Corona Virus Aur Pakistani Awam by Mehreen Saleem

“کورونا وائرس اور پاکستانی عوام

Corona Virus Aur Pakistani Awam

Corona Virus Aur Pakistani Awam

” از: مہرین سلیم

آج کل تمام تر محفلوں کا بزم جس نام سے روشن ہے وہ ہے “کورونا وائرس” جو کہ اب تک دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں زندگیاں اچک لے گیا ہے ۔

بظاہر تو یہ ایک الیکٹرون مائیکرو اسکوپک وائرس ہے ۔ لیکن انسانی جانوں کے ساتھ کھیل کھیلنا خوب جانتا ہے ۔یہ وباء جو دسمبر کے آخر سے پوری دنیا میں پھیلی اور پھر پاکستان کا بھی رخ کرگئی ۔

اور بےشمار افراد کی قوت مدافعیت کو دیمک کی طرح چاٹنے لگی ۔ جیسا کہ کوئی بھی کام بغیر مصلحت کے نہیں ہوتا!! ۔ ہر کام کے پیچھے قدرت کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور پوشیدہ ہوتا ہے ۔۔۔ جو بنی نوع انسان کے لیے اپنے اندر ایک پیغام لیے ہوئے ہوتا ہے ، اور اسے صرف عقل والے ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ بقایہ یہ بھی مشاہدہ ہوچکا ہے کہ ان کٹھن حالات میں جہاں ملک لاک ڈاون کا شکار ہے وہاں ہمارا یعنی “ہماری پاکستانی عوام” کا کیا کردار رہا ہے ؟؟

کتنے لوگوں نے اس سے عبرت حاصل کرکے توبہ کی ، اور کتنے لوگوں نے بس مستی ، مذاق اور فنی ویڈیوز بنا کر اپنے نفس کی تشنگی بجھائی!

۔ معذرت کے ساتھ ہماری پڑھی لکھی عوام کی جہالت کا یہ حال ہے کہ “وہ کورونا کی شیپ کے کباب بنانے لگے ہیں” ۔۔۔ اسکے علاوہ ایک خبر پر نظر پڑی کہ “اک کورونا وائرس سے دوچار

پاکستانی نوجوان اپنی بےوفا محبوبہ پر چھینک مار کر فرار ہوگیا!!” اگر یہ خبر سچ ہے تو واقعی افسوس ناک ہے اور قابل مذمت ہے ۔ اگر لطیفہ ہے تو جہالت کی انتہاء کی تصویر کھینچتی ہے ۔۔

ناصرف یہ بلکہ “ہمارے نوجوان لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرکے پولیس والوں کے ہاتھوں مرغہ بن کر اپنی عزت کا جنازہ نکالنے پر بھی راضی ہیں”۔۔۔جہاں ہم کہتے ہی رہ گئے کہ “اللہ ایسے

لوگوں کو ہدایت دے” وہیں یہ بات بھی ذہن میں در آئی کہ “ہدایت انہیں ہی دی جاتی ہے ، جو ہدایت چاہتے ہیں” ۔۔

انہی دنوں اک جانب جب روئے زمین پر بسنے والیوں نے چیخ کر کہا کہ “میرا جسم ، میری مرضی” تو پھر دوسری جانب قدرت سے بھی آواز آئی کہ “میری قدرت ، میری مرضی” ۔ جو کہ “تم اللہ کے مال ہو اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے” کے نظریے پر گامزن دکھائی دی۔ میں نے دیکھا بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جس رب نے “یونس علیہ السلام” کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا وہ ہمیں اس وباء سے نکالنے پر بھی قادر ہے ۔۔۔ جس نے “موسی علیہ السلام ” کے لیے دریا میں راستے بنائے وہ ہمارے لیے بھی اس وباء سے نجات کے راستے فراہم کردے گا ۔۔۔ بےشک ایسا ہی ہے ۔ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ کن کہتا ہے ، فیکون ہوجاتا ہے ۔

لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ہمارے پاس یونس علیہ السلام اور موسی علیہ السلام جیسا ایمان ہے؟؟؟ (کیونکہ معجزے تو ایمان والوں کے لیے ہوتے ہیں) ۔۔ کیا ہم نے کوشش کے ساتھ اللہ پر اس حد تک توکل کیا ، جیسا اسکی شان کے لائق ہے؟؟؟ کیا ہم نے اس وباء کے نتیجے میں برپا قیامت صغری سے عبرت حاصل کی؟؟؟ “لیکن ہمیں تو لطیفے بنانے سے ہی فرصت نہیں” (کیونکہ ہم جسمانی وباء کے ساتھ ساتھ ذہنی اور روحانی وباء کا بھی شکار ہیں)۔۔۔

آج ہمارے وطن کو ہماری ضرورت ہے ، لیکن ہم بڑے ہی آرام سے اپنا فرض ادا کیے بغیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے تبدیلی کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں۔۔درحقیقت یہ ملک مجھ سے ، آپ سے اور ہم سب سے ہے ۔ لیکن صد افسوس کہ ہم نے پہچانا ہی نہیں کہ ایک مسلمان ، ایک بامقصد انسان اور ایک باشعور شہری کی زمہ داری کیا ہوتی ہے؟!! ۔۔۔ البتہ یہ حالات مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں ۔۔۔ المختصر “اللہ پاک ہی ہمارا حامی و ناصر ہو”۔۔۔

آمین ثمہ آمین

مہرین سلیم کے مزید ناول اور افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply