Afsaanay Afsana

Badaltay Rang by Kainaat Maqsood Urdu Afsana

بدلتے رنگ

اردو افسانہ

کائنات مقصود

وہ کھڑکی میں کھڑی بلیک شلوار قمیض اور ریڈ ڈوپٹے میں ملبوس بالوں کو پشت پر کھولے چھوڑے دور آسمان پر چمکتے چاند کو تکتے گہری رات کا ہی حصہ لگ رہی تھی۔گھڑی کی ٹِک ٹِک رات کے دو بجنے کا پتہ دے رہی تھی لیکن نیند اُسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔میز پر پڑا کیک مکمل طور پر پگھل چکا تھا لیکن آنکھوں میں کہیں انتظار کی رامق ابھی بھی باقی تھی۔

اشنال بیٹا آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟

جی ماما بس نیند نہیں آرہی تھی تو یہاں آگٸی۔لرزتی زبان سے لفظ ادا ہوۓ۔

نیند نہیں آرہی یا کسی کا انتظار ھے؟

اشنال بیٹا آپ بھی حد کرتی ہیں دانش بیٹے نے شام ہی آپکو کال کر کے بتا دیا تھا وہ بزی ھے نہیں آسکے گا لیکن آپ اب تک یہ کیک رکھے اسکا انتظار کر رہی ہیں۔۔جاٸیں اور سو جاٸیں۔منزہ بیگم اپنی جزباتی بیٹی کو گھورتے کمرے میں چلی گٸی۔

اشنال پگھلے کیک پر ایک نظر ڈالتے کمرے کی جانب چل دی۔دروازہ بند کرتے بیڈ کے قریب آٸی اور موباٸل اٹھایا کہ شاید دانش نے اُسے میسج بھیجا ہو لیکن موباٸل کی خالی سکرین نے اشنال کی آخری امید بھی توڑ دی۔موباٸل بیڈ پر پھینکتے ہوۓ اشنال پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔وہ ایسی ہی تھی بہت جزباتی ایک پل میں اُسکے قہقے گونجنے لگتے تو اگلے پل ہی کسی چھوٹی سی بات پر رونے لگ جاتی۔

آج اُنکی سکینڈ اینگجمنٹ اینورسری تھی.دانش نہ صرف اسکے تایا کا بیٹا بلکہ بچپن کا دوست ہمراز تھا اور پھر یہ دوستی دونوں کی مرضی سے رشتے میں بدل گٸی تھی۔۔اشنال یکدم یاد آنے پر مسکراٸی کہ پہلی اینورسری پر کس طرح دانش نے سارا دن لگا کر کیک بنایا تھا اور جب وہ کچن سے نکلا تو اُسکی حالت دیکھ کر سب قہقہ لگاۓ بغیر نہ رہ سکے تھے۔اور آج دانش اتنا اہم دن بھول گیا ایک میسج تک نہیں کیا۔سوچوں میں الجھی اشنال جانے کب نیند کی وادیوں میں کھو گٸ۔

*************** دانش بہت وقت ہو گیا اب میں چلتی ہوں۔اُسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوۓ بولی

ارے کہاں یار ابھی تو آٸی تھی تم۔مجھے نہیں پتہ کچھ دیر اور رکو نا۔ناز سے کہتے دانش نے پھر سے اسکا ہاتھ تھاما

دانش میں شام پانچ بجے آٸی تھی اور اب رات کے دو بج چکے ہیں اور تمہیں بھی تو گھر جانا تھا تمہاری سو کالڈ منگیتر تمہارا انتظار کر رہی ہوگٸی۔رمشا طنزاً مسکراٸی

کیا یار اِتنے اچھے ماحول میں اُس کا ذکر لازمی ہے۔سارا موڈ خراب کر دیا۔دانش غصے سے ہاتھ چھڑاتا کھڑا ہوا۔

اوہ سوری میں تو تمہیں تنگ کر رہی تھی۔رمشا بھی اٹھی

مجھے ایسا مزاق بلکل نہیں پسند۔دانش نے کہتے ہوۓ قدم آگے بڑھاۓ

اوکے نیکسٹ ٹاٸم ایسا نہیں ہوگا۔رمشا تیز تیز چلتے اُسکے قریب آٸی۔

ہمم گڈ چلو چلتے ہیں۔

***********

بی بی جی اٹھیے۔آپ نیچے کیوں سو رہی ہیں؟ملازمہ نے اُسے نیچے سوتا دیکھ کر پوچھا

کیا ہوا؟اشنال ہڑبڑا کر اٹھی

کچھ نہیں بی بی۔بڑی بی بی اوردانش سر آپ کا ناشتہ کی میز پر انتظار کر رہے ہیں۔

دانش آگٸے؟اشنال کی آنکھیں جکمگاٸی۔

اوکے میں فریش ہو کر آتی ہوں۔

گڈ مارننگ ایوری ون۔اشنال کی چہکتی آواز نے دانش کو اُسے جانب متوجہ کیا۔

گڈ مارننگ بچے۔۔ماما کی طرف سے جواب آیا دانش خاموش تھا۔

ناشتہ کرتے ہوۓ بھی اشنال نے دیکھا کے دانش کا دھیان کہیں اور ہے کچھ ہی دیر بعد دانش ناشتہ ویسے ہی پڑا چھوڑ کر کمرے میں چلا گیا۔

دانش کیا ھوا ناشتہ کیوں نہیں کیا آپ نے؟اشنال نے فکرمندی سے پوچھا

بھوک نہیں ہے مجھے۔دانش کافی پریشان لگ رہا تھا

دانش مجھے بتاٸیں کیا ہوا ہے۔اشنال اُسکے قریب آٸی

یار ایکچوٸلی مجھ سے بزنس ک ایک بہت بڑا نقصان ھو گیا ھے سمجھ نہیں آرہی میں انکل کو کیا جواب دوں گا۔دانش دکھی لہجے میں بولا

اوہ بس اتنی سی بات رکیں۔اشنال کمرے میں گٸی اور چیک بُک لے آٸی

یہ لیں چیک جتنا پیسے چاہیے لے لیں لیکن پلیز پریشان نہ ھوں۔

نہیں نہیں اشنال میرا یہ مطلب نہیں تھا۔دانش کے دل میں تو گویا لڈو پھوٹ رہے تھے لیکن ظاہر کر رہا تھا کہ اُسے اشنال سے پیسے لینا اچھا نہیں لگ رہا۔

دانش میرا سب کچھ آپ کا ہی تو ھے تو آپ چاہیں مجھ سے پیسے لے سکتے ہیں۔

تھینک یو سو مچ اشنال لو یو اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ھے کہ اُس نے مجھے تم سے نوازا۔

اشنال مسکراٸی۔

واہ یار تیری تو لاٹری لگ گٸی دو سال سے یہ لڑکی تجھ پہ پیسوں کی بارش کر رہی ہے تیری تو قسمت ہی گھل گٸی ھے۔حارث نے قہقہ لگایا

ہاہا ہاں یار لاٹری ہی لگ گٸی زرا سا پریشان ہونے کی ایکٹنگ کروں یہ لڑکی سب کچھ مجھ پہ وار دیتی ھے۔دانش طنزاً مسکرایا

یار کسی دن اِس حسینہ کو فلیٹ پر ہی لے آ۔۔حارث نے کمینگی سے کہا

أشنال کی گرفت دروازے پر مضبوط ھوٸی آنکھوں سے آنسوں کی برسات جاری تھی دانش کی اگلے لفظوں نے گویا اشنال کے قدموں سے زمین ہی چھین لی اُسکا یقین اعتبار سب سب ریزہ ریزہ ھوگیا

ہاں ہاں ضرور آج رات کا ڈنر فلیٹ پر ہی کریں گے۔دانش نے آنکھ ماری

اشنال اندر داخل ہوٸی اور اسکا ہاتھ اٹھا اور دانش کے گالوں پر نشان چھوڑ گیا۔

مجھے افسوس ھے کہ میں نے اپنی پاکیزہ جزبات تم جیسے گھٹیا انسان پر ضاٸع کیے۔تم محبت تو دور کی بات عزت کے بھی قابل نہیں ہو۔

اشنال میری بات سنو دانش اِس تھپڑ پر ہکا بکا رہ گیا۔

بس چپ مسٹر دانش بہت سن لی آپ کی۔۔نفرت ھے مجھے آپ سے بے انتہا نفرت۔۔اور رہی بات میرے بینک بیلنس کی تو وہ خیرات میں دیا تمہیں جاٶ خوش ھو جاٶ اشنال خان تمہیں اپنا بینک بیلنس خیرات میں دیتی ھے۔اور یہ انگھوٹی بھی سنبھالو۔دانش کے ہاتھ میں انگھوٹی تھماتے باہر نکل گٸی۔

خود پر کیا گیا ضبط اب ٹوٹ چکا تھا اشنال پھوٹ پھوٹ کر رو دی کہ اُس کے خالص جزبات کو دولت میں تولا گیا۔

موباٸل کی رنگ ٹون پر موباٸل دیکھا تو بابا کی کال آرہی تھی اشنال کو یاد آیا کے بابا نے اُسے کسی بزنس میٹنگ کے لیے بلایا تھا اشنال نے فیصلہ کیا اور آنسو صاف کرتی بابا کے روم کی جانب چلی گٸی۔

اشنال بیٹا کہاں رہ گٸی تھی آپ؟طبیعت ٹھیک ھے آپکی؟بابا نے تشویش سے پوچھا

بابا میں ٹھیک ہوں۔مجھے کچھ بات کرنی تھی آپ سے۔اشنال کرسی پر بیٹھتے ھوۓ بولی

جی بیٹا کہو۔بابا اشنال کی جانب متوجہ ھوۓ

بابا میں دانش سے منگنی توڑنا چاہتی ہوں اور اپنا سارا بزنس خود سنبھالنا چاہتی ہوں دانش آج سے ہمارے آفس میں نہیں کام کریں گے۔اشنال نے اپنا فیصلہ سنایا۔

لیکن بیٹا۔۔

بابا پلیز آپ کو اپنی بیٹی پر یقین ھے نا؟

جی مجھے پورا یقین ھے اپنی بیٹی پر۔۔بابا نے اُسکے سر پر ہاتھ رکھا۔

اشنال دو سال سے بنے رشتے کے بوجھ سے آزاد ہو کر مطمئن تھی۔

۔

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *