Hamari Zaat Se Hain Silsilay Saray By Hadia Amin

ہماری ذات سے ہیں سلسلے سارے
Urdu Afsana By Hadia Amin

Hadia Amin is rising talent from Karachi, we are sharing with you here her Afsana Hamari Zaat Se Hain Silsilay Saray

ہماری ذات سے ہیں سلسلے سارے!

Urdu Afsana

 

بالآخر آخری بچہ بھی اپنے گھر چلا گیا تھا. عظمیٰ کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا. اتنی تھکن تو شاید اس دن بھی نہ ہوئی تھی جس دن جس دن ریان پیدا ہوا تھا.اس نے مبالغے سے سوچا اور پاس رکھے صوفے پر گر سی گئی..نجانے کس نے کہا تھا, چھوٹے بچوں کی دعوت کرنا انتہائی آسان ہے,عظمیٰ تو جیسے پہاڑ سر کر کے آئی تھی..
دو تین منٹ بعد ہی اٹھ کھڑی ہوئی, ابھی دعوت کے ڈھیروں برتن دھونا تھے. وہ یہ سوچ کر کچن میں گئی مگر یہ کیا! کچن میں برتنوں کا نام و نشان نہیں تھا.. اس نے الماریاں کھول کر دیکھا, برتن دھل کر ٹھکانے بھی ہو گئے تھے. عظمیٰ بالکل بھی کمزور دل کی نہ تھی مگر اس وقت اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے..
“کیا ہو بھابی, کچھ کھو گیا کیا؟” عظمیٰ کی نند بختاور نے پوچھا..
“بختاور!برتن تم نے دھوئے ہیں, خدا گواہ ہے تمہارا شکریہ ادا کرنے کو الفاظ نہیں ہیں میرے پاس” عظمیٰ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا..
“جیسے ریان میرا تو کچھ ہے ہی نہیں, ویسے میں نے اکیلے نہیں دھوئے, زوبیہ بھابی بھی تھیں, ابھی بھیا کے ساتھ گئی ہیں, آئینگی تو تھینکس کہ دیجیے گا انہیں بھی, امی بھی تھیں ہمارے ساتھ”
زوبیہ عظمیٰ کی نئی نویلی دیورانی تھی..
“ہاں کیوں نہیں, سب لوگ عشاء پڑھ کر آجائیں بھر ابّا ریان کے گفٹس کھولینگے”..
یہ کہ کر عظمیٰ اپنے کمرے میں نیم دراز ہو گئی.. تھکن تو اتنی تھی کہ فوراً ہی سو جاتی مگر مگر وہ نیند کی وادی میں جانے کے بجائے ماضی کی یادوں میں کھو گئی..
کیا وقت تھا وہ بھی. جب میں کبھی آدھا, کبھی ایک اور کبھی گھنٹوں پڑوس میں بیٹھی رہتی کہ اماں گھر پر نہ ہوتیں, انکا سوشل سرکل بہت تھا, بہت ان کہے تعلقات نبھاتی تھیں وہ.. پھر آنٹی نے شکایت کری کہ عظمیٰ کی وجہ سے میں کہیں جا نہیں پاتی تو اماں نے آنٹی بدل دیں..پاپا اکثر پوچھتے,”کیا فائدہ ہے تمہارے اتنے میل ملاپ کا؟” اماں کہتی “میں بیٹی کی ماں ہوں, سوسائٹی میں اچھا نام میری ضرورت ہے” دادو کے گھر میں چار تایا اور تین چچا تھے, دو پھوپو بھی تھیں, کوئی حویلی نما سا گھر تھا,پھر ایک دن ہم خود ہی وہاں سے دوسرے گھر آگئے, وجہ تو کبھی مجھے نہیں پتہ چلی مگر مجھے دادو کا گھر بہت یاد آتا.. اماں کو کہیں جانا ہوتا تو میں کبھی اکیلی نہ ہوتی, کبھی تو اماں کے آنے کے بعد پتہ چلتا کہ اماں گئی ہوئی تھیں..ننھیال میں بھی ملنا جلنا کم ہی تھا, اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نہ ہونے کے برابر ہی ہوگیا, میری شادی پر بھی صرف میری سہیلیاں,اکا اکا رشتہ دار اور اماں کا سوشل سرکل تھا.. اور بس..
میری شادی ہوئی تو بختاور اسکول جاتی تھی, میں اپنی خوشی سے اسکا لنچ بنا دیا کرتی تھی, یونیفارم استری کردیا کرتی تھی, مجھے اس میں اپنی بہن نظر آتی تھی.. رفتہ رفتہ وہ واقعی میری بہن بن گئی, ابا امی, سب میری حوصلہ افزائی کرتے, غلطی ہوئی تو پیار سے سمجھا دیا.. میں برا کیوں مانتی, میں تو حقیقی رشتہ داریوں, محبت کے سلسلوں کو پسند کرتی تھی..
کچھ عرصے بعد…
آج زوبیہ کے بیٹے کا عقیقہ تھا, بختاور کی شادی ہونے والی تھی,انتہا سے زیادہ مصروفیت تھی, اماں کا فون آیا.. خیر خیریت کے بعد کہنے لگیں..
“عظمیٰ, کبھی تو چکر لگا لیا کرو, جب تک تمہارے پاپا نہیں آتے, میں اکیلی ہوتی ہوں”
“بس اماں! آجکل مصروفیت زیادہ ہے, بلکہ آج تو زیادہ ہی مصروف ہوں, اماں میں تائی بنی ہوں نا,ریان تو اتنا خوش ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں, نہیں تو مجھے ٹینشن تھی بختاور کی شادی کے بعد یہ بور ہوجائے گا,گھر میں بہت رونق ہے اماں ما شاء ﷲ,اچھا میں رکھتی ہوں فون,مجھے کھانے پکانے ہیں”
اماں یکدم لہجہ بدل کر بولیں, “اچھا تو اب کھانے بھی آپ پکائینگی دعوت کے, شادی کاڑڈز بھی آپ لکھینگی,سب سلسلے آپ ہی نبھائنگی….؟”
رشتوں سے کٹی, تنہائی کا گلہ کرتی آواز, عظمیٰ کو سمجھ آگیا تھا, اسکا بچپن, اکیلا کیوں گزرا, کیوں اسکے رشتہ دار,کبھی کبھی, کہیں کہیں, اجنبی ہو جاتے تھے..
“میں ہرے بھرے گھر میں رہتی ہوں ماں, کسی کی بہو, بیٹی,بیوی, بھابی,ماں,تائی.. سلسلے محبتوں کے ہوں یا نفرتوں کے, ہماری ہی ذات سے ہیں سلسلے سارے ماں, یہ سلسلے مجھے ہی نبھانے ہیں,ورنہ ریان بھی میری طرح…”
آگے کچھ بولا نہ گیا.. پیچھے سے کسی نے عظمیٰ کو آواز دی تھی.. “بھابی! آپکی پسند کی مٹھائی آگئ, چکھ لیں”
“آئی بختاور..! اچھا اماں !ﷲ حافظ”..
عظمیٰ نے آنکھ کے کونے سے آنسو صاف کیا اور فخر سے باہر چلی گئی..
_________________________
ہادیہ امین.
کراچی

Read Here complete Urdu Novels in PDF. Romantic Urdu Novels PDF download. Read online best collection of Urdu Books free of cost.

Request your favorite novel with us.

Also read Tum Se Tum Tak By Umm E Taifoor

Urdu Afsanay, Complete Novelt, Episodic Novels, Urdu Books and best reading Material in Urdu.

Leave a Reply