Aurat Barae Farokht Short Story by Samaa Chaudhary

Aurat Barae Farokht by Samaa Chaudhary is Urdu Shorty Story. Download PDF HERE. Aurat Barae Farokht is Story of a Urdu best writer who started to love his character and in love started to find her in real..  Also, Beautifully written by Samaa Chaudhary Mere Armaan aur tum is very romantic urdu novel.

عورت برائے فروخت

ایک تلخ حقیقت پر مبنی تحریر

Aurat Barae Farokht Novel By Samaa Chaudhary

Samaa Chaudhary Novels List

 

عورت برائے فروخت

جون جولائی کے گرم دن، عین سر پر چمکتا سورج ہر کسی کو گھروں میں باندھے ہوئے تھا پر وہ بائیس برس کا نوجوان جمالی محلے کی نکڑ میں بنے اونچے چوبارے پر موٹر سے لگائی مشین کو دھواں دھار رفتار سے بھاگا رہا تھا، نا کسی گرمی کا احساس نا سر پر کوئی سائبان، یہ جمالی محلے کی مصروف ترین نکڑ تھی، خرید و فروخت کی دوکانیں اور حسن و نکھار کا سامان بھی اسی نکڑ پر پایا جاتا۔

جمالی محلہ اپنی رنگین آب و تاب سے ہر زبان کی زینت ہوتا، یہاں کے قصے کہانیاں گویا ہر کوچہ میں بڑی رفت و ادا سے بتائی جاتی
محلہ بےنام ہو یا نام ور ہوتا تو رہائش پذیر سانس لیتی چلتی پھرتی آبی مخلوق سے ہے۔ یہ تو پھر بدنام ِزمانہ نگار و عیاشی کا ایک دم لیتا مجسمہ تھا۔ حسن کی محفلوں میں ایک پروانہ جو شمع کو اپنے گرد کیے ہوئے تھا۔

تنگ گلیوں میں رہائش گاہیں بہت تھی، ہر پردے کے پیچھے ہزار چہرے اور ان چہروں کی الگ کہانی، ہر کہانی کے دسوں باب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے، ہر صفحے پر کردار بدل جاتے ہر دوسرے حرف پر نام تبدیل ہوتے، فہم و فراست کی اماں بھی یہاں دفن تھی
اور لُٹی ہوئی بےرنگ و آبرو بھی لاش سی بنی ہر دیوار پر حرفِ آخر بن کر چمک رہی تھی ہر اینٹ گواہ تھی صدیوں سے ہوئے واقعات کی عصبیت و عصمت کے جنازوں کی، لوگ مٹ رہے تھے اور مکانوں پر بوجھ تھا بوجھ بھی وہ کہ بےزباں کو کہو ہم راز رہے، بھید بھاؤ میں
بھلا کون بولےگا، ہم تو کہانی میں کہانی بن جائیں گے تم رہے مکان تو مکان کہاں بولا کرتے ہیں ! تم کو حکم ِخاموشی ہے اور ہم رخصت کے طلب گار۔

۔ ☆☆☆☆☆ ۔

 

” سنو ! ” نازک سی آواز پر وہ چونکا نظریں اٹھا کر
دیکھا وہ نیا چہرہ تھا ویسے تو یہاں کی ہر نسوانی آواز
کو وہ پہچان جاتا پر اب کی بار اس کو دیکھنا پڑا ۔

” جی ” جواب قدرے مختصر تھا ۔

” یہاں رہائش مل جائےگی؟ ” اپنا سراپا
ڈھانپ کر وہ گویا ہوئی۔

” نئی لگتی ہو پر اس جمالی محلے میں کوئی مکان خالی نہیں
ہے یہاں تو ہر اٹاری پر دسوں بندے رہ رہے، ہاں ایک مکان ہے پر
وہ شخص کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا ” وہ ٹر ٹر کرتا سب بتاتا گیا۔

” یہاں بھئ تفریق ہوتی ہے اچھے بٌرے کی؟ ”
وہ طنز بھری نظروں سے بولی۔

” کیا ہوتی ہے؟ ” وہ نا سمجھ بھلا کیا جانتا۔

 

” کچھ نہیں تم کیا کہہ رہے وہ شخص کا اس کا پتہ دو
میں خود بات کرلوںگئ ” لڑکے سے پتہ لےکر شبانہ بتائے
گئے پتہ پر گلی میں داخل ہوئی تنگ گلی چاروں طرف چھن چھن
کی آوازیں، عروج پر تھی دو مکان چھوڑ وہ ایک منزل کے سامنے
رکی دروازے پر نام کی تختی لٹک رہی تھی جس پر نگارش سے
” اللہ دتہ منزل ” لکھا تھا اپنے بیگ کو بغل گیر کرکے اس نے
گھنٹی بجائی ، کچھ پل کے انتظار پر دروازہ کھولا اور ایک چالیس سال کا مرد اپنی مونچھ کو تاؤدیتا باہر آیا، شبانہ نے گہری نظروں
سے دیکھا وہ کرتا شلوار میں مبلوس نہائت ادبی شخص معلوم ہوا
اس نے کچھ پل اس کو دیکھا پھر اپنی رہائش کا ذکر کیا۔

 

Leave a Reply