Meray Achay Shayar by S Merwa Mirza

Meray Achay Shayar By S Merwa Mirza Urdu Complete Afsana

Read and Download.

Download PDF link available at the end of Afsana.

 

 

عنوان:میرے اچھے شاعر

رائٹر: ایس مروہ مرزا

 

“وہ بہت بڑی آرٹسٹ تھی۔ سارے کے سارے احساسات اپنے کینوس پر اتار لیتی تھی۔ میری آنکھیں اس سفاکی سے بناتی تھی کہ میں کانپ جاتا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ اگر یونہی کرب تحریر کرتی رہی تو مجھے جیت لے گی۔ میں اسے کیسے جیتنے دیتا۔ میں خود جیسا سفاک خسارہ کیسے اس کی قسمت میں لکھ دیتا۔ تبھی شرط رکھی تھی۔ پر وہ شرط تو مجھ سے بھی زیادہ بد بخت نکلی” وہ پچھلے چودہ سال سے جیل کی ان سلاخوں میں مقفل تھا۔ وہ جسے دیکھ کر ہی آنکھیں بین کا منسب چن لیتیں۔ وہ جو درد کا استعارہ تھا۔ وہ ایک بے گناہ قاتل تھا۔ نہیں وہ ایک منجھا ہوا مجرم تھا۔جس نے بنا کسی جرم کے بھی چودہ سال خود پر قید لازم کی تھی، کیوں نہ کرتا اس نے محبت ماری تھی۔ بہت بڑا شاعر۔ جسکے لفظ اسقدر اونچے تھے کہ پڑھنے اور سننے والا انکی منظر نگاری کرنے لگتا تھا۔ اسکی پیش کردہ خواب ناک دنیا میں جینے لگتا۔ عشق ہوا بھی تو اک مصورہ سے۔ نقصان یہ ہوا کہ ایک عنا پرست تھا اور دوسرا عاجزی کا سکندر۔ کتنا لازوال حسن تھا اسکا جو اب وقت کی بے رحم ہواوں نے منتشر کر دیا تھا۔

“وہ جسے لوگ ‘میرا اچھا شاعر’ کہتے تھے۔ وہ تو اچھائی پر دھبہ نکلا۔ تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا سانول، کہ محبت سے دشمنی مہنگی پڑے گی۔ ارے نادان یہ تو آسمانی شے تھی۔ تم نے اسی کے ساتھ ضد لگا لی۔ یہ اپنے ساتھ ظلم کا بدلا بھی آسمان سے بھیجتی ہے۔ کیا ملا تمہیں اسے مار کر۔ میرے بس میں ہو تو تم جیسے سفاک کو کئی بار سزائے موت دوں۔ بدقسمت شخص ہو تم۔ تمہاری اوقات یہ ہے کہ تم کسی قبرستان میں زندہ دفن ہو جاو۔ آج بھلے تم یہاں سے رہائی پا لو گے۔ مگر تمہاری اصل رہائی موت کے بعد بھی نہیں ہوگی۔” یہ ایک پینتیس سالا آدمی تھا جو زمانے اور اجالا نگر کی بھرپور نمائندگی کر رہا تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھ اور کریم کلر بوسکی کا سوٹ پہنے گلے میں موٹی چادر پھینکے اس جھکے چہرے والے پر حقارت سے نظریں جمائے بول رہا تھا۔ اس جھکے چہرے کی تابکاری اسقدر ماندھ پڑھ گئی تھی کہ گویا وہ کوئی جیتا جاگا مردہ ہو۔ سینے تک آتی اسکی اس چودہ سال میں بڑھی داڑھی اور وہ لازوال حسن والا شخص تو خود اپنے لیے عبرت تھا۔ سزا تھا۔

“مجھے سزائے موت وہ خود دے گی۔ وہ روز آتی ہے۔ مجھے سے خاموشی سے اپنی آخری خواہش کی تکمیل مانگنے۔ جب وہ میرے ہاتھوں میں مر رہی تھی۔ اور کہہ رہی تھی کہ ‘سانول میری قبر پے آتے رہنا۔ سانول مجھے بھول مت جانا۔ سانول میں تم سے ملنے آتی رہوں گی۔ سانول میں نے تمہیں معاف۔’ اسکے آگے اسے مہلت نہ ملی۔ پتا نہیں معاف کر گئی تھی یا نہیں۔ لیکن میرے لیے زندگی بھر کی دردناک مجرمانہ اذیت چھوڑ گئی تھی۔ سچ کہا آپ نے انسپیکٹر صاحب، یہ محبت تو آسمانی تھی۔ پھر کیسے اسکی سزا زمینی ہوتی۔ آپکی اور ساری دنیا کی حقارت ایک طرف پر اسکی آخری خواہش کا احترام بھی ایک طرف۔ مجھے سفارش پے ہی سہی مگر اسکی قبر کی حفاظت پر معمور کروا دیں۔ وہیں کہیں اپنی قبر بھی ڈھونڈ لوں گا” جھکے چہرے کی ہولناکی نے سامنے والے کا سینہ بھی درد سے پھاڑ ڈالا تھا۔ پچھلے چودہ سال کی خاموشی آج رہائی کے دن ٹوٹ گئی تھی۔ وہ اپنے ناکردہ جرم کی سزا پوری کیے آج چھوٹنے والا تھا۔
جرم کیا تھا؟ وہ جسے دنیا’ میرے اچھے شاعر’ کہتی تھی۔ وہ عنا پرست، گھمنڈی اور خود بین سا شخص عشق کر بیٹھا تھا۔ عشق میں شرطیں لگا بیٹھا تھا۔ خود سے، محبوب سے، زندگی سے، موت سے، تھانے دار نے اسے اس بند کوٹھڑی سے رہائی دے دی۔ اسکے پاوں چلنے سے انکاری تھے۔ اسکا وجود گر جانے والا تھا۔ اس فقیر کی آنکھیں باہر کی روشنی سے چندھیا جانے والی تھیں۔

“تم ایک بار کہہ دیتی مرجان۔ کہ میری شرط تمہاری زندگی لے رہی ہے۔ مجھے جھنجھور دیا ہوتا کہ تم کم ازکم میرے جیسی کے لیے بدقسمت اور منحوس نہیں ہو۔ مجھ پر زمانے کی طرح کوئی ظلم کر لیتی۔ مگر یوں چپ چاپ میری شرط کے پیج تربت کو نہ لاتی۔ وہ تربت جس پر میرے پاس پھول ڈالنے کا حوصلہ بھی نہیں رہا۔ پر یہی تو تمہاری آخری خواہش تھی۔ ہاں قرض کی صورت تمہارے کئی دکھ مجھ پر فرض ہیں۔ میرے ہاتھوں سب ہو جاتا پر کاش یہ ظلم نہ ہوتا۔” وہ فقیر تھا، مگر نہیں وہ تو اسیر تھا۔ جسے آزادی پسند نہیں تھی اور جس پر عشق کی اسیری آن اتری تھی

***********

وہ جب اس دنیا میں آیا تو اجالا نگر کی سارئ بستی کے لوگ کہنے لگے کہ ‘دیکھو کرم دین کے گھر ایک بہت خوبصورت بچہ آیا ہے۔ پر افسوس اپنی کالی قسمت کے تخت وہ آنے سے پہلے اپنے باپ کو کھا گیا ہے’ ۔ ہاں ایسا ہی تھا۔ وہ چونتیس پینتیس جھونپڑوں کی سیاہ بستی جہاں اندھیرے کا راج تھا مگر ناجانے اسکا نام ‘اجالا نگر’ کیسے پڑا۔ شاید ان تاریک گلیوں کے لوگوں کی زندہ دلی تھی کہ وہ اس قدر پسماندگی میں بھی اجالے کی امید سے بندھے تھے۔ اس بستی کے زیادہ تر لوگ فقیر یا منگتے تھے۔ کھانے پینے کا زیادہ انتظام مسجدوں، مزاروں، اور لنگر خانوں سے ہوا کرتا تھا۔ انہی جھونپڑیوں میں سے ایک کرم دین کی تھی۔ فقیر تھا مگر اسکے اندر شاعرانہ وصف کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ مانگنے کے بجائے وہ اپنے دکھ درد کی داستانیں لکھ کر گایا کرتا تھا۔ بستی والے اسے مراسی تک کہہ دیتے تھے۔ پر وہ اللہ کا بندا اس لقب پر بھی اپنی عاجزی میں ہنس دیتا تھا۔ شاداں بی بی جو اس کی بیوی اور دکھ سکھ کی ساتھی تھی۔ دونوں میاں بیوی ایک وقت کی روٹی پر بھی صبر و شکر کرتے تھے۔ پر اللہ کے ہاں کچھ اور ہی طے تھا۔ کرم دین اپنے روزمرہ کے گانے اور کرلانے کے دوران ایک فقیری مجمعے میں پاوں تلے روندتا ہوا اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ ٹھیک دس دن بعد انکے گھر ایک بچے کی آمد ہوئی۔ شاداں بی بی تو اپنے بندے کے ساتھ ہی مر گئی تھی مگر رب سوہنے نے جیسے اس نمانی کی عمر بڑھا دی۔ وہ بچہ اس پوری بستی کا سب سے پیارا اور نیارا بچہ تھا۔ شاداں نے اسکا نام ‘سانول کرم دین’ رکھا۔ گو کہ اس درگور اور ہولناک زندگی میں اسکا اکلوتا سہارہ سانول تھا۔ پر وہ بد قسمت تھا۔ اس بستی کے ہر فرد کے لیے۔ شاداں نے اسکی پرورش تو کر دی پر خود فاقوں سے زندہ لاش بنتی گئی۔ وہ بچہ بڑا ہوتا گیا مگر اندر سے وہ منحوس اور منگتا رہ گیا۔ دس سال شاداں اسکی پرورش کرتی رہی۔ زمانے کا سرد گرم سہتی رہی۔ مگر وہ دن اس ‘سانول کرم دین’ کی زندگی کا بھی آخری دن تھا جب اسکی ماں جھونپڑی میں مری ملی۔ نیک بخت کو زمانے کی مار پڑھ گئی۔ دکھ درد اور تکلیف کھا گئی۔
پوری بستی میں یہ بات آگ کی طرح پھیلی کہ یہ بچہ واقعی منحوس ہے۔ اگر ہاتھ ہلا کر مانگ تانگ لیتا تو اسکی ماں فاقوں سے نہ مر جاتی۔ مگر شاداں نے اسکی پرورش میں یہ چیز سوئی دھاگے سے سی دی تھی کہ ‘تو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا۔ تو اچھا شاعر بن کر اپنے بابے کا نام بنائے گا’۔ اس روز شاداں کی تدفین کرنے کے بعد اجالا نگر کے سارے فقیروں نے اس دس سال کے بچے کو دھکے مار کر اپنی بستی سے نکال دیا تھا۔ وہ بچہ اپنی ماں کی قبر تک سے محروم کر دیا گیا تھا۔ وہاں سے اس بچے کی موت کی داستان شروع ہوتی گئی۔

مرنے کی ہر کی گئی کوشش ناکام ہوتی گئی۔ وہ بچہ نہیں، مردہ تھا۔ جس سے قدرت نے ماں باپ تو لے لیے تھے مگر زمانے نے روح اور جان بھی دبوچ لی تھی۔ اسے بس یہ یاد تھا کہ وہ منحوس ہے۔ مگر اسے یہ بھی یاد تھا کہ وہ ماں کا اچھا شاعر ہے۔ دو سال کی دربدری کے بعد وہ بچہ اپنی ماں کا خواب پورا کرنے نکل پڑا۔ شعر کہتا تو مجمعے میں آگ لگا دیتا۔ پہلے گلی چباروں پر، پھر چھوٹی موٹی محفلوں میں، پھر لمبے گھنے مجمعوں میں اور پھر مشاعروں میں۔۔ناقابل شکست سا شاعر ‘سانول کرم دین’ جسے وقت اور زمانے نے پھر اپنے سر اور پلکوں پر بٹھایا۔اجالا نگر جس سے اسے دھکے مار کر تاریکی میں گرایا گیا تھا۔ اب پوری دنیا اسکے سحر کی شیدائی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ لفظ نہیں لکھتا، بلکے لفظوں کے جنازے نکالتا ہے۔ اسکے چہرے پر کرم دین جیسی مسکان تھی اور اسکے لفظوں میں اسکے درد کی اڑان تھی۔ ملک کا کوئی مشاعرہ اسکی موجودگی کے بنا مکمل نہیں ہوتا تھا۔ دل جلے، عاشق، درد کے مارے اور ہولناک لوگوں کی آواز بننے والا آخر کار
‘میرے اچھے شاعر’ کا لقب پا گیا۔ ماں کی حسرت اسکی آنکھوں میں تیزاب کی مانند بہی تھی۔ وہ ماں جو اسکی وجہ سے فاقوں سے مر گئی تھی۔ اس باپ کی لازوال خوبی اپنے اندر اتار کر وہ آج مردہ پن سے واپس جیا تھا جب اسکے لفظوں میں وہ نہیں بلکے کرم دین دیکھائی دیا تھا۔ وہ منحوس، بد قسمت تو قسمت کا سکندر بنتا گیا۔ خوبصورتی کا شہکار۔ دل جیسی کوئی چیز سلامت نہ رکھ پایا تھا۔ بے رحم زمانے نے اسے خود بین اور پتھر بنا دیا تھا۔
اس کے شیدایوں میں وہ بھی تھی”مرجان فاطمہ”۔ خوبصورتی کی ملکہ، حسن کی شہزادی۔ اسکی بھی شاید کوئی کہانی تھی مگر اسکا لقب بھی ‘میری اچھی مصورہ’ تھا۔ پہلی بار سانول کے دل نے جینے کی خواہش کی تھی۔ مگر وہ اسکے بنائے فن پارے دیکھ کر ساکت ہوا۔ اسکی بنائی تصویروں میں وہ درد درج تھا جو آج تک ایجاد نہیں ہوا تھا، جس درد کو خود سانول تحریر کرنے کا خواہشمند تھا۔ وہ پاگل ہو گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا۔ بھلا کوئی اور اس سے زیادہ ہولناک کیسے ہو سکتا تھا۔ اسکے علاوہ کوئی اتنا دردناک کیسے ہو گیا تھا۔ مگر دونوں کو ایک دوسرے کی تکلیف سے ایک سے بڑھ کر عشق ہوا۔ مرجان فاطمہ کا بھی وہ “اچھا شاعر’ تھا۔ مگر سانول کے لیے وہ ‘اچھی مصورہ’ نہیں تھی۔ وہ خود کو اب کسی ہار سے روشناس کیسے کروا سکتا تھا۔ بھاگنے لگا۔ اس عشق کے عذاب سے بہت دیر بھاگتا رہا۔ مگر وہ آخر مرجان کے دکھ سے روشناس ہوا۔
بہت امیر گھرانے کی اکلوتی صاحبزادی، جسے رنگوں سے عشق تھا، جسکی پیدائش پر یوں پتاشے بانٹے گئے جیسے کسی بادشاہ کے گھر فرزند خاص اترا ہو۔ مگر ماں باپ کی ایک حادثے میں موت کے بعد اسے رنگوں سے تو نفرت ہوئی مگر خود سے بھی ہو گئی۔ باپ کے بھائی نے ساری جائداد ضبط کر کے مرجان فاطمہ کو ایک طوائف کے ہاتھ پچیس لاکھ میں فروحت کر دیا۔ وہ بلا شبہ بہت پیاری تھی۔ اور پیاری ہونا ہی اسکا جرم تھا۔ دو سال تک اس ہوس اور زلالت والی زندگی گزارنے کے بعد وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ ایک فلاحی ادارہ اسکی چھت بنا۔ وہاں اسے دو سال اپنی نیم بدحواسی سے نکلنے میں لگے۔ اسکے اندر دکھ کا لاوا تھا۔ اس دکھ کے لاوے کو نکالنے کے لیے اس نے کینوس چنا۔ کالے اور سفید رنگ سے اس نے اپنے اندر کی ساری گھٹن، اور سیاہ نصیبی درج کر دی۔ وہ ایسے ایسے شہکار تخلیق کرتی گئی جو شہرہ آفاق مقبولت پاتے گئے۔ اور وہی ظالم زمانہ جس نے اسے کاٹ کھایا تھا۔۔اب اسے ‘میری اچھی مصورہ’ کا لقب دینے پر مجبور تھا۔ مگر مرجان تو اس خود سے زیادہ کرب شناس سے شاعر پر دھنگ رہ گئی۔ وہ بھی یہی سمجھتی تھی کہ مجھ سے زیادہ کرب نہ کوئی درج کر سکتا ہے نہ کرے گا۔ مگر اسکے ساتھ ہوئے ظلم اسکو خود بین نہ بنا پائے تھے۔ وہ اسیر ہو گئی۔ اس گھمنڈی سے ‘اچھے شاعر’ کی۔ مگر وہ شاعر اچھا شاعر تھا، اچھا انسان نہیں تھا۔ وہ جسکا پور پور وہشت اور بدقسمتی میں گندھا تھا، وہ کیسے کسی تیسرے کی موت کا باعث بنتا۔ وہ خود بین تھا۔ وہ بھی مرجان کا اسیر تھا۔ مگر افسوس کہ وہ اک فقیر تھا۔ اجالا نگر سے شروع ہونے والی یہ داستان، کسی اندھیر نگری پر ہی ختم ہونی تھی۔ کچھ صلے صرف دوسری دنیا میں ملتے ہیں۔ مگر کچھ کے حصے میں دونوں جہاں کی فقیری درج ہو جاتی ہے۔
*********
“اس نے کہا تھا کہ تم بہت بڑی آرٹسٹ ہو۔۔پھر ایسا کرو کہ جو کسی سے بچھڑنے کے بعد بھی زندہ بچ گئے ہوں انکو ڈھونڈ کر لاو۔انکا ایک بڑا سا گروہ بنانا۔پھر انکے چہروں پر لکھے کرب آمیز ہجر کا گر سایہ بھی کینوس پر بنا پاو تو میں تمہارا” یہ قبرستان کے بیرونی احاطے کی دیوار تھی۔جہاں کچھ دور کئی فقیر روز کی طرح آج بھی قطاروں میں بیٹھے لنگر کے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔جنکے چہروں پر بھوک اور رنج پوری ہولناکی سے درج تھی۔ ہلکی ہلکی سردی کے دن تھے۔وہ سیاہ سوٹ اور سیاہ ہی چادر میں ملبوس ایک بتیس سالا آدمی تھا جس کی گردن سامنے کسی کی گود میں دھرے پھولوں پر جھکی تھی۔ اسکے چہرے پر صاف صاف بے حالی درج تھی۔ وہ کسی درد کا مرکز بنا ہوا اپنے سامنے سیاہ چادر میں لپٹی اس چاند سی دوشیزہ کی اس بات پر اپنی سوجھی اور نقاہت زدہ آنکھیں بند کیے تسبیح کے دانوں کی حرکت روک چکا تھا۔اسکی سینے تک آتی سیاہ اور بھوری رنگ سے مزین داڑھی سلجھی ہو کر بھی الجھن زدہ تھی۔ہونت سیاہ سی صورت میں اپنی تشنگی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ اسکی جھکی آنکھیں کسی ہار کا منہ بولتا استعارہ تھیں۔ سامنے بیٹھی وہ بوجھل مگر انتہا کی دلنشینی میں لپٹی دوشیزہ تو اپنی حسرت زدہ آنکھوں سے اس فقیر کے حال تک آئے سانول کو دیکھ رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی اسکے سوال کا جواب بہت جلدی ملے۔ پر یہاں تو خود وہ شخص بھی سوالی تھا۔وہ اپنی آنکھیں نہیں اٹھا پا رہا تھا۔
“بہت کڑی شرط تھی۔ یقینا وہ تمہارا نہیں ہوا۔” اس پتھر سے بت نما انسان کے ہونٹ ہلکی سی لرزش لیے بول اٹھے۔
“ہاں۔وہ اپنا بھی نہیں ہوا۔ میں اسکی یہ شرط سن کر بہت ہنسی تھی۔ مگر جانتے ہو وہ رو دیا تھا۔۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ کیوں رویا تھا” مرجان کی آنکھیں تو اس مجسمے پر گڑھی تھیں۔ جو چاہ کر بھی نظر اٹھانے کی جسارت نہیں کر پایا تھا۔
“ہاں۔ کیونکہ وہ تمہارا نہیں تھا۔وہ صرف مصیبت، تکلیف اور وہشت کا نوالہ تھا۔تبھی رویا تھا۔ رونے والے بس روتے ہیں۔انکو پھر اور کوئی کام آسودہ نہیں لگتا۔لوٹ جاو۔بار بار مجھ تک آکر اپنے خسارے مت گنا کرو۔” سامنے بیٹھے اس حسین مگر ہولناک پتھر میں پھر سے چوٹ پڑی تھی۔
“خسارہ بھر دینے والے سے میری سفارش ہی کر دو۔ تم تو بہت نیک ہو۔دن رات اسکے دیے بہترین منسب پر فائز ہو کر ان قبروں کی دیکھ بھال پر فائز ہو۔دیکھو کسی کا رونا اور کسی کا رلانا دونوں ہی رد ہو گئے ہیں۔کوئی بچ نکلنے کی سبیل کروا دو۔ورنہ باغیوں کا یہاں آنا یونہی جاری رہے گا۔معافی کا یہ پروانہ لے لو۔” مرجان کی آنکھیں پتھرائی سی تھیں۔وہ دیکھ لیتا تو شاید اسکی زندگی کا کئی سالوں سے اٹھایا بوجھ ہٹ جاتا۔مگر وہ اپنا بوجھ کیسے ہٹا لیتا۔دل نے ملامت کی راہوں میں دوڑ لگا دی تھی۔۔۔۔چند موتی اس فقیر کے خالی دامن میں گر کر جذب ہو گئے۔
“وہاں ابھی تک میں بھی نہیں پہنچا۔ نیت میں فتور ہو تو پھر منزل نہیں ملتی۔مجھ سا گناہگار صرف خاک کا منسب رکھتا ہے۔ میں بھی وہ اڑ کر فنا ہونے والی خاک ہوں جو اپنے حصے کے طوفان کی منتظر ہے۔ میرے لیے طوفان مت بنو مرجان۔ مجھے پہلے اپنے جرم کی معافی حاصل کر لینے دو۔ اپنی قبر کا اہل نہیں ہوں میں ابھی۔ نہ مجھے کوئی سمندر خود میں غرق کرنے کو تیار ہے” وہ آنکھیں اٹھیں تو جیسے باقی سب کچھ جھک گیا۔خود مرجان کی سوز زدہ آنکھیں تک۔قیامت بربا ہو گئی تھی۔ اپنے ہاتھ میں پکڑی چند گلاب کی ڈالیاں وہ اب اسکے خالی دامن میں دھرے اٹھنا چاہتی تھی۔مگر نظروں کا یہ ملاپ تو جہاں سے اٹھ جانے کا سامان کیے ہوئے تھا۔
“میں مرنے سے پہلے ایک ایسی تصویر ضرور بنانا چاہتی تھی سانول۔ تم یقین کرو۔ میں شرط جیتنے کے بہت قریب تھی۔ اس میں وہ سارا کرب اور ہجر درج ہوتا جو ایک ہجر زدہ گروہ کے ہولناک لوگوں کے چہرے پر پایا جاتا ہے۔ مگر ہمیشہ تمہاری آنکھیں سامنے آتی رہیں۔ ان سے زیادہ دکھ مجھے کہیں دیکھائی نہیں دیتا تھا۔ میرا فن نڈھال ہوتا رہا ‘میرے اچھے شاعر’۔ مجھے لگا کہ اس شرط نے مجھ سے میرا فن نہیں بلکے درد میں لپٹی سوہان رقح زندگی مانگی ہے۔ مجھے مرنا ہی تھا۔ تمہارے راستے میں تو قسمت لائی تھی۔ خوشقسمتی یہ تھی کہ اس دن تمہاری گاڑی کے آگے مرجان نہیں تھی۔ بلکے مرجان کی زندگی کی کٹھن مشکل تھی۔ تم نے حل کی۔ اپنی یا میری کسی ایک کی ہی سہی پر خلاصی کر دی تھی۔۔” مرجان کو لگا وہ اٹھ نہیں پائے گی۔یہیں اس شخص کے قدموں میں فنا ہو جائے گی۔ البتہ فنا تو وہ پہلے ہی ہو چکی تھی۔
“خلاصی کیا اتنی ضروری تھی مرجان” اس تلخی کے مارے آدمی نے جیسے حسرت زدہ ہونے کی جسارت کی۔ کم ازکم یہ خلاصی تو بہت کرب ناک تھی۔
” ہاں، آج میری خلاصی کا یہ موتی قبرستان کی ایک خستہ حال پرانی قبر کے قریب دھرا بنا ڈھونڈے مل گیا ہے۔ سمجھو میری مکمل خلاصی ہو گئی ۔وہ سانول جسے بچھڑنے کی بیماری ہے۔ جو اپنے زخم کو مرہم سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔جسے مرجان سے عشق ہوا کرتا تھا۔اور پھر اس سے بچھڑتے ہی وہ سب سے بچھڑنے لگا۔اپنی خوشی سے بچھڑ گیا۔اپنے دکھ سے۔ سکھ سے۔سکون سے۔چین سے۔آسودگی سے۔ ہر خوشی سے وہ بھی صرف مرجان کے لیے۔ اور پھر اسے مرجان سے بھی بہتر عشق مل گیا۔ مرجان نہ سہی، اسکی تربت ہی سہی۔ تم نے تو عشق بہت عاشقی سے نبھایا ہے” مرجان کی پتھرائی آنکھوں میں رشک ابھرا۔
“میں یہاں کسی عشق میں نہیں آیا۔اپنی قبر کی تلاش میں ہوں۔ مرنے کا منتظر ہوں۔ تم تک رسائی کا طالب ہوں” سانول کا چہرہ تاریک سی آہ لیے تلخ اور حسرت زدہ ہوا۔مرجان اٹھی تو وہ بھی اٹھ گیا۔دونوں کے چہروں پر درد رقم تھا۔ مرجان کا چہرہ روشن ہو رہا تھا۔
” تم ابھی اسی منسب پر فائز رہو۔ بس جان لو کہ آج مرجان تمہاری بھی خلاصی کرنے آئی ہے۔ ہر روز پھول چڑھاتے رہنا۔ ہو سکے تو اب ماتم نہ مناتے رہنا۔ اس روز میں تمہیں کہنا چاہتی تھی کہ میں نے معاف کر دیا۔ ہر شرط کے لیے۔ پھر بھی تم نے چودہ سال خود کو سولی پر ٹانگے رکھا۔ میری موت کی ناحق سزا خود پر لے کر تم نے مجھ پر بھی ظلم کیا ہے۔ ایک بات ضرور کہوں گی۔ جانے سے پہلے اس دنیا کو لکھ کر دے آنا کہ اچھے شاعر، اچھی مصورہ سے ضد نہیں کرتے۔ میری یہ سانول نامی بنائی تصویر دنیا کو دیکھا دینا۔ مجھے یقین ہے اب کوئی سانول، کسی مرجان سے شرط نہیں لگائے گا۔ میں تمہاری تھی میرے اچھے شاعر۔ اور تم تک تمہاری رہائی دینے کی کوشش میں پچھلے چودہ سال سے بھٹک رہی تھی۔ تمہاری تکلیف اس قبر کے اندر تک پہنچتی ہے۔ مرنے والوں کو یوں نہیں ستاتے۔ جاو سانول تم پھر سے اچھے شاعر بن جاو۔ ہاں مگر تمہاری شاعری کا عنوان اب مرجان ہوگی۔ مجھے اپنے لفظوں میں زندہ رکھنا۔ مجھے یاد رکھنا سانول۔ ایک حسرت ادھوری رہ گئی کہ کاش اس تختی پر تمہارا نام میرے نام کے سنگ لکھا جاتا۔ یہاں نہ سہی پر وہاں اس جہاں تم صرف مرجان کے ہونا۔ بنا کسی ضد اور شرط کے ۔وہاں اس دنیا جیسی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ میں تمہارا انتظار کروں گی” وہ اس سے دو قدم دور ہٹتی مسکرائی تھی۔سامنے بنی پگڈنڈی کی جانب مرتے ہوئے اس حسین دوشیزہ نے پھر ایک نظر اس پتھرائے سانول پر ثبت کی۔ جیسے وہ اس سے بے حد راضی ہو کر جا رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ سانول کی نظر زمین پر پڑی ان گلاب کے پھولوں کی ڈنڈیوں پر گئی۔ کئی آنسو اس فقیر کے چہرے پر ڈھلکتے چلے گئے۔ نظر اس قبر کی تختی پر گئی۔
“مرجان فاطمہ ‘میری اچھی مصورہ’ اور تاریخ وفات” اور اس کے بعد لکھی مرجان کی آخری شرط۔
“یاد رکھنا ہماری تربت کو
قرض ہے تم پے چار پھولوں کا”
وہ رو دیا اور شاید آج تک کوئی ایسا رویا نہیں ہوگا اور اپنے لرزتے ہاتھوں سے وہ گرے پھول اٹھا کر مرجان کی قبر پر سجاتا گیا۔ شرط کے بدلے شرط پوری ہوئی تھی۔ آج قرض بھی جھکا دیا گیا اور اس عادی مجرم کو رہائی بھی مل گئی۔ پر ایسوں کو جیتے جی کبھی رہائی نہیں ملتی ہے۔۔۔ موت ہی آخری سکھ ہوتا ہے۔ مگر اسے اچھا شاعر بننا تھا۔ ماں کے ساتھ ساتھ اب یہ مرجان کی بھی آخری خواہش تھی۔

**********

 

Download

Updated: January 19, 2020 — 8:58 pm

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *