Afsaanay Afsana

Inteqam e Muhabbat by Irfana Shahnawaz Urdu Afsana

انتقامِ محبت

اردو افسانہ

عرفانہ شاہنواز

“قیان : پلیز میرے گھر والوں سے رشتہ ما نگيے نا”…..

“ستويرا یار ميں ابھی کیسے مانگوں، تم ابھی پڑھ رہی ہو..

تمہاری پڑھائی ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچی..

پھر کیا ہو گا یو نو…

” تمہارے گھر والے انکار کر دیں گے .. اور دوسری بات تم خود پہلے بات کرو اپنے گھر والوں سے..رائے معلوم کرو پھر اس کے مطابق فیصلہ کروں گا ..

ّّبھیجنا چاہیے یا نہیں .

… ّ. “قیان ..وٹ ..یہ تم کیسے کہ سکتے ہو نہ بھیجنے کا؟…… تم نے وعدے کیے تھے زندگی بھر ساتھ نبھانے کے اور وه محبت کے دعوے یاد نہیں تم کو… کچھ تو بولو ..کیا تم مجھ سے اب محبت نہیں کرتے ؟ دل بھر گیا ہے لگتا ہے ….

“ہاں ہو سکتا ہے اپنی زبان کو دانتوں کے نیچے دباۓ مشکل سے ہنسی کو روکے، اس کی بات کا جواب دیا … ……..

ستویرا اس وقت ہاسٹل کے پی.ای.سو میں کھڑی اپنے دل کے قریبی شخص کو محبت جیسے پاکیزگی رشتے کو ایک محرم رشتے میں پرودنے کےلیے تگ ودو کر رہی تھی….

“لیکن قیان اسدی کی باتیں اس کے دل کو چھلنی چھلنی کررہی تھی .. ،،،

اس کے نین اشکوں سے بھر آۓ. …..

ٹھا کر کے رسیور رکھ دیا ..

.اور لڑکھڑاتی ہوٸی اپنے کمرے کی چوکھٹ تک پہنچی ۔ایک دم سے چکر آۓ ۔۔دھرم سے گر گٸ ۔

” پاس سے گزرتے ہوۓ کچھ ہاسٹل کی طالبہ نے اسے گرے ہوۓ دیکھا ، اسے اٹھایا اور کمرے میں اس کی چارپاٸی تک چھوڑ گٸیں.ان میں س ایک لڑکی بولی۔۔

۔۔”ستویرا باجی کیا ہوا ہے ؟

بالکل خاموش تھی ۔۔اسے شاید خود نہیں معلوم تھا، اسے کے ساتھ کیا ہوا ۔۔۔۔بالکل ساکت تھی ۔۔۔

اس کی روح پہ زخم تھے کسی کو کیا بتاتی۔۔۔

۔۔اور وہ لڑکیاں اسے یوں خاموش دیکھے ۔۔۔ اوکے ہم چلتی۔۔وہ کندھے اچکا کر وہاں سے چل دی ۔۔

“اتنی دیر میں جاریہ عباسی دو چاۓ کے کپ ہاتھوں میں تھامے ، کمرے میں داخل ہوٸی ۔۔۔محترمہ یہ چاۓ کا کپ پکڑیے!

میں آپ سے ہوں ستویرا !!!

‘لیکن وہ مسلسل چھت کو گھورے جارہی تھی ۔۔ اگر چھت کو گھورنا بند کر دو ۔۔وقت ملے تو یہ چاۓ پی لینا !

۔۔یہ میز پر پڑی ہے ۔۔مجھے بازار جانا ۔۔جاریہ کی کسی بات کا ابھی تک جواب نہیں دیا اس نے ۔۔ یہ دونوں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں انگش لٹریچر کی طالبہ تھیں۔*

*************************************

“وہ ہاسٹل سے باہر نکلی، ہلکے ہلکے بادل آۓ ہوۓ تھے تیز ہوا کا شور اسے آگے بڑھنے نہیں دے رہا تھا ۔

اس کے پاس آکےایک ٹیکسی رکی، ایک ضعیف آدمی نےاسے بیٹا کہ کر پکارا ، بیٹا کدھر جانا ہے؟ ۔۔۔انکل مجھے صفإ مال جانا ہے ،کتنے پیسے لے گے؟ ۔۔

“بیٹی جو مناسب لگا دے دینا ۔۔

“وہ ٹیکسی میں بیٹھ چکی ۔۔انکل چلیں ۔۔۔۔

“وہ اب مال پہنچ چکی تھی… ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر جونہی واپس مڑی ۔۔۔

“پارکنگ اریا میں اسے قیان اسدی کسی لڑکی کے ساتھ کھڑ ے نظر آۓ ۔۔یہ تو قیان ہے ستویرا کا کزن ۔۔یہ کسی دوسری لڑکی کے ساتھ ۔۔حد ہے وہ اس کے عشق میں مری جارہی ہے ۔۔ یہ ستویرا کو دھوکا دے رہا ہے ۔۔اس نے فوراً اپنے پرس سے فون نکالا ان کی تصویر بنا لی ۔۔۔جاتی ہوں دیکھاتی ہوں اس کے محبوب کی اوقات اسے ۔۔۔وہ آگے بڑھ گٸی ۔۔

**************************** ****************

اتنا خوبصورت دن تھا ۔۔اب وہ ہاسٹل کے کمرے میں پہنچ چکی تھی ۔۔جاریہ کو اس کو اس طرح پڑا دیکھ کر، قیان کو کوس رہی تھی ۔۔ جاریہ ہاتھ میں پکڑی چیزیں اپنی چارپاٸی پر رکھی۔۔سر سے چادر کو اتار کر ایک طرف پھینکا ۔۔اس کی جانب بڑھی اور اس کے اوپر سے کمبل اتار کے ساٸیڈ پہ رکھا ۔۔۔ “کیا ہوا ہے یار ؟ ۔کیا روگ لگ گیاہے؟

۔۔۔قیان سے بات نہیں ہوٸی لگتا ہے ۔۔۔اس کا دل کیا اسے بتاۓ وہ تمہارا کزن کتنا بے ہودہ ہے ۔۔لیکن اس نے اس کی حالت دیکھ ۔۔

اس وقت اسے بتانا مناسب نہیں سمجھا۔۔

اٹھو جاٶشاباش ،اسے کال کر کے آٶ…

تبھی موڈ آف ہے۔۔کیا بنے گا یار تمہارا ،اس کے بنا اتنی اداس ۔۔

“اس نے سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر نظر ڈالی ۔۔شام کے چھ بج چکے تھے ۔۔

اس کو معلوم تھا قیان کی ڈیوٹی اس وقت نہیں ہوتی۔۔وہ جاریہ کے کہنے پر اٹھی اور پی۔ای ۔سو کال کرنے کےلیے گٸ۔اس نے رسیور اٹھا کر کان سے لگا کے نمبر ڈاٸل کرنا شروع کیا تھا ۔۔بیل پہ بیل جا رہی تھی ۔ مگر جواب نداردسہ ۔۔۔ویرا کو معلوم تھا اس وقت تو وہ میس پہنچ چکا ہو گا ۔۔وہ کالز کر کے زچ ہو گٸ ۔۔اس وقت اس کا جی چا رہا تھا ،کہ اس کے پاس گاڑی ہو اور وہ لمحے کی دیر کیے بنا پنڈی اسکے میس پہنچ جاۓ _۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حد ہی ہوگٸ مطلب۔۔۔۔۔پچھلے دنوں سے وہ اس سے ضد کر رہی تھی کہ دامن کوہ اور منال لے کر جاٸیں ۔۔مگر انہوں نے ویرا کو یہ کہہ کرٹال دیا، کہ ان کے پاس ٹاٸم نہیں، حالانکہ اسی دن وہ اسے خیابان سر سید میں نظر آگۓ تھے ۔۔”جب وہ اپنی کلاس فیلواریحہ کی برتھ ڈے میں شرکت کرنے کےلیے اپنی باقی دوستوں کے ساتھ وہاں گٸی تھی۔۔اس وقت تو وہ مشکل سے مگراس بات کو ہضم کر گٸ تھی ۔۔۔مگر ہوسٹل پہنچ کرلڑاٸی کی ۔

۔نجانے کیوں وہ کچھ عرصے سے بہت جزباتی ہو جاتی تھی ۔۔۔قیان کے حوالے سےہر معاملے میں پوزیس تھی، مگر اب جنونی ہو گٸی تھی۔۔۔

ان سے لڑنےکے بعد وہ اپنے ہوسٹل کے کمرے میں خود کو بند کر کے ساری رات روتی بھی رہی تھی ، اور باہر اسکی روم میٹ جاریہ عباسی بے چاری ساری رات باہر کارویڈور میں سردی کے باعث اگلے دن بخار میں پھنک رہی تھی

‘مگر یار تو اپنے عشق کا سوگ منانے میں لگے تھے – اور آج اپھر ایکبار وہ اسے نظرانداز کر رہے تھے ۔

جبکہ لالہ اسے کل لینے آرہے تھے، کیونکہ اس کا کل آخری پرچہ تھا ۔۔وہ جانے سے پہلے اس سے ملنا چاہتی تھی مگر کیپٹن قیان اسدی اسے مسلسل نظرانداز کر رہے تھے ۔

یہ بات سوچ کر اس کادورانِ خون گرنے لگا وہ بے دم سی ہو کے واپس کمرے میں آٸی ۔

“جاریہ نے اسے پکارا بات ہو گٸی ہے قیان سے؟

” نہیں ہوٸی بات اس نے کال نہیں اٹھاٸی۔۔۔

“ہمممم …شاید وہ ابھی اس لڑکی کے ساتھ ہو اس لیےکال پک نہیں کر رہا ..

.”اس نے حیرت زدہ نگاہوں سے جاریہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

کون سی لڑکی ؟

” اس نے اپنے سیل فون کی سکرین اس کے سامنے رکھ دی ۔۔وہ گھبرا گٸی یہ کیسے ہو سکتاہے ۔۔۔۔

“ستویرا یہ بات دماغ میں بیٹھا لو، یہ تمہیں دھوکا دے رہا ہے ۔۔۔

” اس نے روتےہوۓ کہا جاریہ پلیز یار چپ کر جاٶ۔۔ میرا قیان ایسا نہیں ہے ۔۔

“اف ستویرا یہ تصویر میں نہیں دیکھا۔۔۔ اتنا کلوز کھڑا ہے اس لڑکی کے ساتھ ۔۔

“”۔جاریہ مجھے اس تصویر پر یقین نہیں آرہا ہے، جب تک اس سے مل نہ لوں۔۔۔۔دو منٹ کےلیے آج فون دو اپنا پلیز میں اس کو کال کر لوں ۔۔۔۔۔

“جاریہ نے اسے اپنا فون پکڑا دیا ،کیوں کے اس کا رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔بیل جارہی تھی، اس کی دھڑکنیں بے تر تیب ہورہی تھی ۔

۔دوسری طر ف سے پوچھا گیا کون؟

قیان میں ستویرا ہوں۔ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں، پلیز ملنا بہت ضروری ہے۔ اب کوٸی بہانا مت بنانا ۔۔

پر کیوں؟ ۔

کہا ہے نا ضروری کام ہے!

“ٹھیک ہے ۔۔۔

“کل میرے یونی کے باہر آجانا مجھے لینے ۔۔۔۔یہ کہ کر فون بند کر دیا آجکی رات اس کےلیے سلگتے انگاروں کی طرح تھی ***********************************

“یار قیان حد کرتا ہے، تو بھی کب سے بلا رہا ہوں یہ برگر کھا لے ۔۔۔حمزہ نے آخر تنگ آ کر اس مٹی کے مادھو کو پشت پہ دھپ لگا دی تو قیان چونک اٹھا ۔۔۔

” کن سوچوں میں گم میرا یار۔۔دیکھ تیرا یہ انداز بتا رہا ہے، کہ تیری ستویرا بھابھی سے لڑاٸی ہوٸی ہے ۔۔۔

“نہیں یارایسا کچھ نہیں ہے ۔۔بس ماں کی کال آٸی تھی ۔۔وہ میری اور ستویرا کی شادی کی بات کر رہی تھی

“واہ جی واہ ۔۔۔گھر والوں نے خود ہی فیصلہ کر لیا ۔۔۔بڑی قسمت پاٸی ہے یار ۔۔جو چاہا وہ ملنے جا رہا

“خاک قسمت پاٸی ۔۔۔

“کیا تو ایسا نہیں چاہتا جیسا سب چاہتے ہیں ۔۔اب کی بارحمزہ قدرے نرم لہجے میں گویا ہوا۔۔

۔۔۔

“ہاں میں نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔پھر کیوں دماغ کھا رہے ہو، جاٶ ۔۔مجھے فی الحال اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔۔۔قیان راکنگ چیڑ سےکھڑاہو گیا۔……

“قیان یو نوز کہ اس سب کے بعد کیاہوگا۔۔اکلوتی بہن ہے ستویرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی سات بھا ٸیوں کی ۔۔۔۔پھر تیری سگی پھپھو کی بیٹی ۔۔۔تو چاہتا ہے کہ تیرے ابا اپنی بہن کے سامنے شرمندہ ہوں..

حمزہ اس لمحے قیان کو اپنے خاندان کا ایجنٹ لگا۔۔۔دوست میرے ہو اور باتیں لوگوں کے حق میں۔۔۔۔تو مجھے نہیں سمجھ پایا ۔۔۔۔یار ماریہ سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں

تم نے ستویرا کا سوچا کیا کہاٶ گے اسے ۔۔۔۔

اس سے کل آخری دفعہ ملنے جا رہا ہوں ۔۔۔

اوکے یار جو دل کرتا ہے کرو ۔۔۔*************************************

جلدی جلدی اس نے پیپر حل کر کے ممتحن کے حوالے کر کے یونی سے باہر کی جانب لپکی۔۔ ۔۔باہر پراڈو میں ایک ہینڈ سم لڑکا اوراس کی ساتھ والی سیٹ پہ ایک آرمی ڈریس میں لڑکی بیٹھی تھی۔۔۔۔ستویرا گاڑھی کے قریب جا کر گاڑھی شیشے پہ ہلکی ہلکی سی ٹھوکر لگاٸی ۔۔۔

“قیان نے غصے سے شیشہ نیچے کیا، کیا بد تمیزی ہے ۔۔کتنی جاہل ہو تم ۔۔۔

“ہاں ٹھیک میں جاہل ۔۔اچھا ان متحرمہ سے کہیے پچھلی سیٹ پہ بیٹھ جاٸیں ۔۔میں نے کچھ کہا تو پھر جاہل کہاٶ گے ۔۔

قیان نےمسکراتے ہوۓ کہا ،یہ پیچھے نہیں بیٹھیں گی تم بیٹھ جاٶ

“کیا مطلب اس سیٹ پہ صرف میراحق ہے ۔۔

قیان نے جواب دیا میں کسی قسم اب تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔۔۔میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا ۔۔۔میرا آفیسرز میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے اُدھر تم سوٹ ایبل نہیں ہو۔۔اور ہاں میرے گھر والےمیری توسنے گے نہیں تم انکار کر دینا خود ہی ۔۔۔۔۔۔میری تمہارے ساتھ آخری ملا قات ہے ۔۔۔۔

مسٹر قیان اسدی اس نے آنسو پہ ضبط کرکے کہا ۔۔تم کسی دوسری لڑکی کےلیے مجھے چھوڑرہے ہو۔۔۔۔۔

قصور کیا ہے میرا؟

یاد کرو اس وقت کو جب تم نے میری منتیں کی تھی محبت کا یقین کروانے کےلیے ۔۔۔میں نے یقین نہیں کیا تھا تو تم نے اس رب کی ذات کی جھوٹی قسم اٹھاٸی تھی ۔۔۔ڈرو اس وقت سے جب تم پہ قہر نازل ہو جاٸے ۔۔۔کچھ تو خدا کا خوف کرو ۔۔۔میں تمہاری منتیں تو نہیں کی تھی کہ مجھ سے محبت کے جھوٹے دعوے کرو ۔۔۔

۔۔

وہ ادھر ہی کھڑی رہ گٸی۔۔۔۔۔۔اس نے گاڑی آگے بڑھا لی ۔۔۔۔۔۔”وہ راستے میں ماریہ سے ۔۔۔ہاں باٸی ماریہ پھر اب مجھ سے شادی کب کر رہی ہو ۔۔۔****

“شادی اور تم سے دماغ تو سیٹ ہے تمہارا ۔۔۔۔میں تم سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔جو اپنی فیملی کے رشتوں کی قدر نہیں کرتا ۔۔وہ میری کیا کرے گا ۔۔۔تم نے آج اس کو چھوڑا کل کسی اور لڑکی کےلیے مجھے چھوڑ سکتے ۔۔۔تم جیسے لڑکے ۔۔۔۔محبت کےلیے نہیں بنے ۔۔۔صرف وقت گزارنے کےلیے بنے ۔۔۔اینی وے گاڑی ساٸیڈ پہ روکو ۔۔۔اوکے اللّہ حافظ کہ وہ گاڑی سے اتر کر چل دی ۔

۔۔غصےسے لال ہو گیا ۔اتنی دیر میں فون کی رنگ بجی ۔۔۔اس نے کال پک کی ۔۔۔بیٹا کل شام کو تمہارا نکاح ہے ستویرا کے ساتھ ۔۔اوکے بابا ۔۔۔۔اس نے فون بند کیا ۔۔۔۔شکر ہے انکار نہیں کیاتھا ۔۔۔۔

**************************************

موضع کڑاہی کے آسمان پر اڑتے پرندے وہاں کے کھیت ان کی حویلی کے اصطبل میں کھڑے گھوڑے ۔۔۔۔بیٹھک میں دیواروں پر سجی ہوٸی بندوقیں ۔۔۔۔اور حویلی میں چہل پہل تھی،کام والے لوگ آجارہے تھے ۔۔تیاریاں ہورہی تھی..وہ سٹیج پر بیٹھے بے حد حیسن لگ رہی تھی ۔۔۔وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی اسے دیکھنے پہ مجبور تھا اس کا دل کھینچا چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔وہ یک دم سٹیج پر کھڑی ہو گٸی ۔۔خواتین و حضرات میں مسٹر قیان اسدی سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ۔۔۔سب مہمان اس کی جانب متوجہ ہوۓ ۔۔۔قیان دو دن پہلے میری منت سماجت کرنے گٸے تھے کہ میں شادی سے انکار کروں آپ کو پتا ہے یہ اسدی خاندان چشم و چراغ دراصل کسی اور میں انوالو ہیں میں اب ان جیسے شخص سے تو شادی نہیں کر سکتی ۔۔کہ پھر ساری زندگی چھن جانے کا خطرہ ہو ۔۔ ان سے کہتی ہوں پلیز یہاں سے چلے جاٸیے ۔۔۔

“کیا بول رہی ہو۔۔۔۔ہوش میں تو ۔۔۔۔۔۔

مسٹر قیان آواز نیچے ۔۔۔اب میں وہ ستویرا نہیں جو تمہارے پیچھے پاگل تھی ۔۔۔۔۔

ایسے مت بولو ۔۔میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔بس کرو قیان ۔۔۔یہ محبت کی باتیں تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگتی ۔۔۔مجھے نہ تم چاہیے ۔۔۔نہ جھوٹی محبت ۔۔۔اور اب شکل مت دکھانا دفعہ ہو جاٶ یہاں سے ۔۔۔۔۔۔”

“تمہارے ساتھ کوٸی شادی نہیں کرے گا ۔ستویرا سوچ لو۔۔۔

“نہ کرے کوٸی بے شک ۔۔۔کم از کم تم جیسے منافق شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزرنے پڑے گی ۔۔۔۔۔۔”””

“۔حمزہ جو قیان کے پیچھے کھڑا تھا، وہ سٹیج کی جانب بڑھا ۔،اس نے ستویرا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔

کیوں نہیں کو ٸی کرے گا ۔۔میں کروں گا اس جیسی معصوم لڑکی ہو تو کوٸی بھی کر سکتا ہے

“قیان ۔۔ستویرا سے اتنی نفرت ہے جو میرے سامنے کسی اور کا ہاتھ تھام لوگی ۔۔۔

ہاں میں ستویرا اسدی ۔۔۔کوٸی عام لڑکی نہیں ۔۔محبت کے بدلے محبت ۔۔نفرت کے بدلے نفرت آج آخری ملاقات ہے تمہیں ڈھنگ سکھایا ہے کہ اب کسی عورت کے دل میں محبت جگا کے ،اسکے ساتھ آخری ملاقا ت مت کرنا ویسی جیسے مجھ سے کی تھی کیونکہ کے عورت محبت کرنے پہ آٸے خود کو قربان کر دیتی ہے اور نفرت کرنے پہ آۓ اگلے کو قربان کر دیتی ہے ۔۔۔آخری ملاقات کے بدلے آخری ملاقات ۔

۔وہ ملاقات تمہارے طرف سے تھی آج میری طرف سے ۔۔۔

۔۔۔**********************

ستویرا حمزہ کا ہاتھ تھامے سٹیج سے اترتے ہوٸے آگے بڑھ گٸی۔۔

ختم شد

۔

۔

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *