Khud Hi Ko Ker Buland Itna by Mehreen Saleem

خود ہی کو کر بلند اتنا 

مہرین سلیم

Khud Hi Ko Ker Buland Itna

Khud Hi Ko Ker Buland Itna

از مہرین سلیم

 

زندگی کے مقصد کو ظاہر کرتی اک مختصر کہانی !!

خود ہی کو کر بلند اتنا:
از:مہرین سلیم

قدرے اکتائے ہوئے لہجے میں وہ گویا ہوا: “مجھے نہیں کرنی مزید یہ نوکری بہت خواری ہے اس میں نہیں ہوتا مجھ سے اب”۔
” واٹ!! کیا کہہ رہے ہو تم ” ماما کے پیروں سے تو گویا زمیں کھسک گئ ۔
“اتنی محنت سے تمہیں پڑھایا لکھایا اس قابل بنایا کہ اب تم اپنی زمہ داری خود اٹھاو ۔
لیکن یہ کیا نوکری نہیں کروگے ؟ تو کیا گھر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھ جاوگےعورتوں کی طرح ۔۔۔۔” وہ برہمی لہجے میں گویا ہوئیں
“لیکن ماما !! اسکے لیے صبح جلدی اٹھنا پڑتا ہے جو مجھ سے نہیں ہوتا پھر آفس جا کر بھی اتنا کام کرنا پڑتا ہے! ” اس نے اپنی بیزاریت کا اظہار کیا۔
ماما قدرے غصے سے گویا ہوئیں :
“کیا تمہارے آفس روم میں ائیر کنڈیشنر نہیں لگا ہوا ؟ ”
“جی بلکل لگا ہوا ہے”۔۔
“کیا تمہیں لنچ بریک نہیں ملتا ؟”
“جی بلکل ملتا ہے”۔۔
“کیا تمہارے لیے اسسٹنٹ نہیں رکھا گیا جو تمہارا ہاتھ بٹائے؟۔۔”
” جی بلکل رکھا گیا ہے” اس نے باری باری سارے جواب دیے۔۔
“پھر کیوں !!۔۔۔تمہاری ناشکری ختم ہونے کو نہیں آرہی۔۔ ”
“بیٹا ! عظمتوں کو پانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔۔۔ شاید اپنی جان سے بھی زیادہ
ان لوگوں کو ہی دیکھ لو جنکے پاس کچھ نہیں ہے تمہاری طرح نہ گھر گاڑی پیسہ کسطرح سے گزارہ کرتے ہیں وہ!!! لیکن خیر تم نہیں سمجھوگے . مرضی تمہاری جو کرنا ہے کرتے رہو۔ ”
مما نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن خاموش ہوگئیں۔
وہ کافی شرمندہ ہوا تھا اس نے اپنی ماما کو شاید ناراض کردیا تھا اب دل بے چین ہوگیا تھا لیکن کیا کرتا سمجھ نہیں آرہا تھا۔
صبح جلدی اٹھنے سے اسے اک کوفت سی ہوتی تھی۔ انہیں ملے جلے تاثرات میں کھانا کھائے بغیر فیس بک چلاتے ناجانے کب اسکی آنکھ لگ گئ ۔معمول کے مطابق صبح تیار ہوکر آفس کے لیے روانہ ہوا ۔۔۔لیکن خلاف توقع آج امی کچن میں نہیں دکھی تھیں ۔۔۔شاید وہ ناراض تھی ۔۔۔۔یا پھر پتا نہیں کیا!۔
امی اس حد تک ناراض ہوجائینگی مجھے اندازہ نہیں تھا !
آخر ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا میں نے۔۔۔خیر اسنے جمائی روکتے روکتے ۔۔۔۔اپنی کار اسٹارٹ کی اور روانہ ہوگیا۔۔ صبح کے وقت ٹریفک تو نہیں تھا لیکن سگنل کی وجہ سے اسے رکنا پڑا ۔۔۔
بہت سے بچے اسکول جارہے تھے اسی دوران اس نے دیکھا ایک طرف ایک بچہ اخبار بیچ رہا تھا اورایک گندے سے کپڑے پہنےبھیک مانگ رہاتھا ایک بچی پھول لے کر اسکی گاڑی کے قریب آئ ۔۔۔۔۔بھائی یہ لے لو اللہ تمہیں بہت دےگا-
کل سے کچھ نہیں کھایا ۔
اسے یاد آیا کہ کل رات کا کھانا تو اس نے خود بھی نہیں کھایا تھا حالانکہ ڈائننگ ٹیبل ساری نعمتوں سے سجا ہوا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنی ضد میں آکر نہیں کھایا۔
اس نے اس بچی کو کچھ پیسے دیے شاید ترس کھا کر پہلی مرتبہ کسی کو کچھ دیا تھا ورنہ وہ اگنور کرکے نکل جاتا تھا۔
اتنے میں سگنل کھل گیا لیکن اس کے ذہن پر سوالیہ نشان چھوڑگیا کہ کیا ان بچوں کا حق نہیں معیاری زندگی گزارنے کا ؟؟ ۔ لیکن میں کیا کرسکتا ہوں اسمیں خیر! وہ حکومت کو کوستا آگے نکل گیا ۔
لیکن وہ بچہ اسکے ذہن میں گھوم۔رہا تھا اور کل رات کی ساری باتیں ۔
آفس پہنچ کر جب گاڑی سے اترنے لگا تو اچانک اک نظر اپنے سراپے پہ پڑی۔۔۔۔سوٹڈ بوٹڈ انتہائ اعلی کپڑوں میں وہ ملبوس تھا۔۔۔۔ اور وہ بچہ اف !!دیکھ کر ہی کچھ ہورہا تھا۔۔۔۔ اسے ماما کی باتیں یاد آئیں جب انہوں نے کہا تھا کہ تم نہیں سمجھوگے لیکن اب ہاں شاید اب وہ کچھ کچھ سمجھنے لگا تھا!! ۔ انہیں خیالوں میں گم وہ آفس کے سنسان کمرے میں بیٹھا اے سی بھی اوف تھا لیکن اسے پرواہ نہ تھی ۔ ابھی 9 بجنے میں کافی وقت تھا ۔
اسکا دل بوجھل اور روح مضطرب ہوگئ تھی۔۔۔۔
آخر کو بےچین دل کے ساتھ۔۔۔!!! اس نے اس وقت اپنے آپ سے سوال کیا کہ؛
“میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟؟”

جب کبھی بچپن میں مائے ایم ان لائف کے موضوع پر قلم اٹھایا بس یہی لکھا کہ “مائے ایم از ٹو بکم آ بزنس مین “۔۔۔۔۔جب اس نے اپنی23 سالہ زندگی کا جائزہ لیا۔
تو معلوم ہوا کہ آج تک بس وہ اپنے لیے ہی جیتا تھا۔
” کبھی کسی کے لیے کچھ بھی تو نہیں کیا ۔
بس ایک ایم لے کر زندگی گزر رہی تھی کہ بزنس مین بننا ہے اپنا گھر ہو گاڑی ہو ۔۔۔سب تو ہے میرے پاس لیکن بھر بھی خالی خالی سا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ہوکر بھی کچھ نہیں ہے۔”
“مجھے تو بلندی چاہیئے تھی مطلب اعلی مقام وہ بھی مل چکا ہے”۔۔۔ لیکن! ،یہ اضطراب کیوں نہیں ختم ہورہا کل ماما بھی اتنی سی بات پر ناراض ہوگئیں ۔”

اسے یہ ساری باتیں پریشان کر رہی تھیں ۔۔۔۔اس نے بزنس کی کتابیں تو بہت پڑھی تھی لیکن زندگی کی کتاب اب اسکے سامنے کھلی تھی۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ ایک صاحب جو اسکے کافی اچھے استاد بھی رہ چکے تھے جب کبھی ضرورت پڑتی وہ ان سے گائیڈ لیتا تھا جب وہ اسکے کمرے کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے کہیں گم ہے۔
وہ ناک کرکے اندر آئے پوچھنے لگے ” خیریت تو ہے نا طبیعت ٹھیک ہے آپکی؟؟ ”
“جی جی ٹھیک ہے بس ذرا سر میں درد ہے۔” اس نے اپنے تاثرات نارمل کرنے کی کوشش کی ۔

“اچھا! تو آپ ٹیبلٹ لے لیں پھر ” ۔ سر نے مشورہ دیا ۔
“جی بہتر ”
اس نے مدھم انداز میں کہا:
“بیٹا کیا واقعی آپکے سر میں درد ہے؟ یا کوئ اور بات ہے؟؟ آپ ذرا الجھے الجھے لگ رہے ہیں ۔ اگر کوئ مسئلہ ہے تو ضرور بتائیں ہم مل کر حل تلاش کرینگے ”
سر نے اسکے ماتھے پر پڑے پریشانی کے بل تک لیے تھے۔
وہ کچھ اور کہتے اس سے پہلے ہی اس نے ایک سوال کر ڈالا ۔۔۔سر ۔۔۔”ایک بات پوچھوں آپ سے؟ “۔۔۔
“جی شیور۔ ” سر نے اثبات میں سر ہلایا۔
“سر۔۔۔۔وہ مجھے یہ پوچھنا تھا کہ”۔۔۔ وہ گھبراہٹ کا شکار ہوچکا تھا !
“جی پوچھیں گھبرائیں مت”۔۔۔ سر نے کہا ۔
سر!! ۔۔۔ ہماری زندگی کامقصد کیا ہے؟ اس نے اپنا سوال پیش کیا!۔
وہ کافی حیران ہوئے انہیں اس سوال کی امید نہ تھی: کیا ہوا بھئ اچانک سے یہ سوال ” وہ حیران کن لہجے میں گویا ہوئے ۔

“سر پلیز بتائیں تو ” اس نے اسرار کرکے کہا۔

“اممم زندگی کا مقصد!!! پہلے تو یہ سمجھ لو بیٹا کہ زندگی کا مقصد بڑا ہونا چاہیئے !!!” سر نے اپنی بات کا آغاز کیا۔۔
“جیسے؟؟ ” اس نے الجھے ہوئے انداز میں سوال کیا۔

“دیکھو بیٹا اللہ تعالی نے انسان کواس دنیا میں اپنا نائب یعنی خلیفہ بناکر بھیجا ہے۔ ہم سب کو کسی نہ کسی کام کے تحت بھیجا گیا ہے ۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے ۔یعنی ساری مخلوق میں سے اشرف اور جسکو درجہ بڑا دیا جاتا ہے نا اس سے کام بھی بڑا لیا جاتا ہے ۔لیکن ہم سوچتے ہی نہیں ہم بس دنیاوی مقاصد میں لگ جاتے ہیں۔ اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔”

(“دنیاوی مقاصد اوو تو میرا مقصد دنیاوی تھا” وہ سوچنے لگا!!)۔۔۔۔
جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے ! ہمارا مقصد ٹھوس ہونا چاہیئے ، جو مرتے دم تک ہمارے ساتھ ہو ۔۔۔مرتے دم تک؟ اسے سمجھ نہیں آیا۔
( لیکن “مجھے تو لگا کہ میرا ایم بزنس مین بنناتھا اور وہ اچیو ہوگیا ہے”) اس نے الجھ کر پوچھا۔۔
۔۔۔”نہیں ۔۔۔ نہیں ایم یہ نہیں ہوتا۔۔۔۔” سر نے اصلاح کرنے کی کوشش کی ۔۔
پھر؟ اس نے دلچسپی سے پوچھا!!!
“ہمارا مقصد تو بلندیوں کو پانا ہونا چاہیئے۔جسکی جستجو میں ہم پوری زندگی کوشاں رہیں ۔”
بلندی!!! اممم ۔۔۔”بلندی تو مل گئ نہ مجھے؟؟” لیکن اس نے پوچھ لیا۔۔

(“بلندیاں !!! اچھا تو یہ بلندیاں کیسے ملتی ہیں؟؟”)
بلندیاں!!!
“اللہ کو راضی کرکے ملتی ہیں تم اسکی رضا میں راضی ہوجاو تمہیں نیم بھی ملیگا اور فیم بھی ملیگا۔”
“اچھا !کیا واقعی ایسا ہے ؟؟؟” اس نے ناسمجھی میں دریافت کرنا چاہا۔
“جی بیٹا ایسا ہی ہے۔اسکی مثال یوں لے لو کہ اگر تم 1400 سال قبل گرم ریت پہ لیٹے بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ بلندی کیا ہے!! اور کن لوگوں کو ملتی ہے ! اور کیسے ملتی ہے! ؟ بلندی تو یہ تھی کہ وقت رک گیا جب بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان نہ دی ”
اچھا۔وہ کچھ کچھ سمجھنے لگا تھا۔
وہ مزید کہنے لگے۔
“اگر تم اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کہ عشق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر تمہیں بلندی مل جائیگی تو فقط یہ تمہارا غلط گمان ہے۔۔۔۔تم اپنی ظاہری خواہشات گھر گاڑی دولت سے پوری کرسکتے ہو لیکن پتہ ہے روح!! روح تڑپتی ہے!!! ۔”
(کسکے لیے)؟؟
“عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے!!”
“جب تم لوگ اپنی روح کی تشنگی بھی دنیاوی عیش و عشرت سے بجھانا چاہتے ہو تو روح باغی ہوجاتی ہے۔۔۔ اور تم لوگوں کو بے چین کردیتی ہے۔ دل ودماغ مضطر ہوجاتا ہے۔۔۔۔ اور پھر سکون!!! سکون برباد ہوجاتا ہے۔
پھر تم لوگ چاہتے ہو کہ بلندی ملے۔ نہ نہ ایسے بلندی نہیں ملتی بلندی پانے کے لیے تو خود کو بلند کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔ جلنا پڑتا ہے نفس کو پست کرنا پڑتا ہے ” ۔
اور ایک بات یاد رکھنا!! سر ناصحانہ انداز میں گویا ہوئے:
۔”دراصل بیمار ہم نہیں ہیں ہماری روح بیمار ہے۔ اسکا علاج کنے کی ضرورت ہے ۔”
روح کا علاج!!! لیکن یہ سب کیسے ممکن ہے سر؟؟ ۔
۔”آپ اپنا ظاہر و باطن ایک سا رکھینگے نہ جب آپ اپنے دل میں سخاوت پیدا کرینگے جب عاجزی آپکے سراپے میں پیوست ہوجائیگی ۔ نہ کہ صرف اپنے بارے میں سوچینگے”۔
سرنے مطمئن کن جواب دینے کی کوشش کی ۔۔
(آج تک یہی تو کیا تھا) ! اسے شرمندگی ہوئ۔
“جب آپ بڑھ چڑھ کر لوگوں کی مدد کرنے والے بنینگے ۔جب سخاوت اپنی مثال آپ ہو تب آپکو بلندیاں بھی ملینگی ۔۔۔۔اور کائنات کا ہر ذرہ آپکے لیے دعاگو بھی ہوگا اور پھر آپ جو چاہینگے وہ آپکو ملےگا ۔”
” لیکن یہ سب تو اتنا آسان نہیں ہے سر۔” اس نے دوٹوک جواب دیا
“جی بیٹا!!! ان لوگوں کے لیے تو بہت مشکل ہے جو اپنا وقت pubg جیسی فضول گیمز میں برباد کرتے ہیں ، اور نازیبا ایپز پر مجرہ کرتے ہیں جو لوگ اپنی حدود کو ہی پامال کردیں تو پھر آسان چیز بھی انکے لیے مشکل ہوجاتی ہے ”
(کل ہی تو آئ ڈی بنائ ہے ٹک ٹوک پر) اسے یاد آیا۔ اف !!
” لیکن اگر اپ میں واقعی تڑپ ہے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہے تو ایک کام کریں جس چیز کی طلب ہو نہ اسے بانٹنے لگ جائیں آپ آسانیاں بانٹیں وہ آپکی طرف ہی لوٹ کر آئینگی ”
“اور کیسے بانٹیں آسانیاں؟” اس نے ایک اور سوال کیا !
“دوسروں کے کام آئیں انکی ممکنہ مدد کریں انکے دکھ درد میں انکا ساتھ دیں پھر آپکو بھی بلندی ملے گی ۔”
“سچی؟؟” کیا ایسا ہی ہے سر؟
“جی ۔۔۔لیکن یہ سب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں مل جائیگا اسکے لیے آپکو کوشش نہیں بلکہ سعی کرنی پڑے گی ۔۔”
سر جواب پر جواب دیتے گئے ۔۔
سعی؟؟؟ یہ کیا ہوتاہے ۔
“سعی !!! ایکسٹریم لیول کی کوشش ہے جسے انگلش میں strive کہتے ہیں۔”
“وہی جو بی بی حاجرہ نے کی تھی اور زم زم کا چشمہ پھوٹ نکلا تھا”۔ اس نے کہا!
۔”جی بلکل ۔۔۔آپ بھی سعی کریں معجزے ہونگے اور ضرور ہونگے بلندیاں بھی نصیب ہونگیں اور قسمت بھی بدلے گی”۔
اسے اب پتہ چل۔چکا تھا کہ اس نے کہاں غلطی کی ہے۔
(بہت سی دماغ میں لگی گرہیں کھل چکی تھیں!!!)
جب گھڑی میں دیکھا تو 9 بج چکے تھے ۔
“چلیں بیٹا ۔۔۔ اپنا خیال رکھیے گا میں چلتا ہوں”۔
وہ صاحب پیار اور شفقت سے اسکا شانہ تھپک کر کھڑے ہوگئے۔
وہ انہیں سوچوں میں گم تھا کہ:
” کاش وہ پہلے ہی یہ سوال کر لیتا اسے لگا کے 23 سال بس ایک فلو پہ ہی اس نے گزاردیے ۔ لیکن خیر!
وہ جو سوچتا تھا کہ اسے مقام مل چکا ہے۔غلط سوچتا تھا !!ماما نے بھی صحیح کہا تھا بلکل کہ :
“عظمتیں خیرات میں نہیں ملتی ” لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی !! ابھی تو اسے بہت کچھ کرنا ہے ۔ بہت سے لوگوں کی مدد کرنی ہے ،سخاوت اپنانی ہے ،بھلائیاں بانٹنی ہیں۔اور سب سے بڑھ کر روح کا علاج کرنا ہے!!! تبھی ہی تو بلندی ملے گی نہ تبھی ہی مرتبہ ملےگا۔جو ناصرف اس جہاں میں بلکہ اس جہاں میں بھی معاون ہوگا۔
اسے ابھی اپنی خود ہی کو بلند کرنا ہے ۔
ارے ہاں اسے یاد آیا پھر یہی وہ مقام ہوگا نہ :
جہاں “خدا بندے سے خود پوچھے گا بتا تیری رضا کیا ہے”!!!!

مہرین سلیم کے مزید ناول اور افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply