Afsaanay Afsana

Junoon e Muhabbat Kamil Nahi By Kanwal Ejaz Urdu Afsana

جنون محبت کامل نہیں

اردو افسانہ

کنول اعجاز

رات کی تاریکی میں کھڑکی کے سامنے کھڑی وہ بھی اسی رات کا ہی حصہ لگ رہی تھی…. کھڑکی سے آتی سرد ہواؤں سے بےبہرہ آنکھوں کو آسمان پر ٹکاۓ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی….اس کی آنکھوں کو دیکھ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے صدیوں سے ویرانیوں نے وہاں اپنا بسیرا کیا ہو…چہرے پر کرب سجاۓ آج پھر وہ ماضی میں کھوئی ہوئی تھی….

“احمر میں کب سے تمہیں کال کر رہی تھی… تم میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے….”

چہرے پر پریشانی سجاۓ موبائل کان سے لگاۓ وہ پریشان لہجے میں بولی تھی….

“یار لائبہ بس میں کچھ مصروف تھا…. اسی لیے تمہاری کال نہیں اٹھا سکا…. “

چہرے پر بیزاریت مگر لہجے میں چاشنی سموۓ وہ بولا تھا….

“تم جانتے ہو نا میں پریشان ہو جاتی ہوں…. “

وہ نم ہار مانتے لہجے میں بولی تھی….. اس کی شدت کا اندازہ اس کے لہجے سے ہو رہا تھا…..جسے احمر نے بھی محسوس کیا تھا….. لیکن اس کے لیے یہ سب تفریح کا ساماں تھا….. وہ بہت جلد کسی لڑکی سے بیزار ہو جاتا تھا….. اب لائبہ سے وہ سب ختم کرنا چاہتا تھا…. ابھی تک وہ کتنے ہی دلوں کو توڑ چکا تھا….. اسے کبھی احساس نہیں ہوا تھا…

“کیا ہوا احمر… تم کچھ بول کیوں نہیں رہے…تم ٹھیک ہو نا…. “

اس کے لہجے میں پریشانی ہی پریشانی تھی…..

“ہاں…. نہیں… بس کچھ مصروف ہوں…. کل چار بجے کافی شاپ پہ ملتے ہیں پھر بات کرتے ہیں…. “

اس کا جواب سنے بغیر وہ کال کاٹ گیا تھا…..

اس کے یوں کال کاٹنے پر لائبہ نے حیرانی سے موبائل کو دیکھا تھا….کافی دنوں سے اسے احمر کا رویہ بہت اجنبی سا لگ رہا تھا…..کتنی ہی بار وہ آنسو بہا چکی تھی….

بہت دنوں سے احمر کا رویہ اس سے بہت عجیب ہو گیا تھا…..وہ جو اس سے گھنٹوں باتیں کرتا تھا….. اب مشکل سے چند پل بات کرتا…..اس کی دوست اسے کتنی بار کہہ چکی تھی کہ وہ بس اس کے احساسات سے کھیل رہا ہے… مگر اس کا دل یہ بات مانتا ہی نہیں تھا…. خود سے لڑتے آنسو بہاتے وہ سو گئی تھی….

کالے رنگ کی بہت خوبصورت فراک جس کے دامن پر کالے ہی دہاگے سے بہت خوبصورت کام ہوا ہوا تھا…. ہلکا سا میک اپ کیے…. وہ چار بجے ہی وہاں پہنچ گئی تھی..

اسے آدھا گھنٹہ انتظار کروانے کے بعد وہ نیلی جینز پر وائٹ شرٹ پہنے اسے آتا دکھائی دیا تھا…. وہ جو اس کے یوں پہلی بار ایسے اسے اتنا انتظار کروانے پر آنکھوں میں آنسو سجا بیٹھی تھی… اسے دیکھتے ہی انہیں …باہر آنے سے روک گی تھی….

“احمر تم اتنی لیٹ کیوں آۓ ہو… “

اس کے بیٹھتے ہی وہ نروٹے پن سے بولی تھی….

“لائبہ میں مجھے تم سے بات کرنی ہے…. “

اس کی بات کو نظرانداز کرتے وہ چہرے پر اجنبیت سجاۓ بولا تھا….

“کیا بات ہے احمر….. “

اس کے اجنبی چہرے کو دیکھتی وہ پریشان لہجہ میں بولی تھی…..

“میرے گھر والوں نے میری منگنی میری کزن سے کر دی ہے….. اب میں اور تمہارے ساتھ رلیشن میں نہیں رہ سکتا…”

اس کے تاریک پڑتے چہرے کو دیکھے بغیر وہ اپنی بات مکمل کر گیا تھا….

“نہیں احمر تم…. ای.. سے نہیں کر سکتے… تم جانتے ہو نا میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں…. اور تم بھی تو مجھ سے محبت کرتے ہو نا……..تم اپنے گھر والوں سے میرے لیے بات کرو نا…. “

وہ روتے ہوۓ منت کرتے لہجے میں بولی تھی..

“لائبہ میں تم سے کوئی محبت نہیں کرتا…اور تم سے کس نے کہا کہ میں تمہارے لیے اپنے گھر والوں کے خلاف جاؤں گا….. ویسے بھی…. جو لڑکی میرے ساتھ افیر چلا سکتی ہے… اس کے اور پتہ نہیں کتنوں کے ساتھ افیر ہوں گے…. “

سفاکیت سے کہتا وہ اسے گہرائیوں میں پھینک گیا تھا..

“ت… مم…. میرے کردار پر الزام لگا رہے ہو…. تم جانتے ہو کہ تم وہ واحد شخص ہو جس سے میں نے محبت کی…… “

نم لہجے میں کہتی وہ اسے صفائی دے رہی تھی….

“سوری…… تم جیسی کریکٹر لیس لڑکی کے ساتھ میں کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا…….. “

سخت لہجے میں کہتا اسے وہیں چھوڑ گیا تھا…..

احمر کی بات اسے طماچہ کی طرح محسوس ہوئی تھی

وہ ابھی تک سن سی بیٹھی تھی……اس نے ساکت نظروں سے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا….

وہ جو اس سے محبت کا دعویدار تھا….آج اسے ہی کریکٹر لیس کہہ کر اس کے دل کو ریزہ ریزہ کر کے چھوڑ گیا تھا……

اپنے ٹوٹے دل کو سنمبھالتی وہ مشکل سے گھر پہنچی تھی……

وہ پوری رات اس کی روتے ہوۓ گزری تھی…. بار بار احمر کے الفاظ اسے نئی اذیت دیتے تھے…. وہ پل پل مر رہی تھی……..

ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﮐﮩﻨﺎ

ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ

ﺳُﻨﺎﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ

ﻓﻘﻂ ﮐﭽﮫ ﮐﭗ ﮐﭙﺎﺗﮯ ﻟﻔﻆ

ﺟﻮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﭨﮩﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ

ﺍُﺑﮭﺮﺗﯽ ﮈﻭﺑﺘﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ

ﺍُﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ

ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﭘﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮ

ﺟﺲ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ

ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ

ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﺍُﺳﯽ ﮐو ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﮐﮩﻨﺎ

ﺟﺴﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﮨﻮ

ﺑﮍﮮ ﮨﯽ ﻣﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ

ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮ

ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

ﺍُﺳﯽ ﮐﻮ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﮐﮩﻨﺎ ۔۔۔۔۔۔!

“لائبہ بیٹے….. وہاں کیا کر رہی ہو…. سردی لگ جاۓ گی ….”

اس سے پہلے کہ وہ اپنے اذیت بھرے لمحے کو سوچتی اس کی امی کی آواز اسے سوچوں سے کھنچ لائی تھی….

“امی مجھے کچھ نہیں ہو گا.. آپ چلیں… میں بس آ رہی ہوں…. “

اپنے آنسوں کو چھپاتے اس نے مسکراتے لہجے میں کہا تھا….

“جلدی آ جانا بیٹا…. “

اتنا کہتے وہ کمرے سے چلی گئیں تھیں…

ان کے جاتے وہ تلخی سے مسکرا دی تھی…

آج بھی وہ اسے بددعا نہیں دے پاتی تھی……

کتنا آسان ہوتا ہے نا لڑکوں کے لیے…. کسی بھی لڑکی کے دل سے کھیلنا….. ان کے نازک دل کو توڑنے سے پہلے وہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر اللہ نے انہیں بھی بیٹی سے نواز دیا تو….. جو وہ کسی کی بیٹیوں کا دل دکھاتے ہیں….. اس کا مکافات ان کی اپنی بیٹیوں کو ادا کرنا پڑے گا….بس دعا ہے کہ اللہ سب کو اچھے اعمال کرنے کی توفیق دیں….

آمین

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *