Afsaanay Afsana

Itni Achi Meri Qismat Kia by Sara Khan Urdu Afsana

اتنی اچھی میری قسمت کیا

اردو افسانہ

سارہ خان

دسمبر کی ایک اداس شام کو چائے کا کپ ہاتھوں میں

لیے وہ آج بھی دور کہیں ماضی میں کھوئی ہوئی تھی.

شاویز تم میری بات نہیں سمجھ رہے…..پلیز میں مرجاٶں گئی….تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟؟؟

صوفیہ نے روتے ہوئے اسکے ہاتھوں کو پکڑا.

افو ہو…..صوفی…کم آن یہ رونا دھونا بند کرو….بریک اپ ہی تو کر رہا ہوں“.

شاویز کوفت زدہ ہوتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو آزاد کرواتا ہے.

شاویز پلیز …تم….اے…سا….کیو…ں…کر…رہے….

صوفیہ نے ہچکیوں کے درمیان پوچھا.

کیا کِیا میں نے ہاں؟؟؟

چوری کی. ڈاکا ڈالا بولو کیا کِیا میں نے؟؟

بریک اپ ہی تو رہا ہوں“.

شاویز نے چیختے ہوئے سوال کیا.

شاویز پلیز…..ایسا نہ کرو“.

صوفیہ نے بچوں کی طرح منت بھرے انداز میں کہا.

تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے نا پھر یوں؟؟

کرتا تھاااا……

شاویز نے ”تھا“ کو لمبا کھنچتے ہوئے کہا.

نہیں شاویز تم…..ایسے تو نہیں تھے“.

صوفیہ نے نفی میں گردن کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے شاویز کے ہاتھوں کو زور سے دبایا.

ڈیئر صوفی تم آج ایک بات اچھی سے جان لو میں تم

سے کوئی محبت وحبت نہیں کرتا تھا میں تو بس

تمہارے اس غرور کو توڑنا چاہتا تھا جو تم اپنے ساتھ

لیے پھیرتی تھی….بہت غرور تھا نا تم کو اپنے حسن پر اپنے اس دو ٹکے کردار پر…..مجھے بس وہی توڑنا

تھا…..سمجھی….!!!!

شاویز نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے صوفیہ کے ہاتھوں کو زور سے جھٹکتے ہوئے اپنا ہاتھ آزاد کروایا اور واپس موڑ جاتا ہے ایک نئے شکار کی تلاش میں…

وہ ایک بھیڑیا تھا….ہاں بھیڑیا ہی تو تھا…بس فرق یہ تھا کہ وہ ایک انسان نما بھیڑیا تھا….

ایک ایسا بھیڑیا جو لوگوں کی روح کو نوچ نوچ کر کھاتے ہیں.

شاویز نہی_______ں

صوفیہ روتے ہوئے فرش پر بیٹھ جاتی ہے.

~~~~~~~

٤سال بعد

صوفیہ!!!!

یہاں کیا کر رہی ہو؟؟

اوہ…. آج بھی شال نہیں لیا…..اتنی ہوائیں چل رہیں ہیں“.

چلو اٹھو یہاں سے ٹھنڈ لگ جائے گی“.

ولی نے صوفیہ کو کندھے سے اٹھاتے ہوئے اسکی لاپرواہی پر پیار سے ڈانٹا.

جی جی…..چلیں“.

صوفیہ ولی کی آواز سے ایک دم سے چونک سی جاتی ہے.

تکلیف دہ ماضی سے حال میں واپس آتے ہوئے ولی کو دیکھنے لگتی ہے جو اسے کسی قیمتی شئے کی طرح سمیٹے ہوئے تھا.

چار سال پہلے ولی اسکی زندگی میں آیا تھا…..جس نے صوفیہ کو مقصدِحیات دی…..

نہیں تو شاویز کے جانے کے بعد صوفیہ پوری طرح سے ٹوٹ چکی تھی …..مرد ذات سے بھروسہ اٹھ چکا تھا.

صوفیہ کو آج بھی یاد ہے جب لندن سے پہلی بار ولی اسکے گھر آیا تھا اور ولی نے صوفیہ کو دیکھتے ہی پسند کر لیا تھا.

مگر صوفیہ نے دوٹوک انداز میں منع کر دیا ….مگر پھر اپنے بیمار بابا کے جوڑے ہوئے ہاتھ اور ماں کے بہتے ہوئے آنسوٶں کو دیکھتے ہوئے اسنے خاموشی اختیار کرلی.

ولی اسکی ممانی کا چھوٹا اور اکلوتا بھائی تھا.

صائمہ ممانی صوفیہ کو بہت پسند کرتی تھی. انہوں نے ولی کو لندن سے واپس بلایا صرف اورصرف صوفیہ کی زندگی کو پھر سے آباد کرنے کے لیے جس کو ایک بے غیرت مرد نے برباد کر دی تھی…..

انہوں نےولی کو صوفیہ پر بیتی ہوئی پوری داستان بتانے کے بعد فیصلہ ولی پر چھوڑ دیا آیا وہ کسی معصوم انسان کی زندگی آباد کرئے یا پھر اسی طرح تڑپتا ہوا چھوڑ جائے شاویز کی طرح….

ولی نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے صوفیہ سے شادی کا فیصلہ کیا.

شادی کے شروع دنوں میں صوفیہ ولی سے کچھ خاص باتیں نہیں کرتی تھی.

مگر پھر ولی کی بے پہنا محبت اور اپنایت دیکھتے ہوئے اسنے ولی کی محبت کے آگے اپنا سر جھکا لیا.

ولی ایک اچھا اور پیارا ہمسفر ثابت ہوا اسنے صوفیہ کو بتایا کہ دنیا میں اب بھی اچھے لوگ موجود ہیں کسی ایک کے برے ہونے سے پوری دنیا بری نہیں ہوتی ….

وہ اگر آج بھی شاویز کو یاد کرتی تھی تو انکی وہ آخری ملاقات جو اسے شاویز سے اور بھی زیادہ نفرت کروا دیتی تھی….

تھینک یو“…

صوفیہ نے ہر بار کی طرح آج بھی ولی کا شکریہ ادا کیا جس نے اسکو ایک نئی زندگی دی، زندہ رہنے کی وجہ دی. اس اذیت بھرے لمحوں سے نکالا….جو ایک ناسور بنا ہوا تھا.

آج انکا ایک بہت ہی پیارا بیٹا تھا جس کو دیکھ کر صوفیہ جیتی تھی.

پاگل ہو پوری چلو وصی کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہے“.

ولی نے اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاکر ہنستے ہوئے

اپنے دو سالہ بیٹے کا نام لیا.

صوفیہ ولی کے ساتھی اندر چلی جاتی ہے….اپنے رب کا شکریہ بھی تو ادا کرنا تھا جس نے اسے ولی جسے خاص بندے کو اسکے لیے چنا تھا….اسے آج تک یہ یقین نہیں ہوتا تھا کہ اسکی قسمت بھی اتنی اچھی ہوسکتی ہے…..

لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ اللہ کبھی بھی اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا….

وہ رب ہے جو ہمیں ہماری ماٶوں سے بھی کہیں زیادہ ہم سے محبت کرتا ہےتو پھر ہم کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہے.

~ ختم شد ~

۔

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *