکی تو گلے ہی پڑ گئ ہے اب پیچھا چھڑانا ہی پڑے گا میں مزید رونا دھونا برداشت نہیں کر سکتا۔۔ غازان دوستوں میں بیٹھا حورم سے چھٹکارا پانے کا پلان بنا چکا تھا۔۔

۔۔۔اپنے ہی دوست کے نمبر سے حورم کو نازیبا اوراخلاق سے گرے ہوئے پیغام بھیجنے کے وہ اپنی چال چل گیا تھا اب بس حورم کے کردار کو داغدار کرنا باقی تھا یہ کب اور کیسے کرنا ہے بھی اس نے سوچ لیا تھا۔۔۔

****************

انجان نمبر سے موصول ہونے والے ایسے پیغامات نے دماغ کو ایک پل کے لئے شل کر دیا تھا۔۔ میسج ڈیلیٹ کر کے نمبر کو بلاک پہ لگا کے وہ خود کو تھوڑا پر سکون محسوس کر رہی تھی۔۔۔

۔۔سنو حورم مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔فری ہو کر جلدی مجھ سے رابطہ کرنا۔۔پیغام بھیج کر وہ حورم کے انتظار میں تھا۔۔ کچھ ہی پل انتظار کے بعد حورم کالنگ کے الفاط سکرین پہ نمودار ہوئے تاخیر کیے بغیر کال اٹھا لی گئی تھی۔۔۔

ہاں غازی کیا ہوا کیوں اتنی جلدی میں بلایا؟کچھ کہےاور سنے بغیر اس نے اپنی سوچ پہ عمل شروع کر دیا تھا۔۔

افسوس حورم مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔ کون سی کمی رہ گئی تھی میرے پیار میں؟میرے بے پناہ پیار کا تم نے یہ صلہ دیا۔ میرے ساتھ ساتھ تمہیں میرے دوست سے ریلیشن بناتے ہوئےشرم نہیں آئی۔۔ تمہارے گھٹیا میسج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں۔۔ بس بہت پاگل بنا لیا تم نے مجھے اب اور نہیں آج کے بعد مجھ سے کوئی رابطہ مت کرنا۔۔ تم جیسی گھٹیا اور گری ہوئی لڑکی کو میں منہ لگانا اپنی توہین سمجھتا ہوں جو ایک وقت میں اتنے لڑکوں سے ریلیشن بنائے۔۔

۔۔۔ایک منٹ میں حورم کو اسکی ہی نظروں میں گرا کر وہ خود کو آذاد کروا گیا تھا۔۔ اس کو اپنا آپ زمین میں دھنستا محسوس ہو رہا تھا۔۔ کیا وہ گھٹیا اور گری ہوئی لڑکی تھی؟؟؟ لڑکوں کےساتھ ریلیشن بنانے والی؟؟؟

……اچانک ہونے والی بارش نے حورم کو سوچوں کے گرداب سے باہر نکالا۔۔ لیکن یہ بارش حورم کے سرد جذبات سے زیادہ سرد نہ تھی۔۔۔۔۔

****************

تُمھیں احساسِ ندامت ہو تو اتنا کرنا،

پھر کسی کو نہ اِس طرح رسوا کرنا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *