Aurat Barae Farokht Short Story by Samaa Chaudhary

” آداب ، سنا ہے آپ مکان کرایے پر دیتے ہیں مجھے رہائش چاہیے تھی اگر آپ ایک کمرہ دے دیتے تو مہربانی ہوتی” وہ ترنم سی بولی

” کہاں سے آئی ہو؟ کوئی نام پتہ؟ اس محلے کا واحد شریف خانہ
یہ میرا مکان ہی ہے اگر تو تم دھندے والی ہو تو یہاں رہائش نہیں مل سکتی ہاں اگر ویسے پر ویسے یہاں کون رہنے کو آئےگا ؟ ” اللہ دتہ گہری نظروں سے اس کا معائنہ کرکے بولا جیب سے پان نکالا اور منہ میں ڈال لیا پھر کمر پر ہاتھ باندھے اس کو سر سے پاؤں کے ناخن تک دیکھا سانس چھوڑی اور اندر آنے کا کہہ کر دروازے سے پیچھے ہٹ گیا۔ وہ انہی قدموں چلتئ اندر آئی اللہ دتہ نے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ جا بیٹھی ۔

” میرے سوال کا جواب نہیں دیاتم نے ”
پان تھوک کر اس نے پان دان نیچےرکھ دیا ۔

 

” میرا نام شبانہ ہے ، پرانی کچی بستی کی رہائشی تھی
وہاں طوفان سے مکان گر گئے تو رہنے کو جگہ دیکھ رہی ہوں باقی
محلے مہنگے تھے تو اس محلہ کا انتخاب کیا” اللہ دتہ کی حرکات اس کو مشکوک لگ رہی تھی خود اعتمادی سے جواب دےکر وہ کرسی کے کنارے دیکھنے لگی۔

“سن لڑکی تُو تو پڑھی لکھی معلوم ہوتی ہے، کیا تعلیم ہے تیری ؟” اللہ دتہ کو اپنا دھندا پر ایک اکاؤنٹ منیجر جو چاہیے تھا حرام کا روپیہ بڑا سنبھالنا پڑتا ہے، موقع سے فائدہ اٹھا کر اس نے پوچھا۔

” ہاں بہت پڑھی لکھی ہوں گلیوں میں پرچے دیے ہیں، اور چوکوں پر نتیجے آئے ہیں،میں نے معاشرے پر “پی ایچ ڈی” کی ہے اور رویوں پر “ڈگریاں ” لی ہیں ” وہ بےحد سادگی سے بولی تھی اللہ دتہ کے ہاتھ سے پان گر گیا۔

” غصہ کیوں ہوتی ہو چل کرایے پر تجھے اوپر کا مکان دیتا ہوں ساتھ غسل خانہ ہے اور ایک چھوٹا کونا کھانے پکانے کو بھئ ہے، کھڑکیاں خوب ہوا دار ہیں کمرے میں پنکھا بھی لگا اور بجلی کا انتظام بھی ہے سارا ملا کر تیرا کرایہ اٹھ سو بنتا ہے، اگر چاہے تو کرایہ معاف ہوسکتا ہے بس میرے حساب کتاب کا انتظام دیکھ لیاکر تو تجھ کو پانچ سو چھوڑ دوںگا ” کاپی پر قلم گھوما کر اللہ دتہ نے شبانہ کی طرف دیکھا۔

 

” اور باقی کے چار سو ؟ ” شبانہ نے اس کے لفظوں کا مطلب
خوب سمجھ رہی تھی پھر اس وقت کہیں اور ٹھکانہ بھی نہیں تھا
سو چپ چاپ اس سے چابی پکڑی اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔
(اللہ دتہ کی مکرو ہنسی اور حرکات و سکنات اس کو مشکوک معوم ہورہی تھی بنا اپنا جواب پائے وہ منظر سے اٌوجھل ہوگئی.)

۔☆☆☆☆☆☆☆۔

“کچھ کر اللہ دتہ کچھ سوچ یہ چنچل چھوری بڑا فائدہ دے گی ویسے بھی اب جمالی محلے کی ساری رنڈیاں عمر رسیدہ ، اب ناں ادا میں شوخی ناں چال میں چمک ، شبانہ بڑی دلکش ہے سارے محلے میں تو امیر ترین اور اونچا مقام حاصل کرئے گا” خود کلامی کرتا اللہ دتہ شام سے یوں ہی ٹہل رہا تھا اپنے اصول و ضوابط وہ کچرے دان میں کب کا ڈال چکا تھا۔ساری رات وہ لکڑی کی ایک تختی تیار کرتا رہا رنگ و روغن کرکےاب قلم سے اس پر ایک عبارت تحریر کررہا تھا۔ سوچتے سوچتے ایک لائن ذہن میں ابُھری تو تختی پر قید کردی “عورت برائے فروخت ”
راتوں رات اللہ دتہ نے وہ تختی اپنے دروازے کے اوپر لگادی رات کی سیاہی میں بھلا کون دیکھ پاتا سوائے خالق کے کہ مخلوق کن تماشوں میں مصروف ہے۔ “جب منہ کو خون لگ جائے تو حلال و حرام کا تصویر ناپید ہوجاتا، پینے والے کو بس مشروب سے مطلب ہے اُس کو تیاری سے کیا لینا دینا؟ ” لمبا سانس چھوڑ کر جمائی کو روکتا اللہ دتہ اب لمبئ تان سو گیا اس بات سے بےخبر کہ تماشائی لائنوں میں جھگڑ رہے ہیں۔ وہ خواب خرگوش کے مزے لیتا سبز اور لال نوٹوں پر چہل قدمی کررہا تھا قمیض کے بٹن سے پاجامے کی سلائی تک بس روپیہ پیسہ ہی عیاں تھا۔

 

۔☆☆☆☆☆☆۔

” جادو سن یارر وہ ٹھرکی اللہ دتہ ہے ناں ؟ اس کے مکان میں
ایک لڑکی رہنے کو آئی ہے یار کیا چیز ہے ٹوٹا ہے پورا مست
مال مکھن ملائی کی طرح گوری چٹی اور ہائے کیا چلتی ہے
جان کےگئئ یارر سن رہا ہے ناں ؟؟ جادو ” اپنی بات دوہرا کر
وہ جاوید کا کاندھا ہلا کر بولا۔
” کام کرنے دے یار کل جانم خاتون کے چار جوڑے دینے ہیں

Leave a Reply