Meri Dua Qubul Nahi Hoti by Mehreen Saleem Urdu Afsana

میری دعاء قبول نہیں ہوتی

Meri Dua Qubul Nahi Hoti

Meri Dua Qubul Nahi Hoti

از مہرین سلیم

 

 

انشاء دروازے سے ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں غرق آسمان پہ ٹمٹماتے تاروں کو دیکھ رہی تھی ۔ اور اسی آسمان پہ اس چمکتے چاند کو کہ جو اپنی روشنی سے آسمان کو منور کررہا تھا ۔
وہ سوچنے لگی کہ: “اللہ تعالی نے کتنی خوبصورتی سے آسمان بنایا ہے نہ

کتنی زینت بخشی ہے”۔

اسے اچانک سے استانی کی ایک بات یاد آئی کہ :
“اللہ تعالی کن کہتے ہیں اور فیکون ہوجاتا ہے”۔
پھر ایک نشتر سی دل میں چبھی اور ٹپ ٹپ آنسو آنکھوں سے بہنے لگے!
” وہ میری دعا پر کن کیوں نہیں کہتا ؟؟ وہ سب کی سنتا ہے میری کیوں نہیں سنتا؟؟۔”

اتنے میں پیچھے سے امی کی آواز پر وہ پلٹی ، جو اسے کھانا لگانے کا حکم دے کر گئی تھی۔ کھانا کھا کر برتن دھوکر الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ سوگئی ۔

اسے آج بھی اس سوال کا جواب نہ ملا تھا کہ آخر!
“اسکی دعا ہی کیوں قبول نہیں ہوتی؟؟”۔

انشاء نماز فجر پڑھ کر جائے نماز سمیٹنے لگی کہ اسے خیال آیا کہ! “دعا تو نہیں مانگی”۔
پھر یہ سوچ کر اٹھ کھڑی ہوئ کہ کونسا قبول ہو جائیگی۔
کالج کے لیے تیار ہوکر وہ گھر سے نکلی تو راستے میں فقیر کو دیکھ کر چند روپے اسے دے دیے۔۔۔ بدلے میں اس نے دعا دی ۔
انشاء کو یہ خیال آیا کہ شاید اس فقیر کی ہی رب سن لے۔

 

انہی خیالوں میں مگن الجھے ذہن کے ساتھ وہ کالج پہنچی۔
وہاں اسکی دوست مشعل اسے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی ، اور قریب آئی، رسمی علیک سلیک کی اور دونوں کلاس کی جانب روانہ ہوگئیں۔
انکی پہلی کلاس اسلامیات کی ہی ہوا کرتی تھی ۔وہ دونوں جا ہی رہی تھیں کہ راستے میں انکی ایک کلاس فیلو فلک مٹھائ کا ڈبہ پکڑے سبکو خوشی خوشی گلاب جامن کھلا رہی تھی ۔
انشاء مسکراتے ہوئے مشعل سے کہنے لگی!
“یہ کیوں ہوا میں اڑ رہی ہے؟” ۔
مشعل سے رہا نہ گیا۔۔۔

اور اس نے پوچھا کہ کیا بات ہے جناب! “مٹھائی کس خوشی میں بٹ رہی ہے؟؟”۔۔
فلک نے پرجوش ہوکر کہا ۔

” لو بھئ تم بھی کھاو ۔ دراصل میرا دبئ سے رشتہ آیا تھا۔۔۔۔ لیکن اما ابا نہیں مانتے تھے۔۔۔ اب بہت مشکلوں سے بھائی جان اور باجی کے کہنے پہ مانے ہیں ۔ تمہیں پتہ ہے میں نے اتنے وظیفے پڑھے تھے ، اتنی دعائیں کی تھیں ، اور فائنلی میرا رشتہ ہوگیا۔ میں بہت خوش ہوں ۔”
مٹھائی کھا کر اور مبارکباد دے کر انشاء آگے بڑھی۔
اچانک سے مشعل نے اسکا مدھم چہرہ دیکھ کر کہا !
“کیا بات ہے تم کیوں اتنی اداس رہتی ہو آجکل۔ خوش رہا کرو یار” ۔
“بتاو نہ موڈ کیوں آف ہے؟؟”

فلک کو دیکھ کر کیوں تم گم سم ہوگئ؟۔۔۔۔ مشعل مزید بولی۔
انشاء اب کی بار برس پڑی۔
“یہ فلک وہی ہے نہ جو حجاب بھی نہیں کرتی ، جو پابندی سے نماز بھی نہیں پڑھتی۔ لیکن دیکھو!! اللہ نے اسکی سن لی۔۔۔اور ایک میں جو سب کرتی ہوں۔لیکن مشعل وہ میری نہیں سنتا کیوں آخر کیوں؟؟۔۔۔۔”
اب باری مشعل کے بولنے کی تھی۔

لیکن وہ سمجھ گئی کہ ابھی اگر کچھ کہا گیا تو یہ نہیں سمجھے گی۔کیونکہ انشاء سمجھنا نہیں چاہتی۔ لیکن سمجھانا بحر حال ضروری تھا۔
اسلامیات کی کلاس میں دونوں ساتھ بیٹھی لیکچر نوٹ کر رہی تھیں۔
لیکچر نوٹ کرکے استانی نے انہیں حدیث کی کتاب کھولنے کا کہا اور ایک حدیث کا سبق دے دیا ، وہ کتاب کے صفحات الٹنے پلٹنے لگی کہ نظر اس حدیث پر پڑی۔

ساتھ بیٹھی مشعل نے بھی دیکھ لیا کہ وہ کونسی حدیث پڑھ رہی ہے ۔ وہ دبے ہونٹ ذرا مسکرائی!! پر بولی کچھ نہیں ۔

Mishkat ul Masabeeh Hadees # 2227

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِي فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعاءَ . رَوَاهُ مُسلم

 

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ جب تک کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کرے اس کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسولﷺ ! جلد بازی سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ کہتا ہے : میں تو بہت دعائیں کر چکا لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی ، اس صورت حال میں وہ مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری (۶۳۴۰) ۔

صحیح حدیث۔

 

اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اسکے ضمیر نے اسے ایک بار للکارہ ۔۔۔
“انشاء تم نے بھی تو جلد بازی ہی کی ہے نہ”؟؟
لیکن وہ یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کردیتی ہے کہ!
“جلد بازی کہاں!! دو سال سے تو دعا کررہی ہوں لیکن کوئی جواب نہیں آیا اب تک ۔۔۔۔اتنی آزمائش اف۔”
کلاس ختم ہونے کے بعد فری پیریڈ تھا ۔مشعل نے کوشش کی کہ انشاء سے بات کی جائے ۔
اسی اثناء انشاء نے خود ہی سوال کیا :

“مشعل ۔۔۔کیا ہوا پھر تمہارے بھائی کا لندن جانے کا ہوگیا کیا ؟”
کتنی محنت کی تھی نہ اس نے۔ انشاء گویا ہوئی۔
مشعل نے انتہائی شیریں لفظوں میں جواب دیا!
“نہیں اب تک نہیں ہوسکا کچھ کاغذات کا مسئلہ تھا”۔
“لیکن دعا کرو حل ہوجائے ورنہ مشکل ہے”!!۔۔
مشعل مزید بولی۔
ہاں ہاں!! “میری دعا قبول ہوتی تو ضرور کرتی۔لیکن ِخیر ہوجائے گا۔اللہ نے چاہا تو” ۔
انشاء گویا ہوئی۔
اس بار مشعل سے رہا نہ گیا۔۔۔ اور وہ پھٹ پڑی۔۔۔
” یہ کیا تم بار بار کہتی ہو۔۔۔میری دعا قبول نہیں ہوتی ، میری دعا قبول نہیں ہوتی ۔اتنی مایوسی کیوں انشاء؟تمہیں نہیں خبر کہ! وہ سوہنا رب ہم سے کتنی محبت کرتا ہے وہ کیسے ہمیں محروم رکھ سکتا ہے کسی بھی چیز سے؟؟؟ جو ہماری ہے ، وہ ہمیں ضرور ملے گی!!کیوں تم مایوس ہوجاتی ہو یار؟؟ مایوسی کفر ہے”۔

“بس بس اب تم درس نہ دو مجھے۔ وہ نہیں سن رہا میری مشعل !۔ میں نے بہت مانگا۔ لیکن اس نے نہیں دیا۔۔۔اب تو مانگنا ہی چھوڑ دیا ہے”۔
مشعل انتہائی برہمی سے گویا ہوئی!
“یہ جلد بازی ہے انشاء! جلد باز نہ بنو”۔
اسی اثناء دوسری کلاس کا وقت ہوگیا ، اور وہ دونوں چل دیں۔ اسکے بعد چھٹی تک کوئی بات نہ ہوئی اور دونوں گھر چلی گئیں۔
وہ گھر پہنچی ہی تھی کہ۔۔۔اسے اطلاع ملی۔”اسکے والد کو اٹیک ہوا ہے” اور سب ہسپتال میں ہیں۔۔۔۔
وہ مارے مارے پھرتی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر جلدی سے ہسپتال پہنچی۔۔۔۔
” وہ کہیں ماں کو سہارہ دیتی ،تو کہیں خود کو سنبھالتی”۔
آخر اسکا اما ابا کے علاوہ تھا ہی کون دنیا میں؟؟؟
اور ایک مشعل۔۔۔
“جو ہر وقت اسکی زندگی میں بھی مشعل جلائے رکھتی تھی”۔ وہ اسے دلاسہ دیے جارہی تھی۔
لیکن آنسو تھے کے تھمنے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔
“ظہر ختم ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا “۔
مشعل نے اسے یاد دلایا !
“انشاء نماز پڑھو! جاو دعا کرو۔۔۔ بابا ٹھیک ہوجائینگے جاو نہ!!۔۔۔”
دکھتے دل کے ساتھ وہ بنچ سے اٹھی۔اور نماز پڑھنے چلی گئی۔
“سلام پھیر کر اس نے آج دل کھول کر دعائیں کی” ۔۔۔
آج تو اسکی سن لی جائیگی۔۔۔ آج تو اسے ان سنا نہ کیا جائیگا۔
“لیکن کون جانے؟؟ ” اور” کون بتائے؟؟”
” ایک اور آزمائش اسکے لیے تیار تھی” ۔
اسی لمحے میں وہ ماں کی چیخ و پکار پر راہداری پھلاگنتے ہوئے ، آپریشن تھیٹر کے پاس آ کھڑی ہوئی۔

وہ شل قدموں اور شاکڈ نظروں کے ساتھ کبھی ماں کو دیکھتی۔۔۔ تو کبھی مشعل کو۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کس سے پوچھے ” یہ ہو کیا رہا ہے؟؟؟”
اماں زارو قطار روئے جارہی تھیں۔اس میں اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ ماں کو دلاسہ دے سکے۔
“بابا ٹھیک ہوجائینگے اور ہاں نہ میں ابھی ہی تو دعا کرکے آئی ہوں”۔
اسی لمحے ڈاکٹر کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
“آپ ڈیڈ باڈی لے جا سکتے ہیں۔ایمبولینس ہم نے بلوالی ہے۔”
انشاء کو تو اپنی سماعتوں پہ یقین نہ ہوا کیا “ڈیڈ بادی ؟؟؟”
“مطلب ابو چلے گئے ہمیں چھوڑ کر!! یہ کیا ہوگیا؟”
ابھی تو اس نے اپنے ماں باپ کے لیے بہت کچھ کرنا تھا۔
لیکن کہتے ہیں نہ کہ۔۔”ہم اللہ کے مال ہیں اور ہمیں اسی کی طرف پھرنا ہے۔”
ویسے تو ان ماں بیٹی کا کوئ رشتہ دار آس پاس نہ تھا۔
سب ہی بیرون ملک سیٹل تھے۔۔۔ لیکن فیروز صاحب انشاء کے بابا نے پاکستان میں رہنا ہی پسند کیا ۔
غرض ساری رسومات ادا کی گئیں بابا کو دفن کر دیا گیا۔
آج وہ پہلی بار اتنی بری طرح سے ٹوٹی تھی۔
آج اسکا یقین پختہ ہوگیا تھا کہ”اسکی دعا قبول نہیں ہوتی۔”
مشعل نے قدم قدم پر اسکا ساتھ دیا ۔۔۔بہت سمجھایا !!
لیکن وہ کہتے ہیں نہ!”انسان جب تک خود سمجھنا نہ چاہے تب تک سمجھ نہیں سکتا ”
“آج وہ یہ گمان کر بیٹھی تھی کہ اسکے رب نے اسکا ساتھ نہ دیا۔”

****************

ایسے ہی لیل و نہار گزرتے گئے۔۔۔انشاء بڑی ہوتی گئی!۔
اب وہ قرآن بھی نہیں پڑھتی تھی۔
بابا کے جانے کے بعد اسے سب بکھرتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
ندا (انشاء کی ماں) نے عدت کے بعد گھر میں ہی سلائی وغیرہ شروع کردی تھی اور انشاء اکیڈمیی جاتی تھی پڑھانے۔ اسی طرح گزر بسر چلتا تھا۔
وہ ساتھ میں “بی ایس سی” بھی کر رہی تھی ۔
ماما کو اب انشاء کے رشتے کی فکر تھی۔
“عمر نکل رہی ہے اب انشاء کو بیاہ دیں”۔
اس سلسلے میں انہوں نے کچھ عورتوں کو بھی کہہ رکھا تھا اور وظیفے بھی لے آئیں تھیں ۔
رات کو انشاء اپنے بستر پر چت لیٹی مشعل سے بات کر رہی تھی ۔مشعل کی منگنی ہوچکی تھی۔ وہ بھیکافی اچھے گھرانے میں ۔ انشاء اسے اکثر چھیڑتی اور پھر خود اداس ہوجاتی کہ میرے ایسے نصیب کہاں! اور۔۔۔۔۔ رہی دعا!”وہ تو اب اس نے مانگنا ہی چھوڑ دی تھی”۔
مشعل سے اللہ حافظ کر کے وہ سونے ہی لگی تھی کہ
ماما اسکے پاس آ بیٹھیں ۔
بڑی شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اور کہنے لگیں۔
“میرا بچہ! میں بھی چاہتی ہوں کہ تم اپنے گھر کی ہوجاو۔”
انشاء نے جھٹ سے بولا ۔
“ماما فضول باتیں نہ کریں۔میں کہیں نہیں جاونگی۔”
لیکن مامانے جھڑک کے کہا۔۔۔
“چپ کرو۔۔۔۔۔تمھیں نہیں پتا۔۔۔۔۔لوگ کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں؟؟ میں اک وظیفہ بھی لائی ہوں صبح فجر کے بعد پڑھ لینا۔ اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے میری جان”۔
اس وقت ماں کے جذبات دیکھتے ہوئے تو کچھ نہ بولی۔
لیکن ماما کے جاتے ہی زاروقطار رونے لگ گئی۔

“کیوں اللہ تعالی؟؟؟ کیوں؟؟؟ میں نے کیا کمی کی تھی ؟؟ آپ کی عبادت میں !پھر کیوں آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا۔”
“میں نے آپ سے دعا کی مجھے میرٹ پر اسکالرشپ مل جائے ، میں بغیر فیس کے اپنے ہی شہر میں رہ کر اپنا کورس کرسکوں۔ میرے کیریئر کا سوال تھا۔میرے خواب تھے۔جو پورا ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گئے ۔آپ نے مجھے نہیں دیا ۔۔۔۔”

میں نے دعا کی “میرے بابا کا لاہور میں ٹرانسفر ہوجائے۔”
میرے بابا نے کتنی محنت کی تھی۔

“میں نے دعا کی کہ میرے با با کو کچھ نہ ہو لیکن!!! نہیں۔۔۔۔ آپ نے میری نہیں سنی ۔ اس بار بھی آپ نے مجھے تہی داماں لوٹا دیا۔”
اسی طرح وہ تکیے میں منہ چھپائے سسکتے سسکتے آنکھیں موندے نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔
رات کو اچانک سے تہجد میں آنکھ کھلی۔
وہ کبھی اٹھتی نہیں تھی۔۔ لیکن اس دن اٹھ گئی!! وضو کیا ، جائے نماز بچھایا اور۔۔۔۔۔”رب سے محو گفتگو ہوگئی” ۔
نماز پڑھ کر اس نے دعا نہیں کی لیکن دل کی للکار پر لبیک کہہ کر قرآن اٹھالیا۔ اسے استانی کی بات یاد آئی۔
اگر تم چاہتے ہو کہ “تمہارا رب تم سے گفتگو کرے تو قرآن پڑھا کرو”۔ اس پر اس نے وہی تاریخی جملہ مشعل سے کہا تھا کہ ۔۔۔
“سنتا نہیں وہ میری”
مشعل نے اصلاح کرنے کی کوشش کی اور بولی کہ
” سب جانتا ہے وہ ۔ انشاء اک پتہ بھی نہیں ہلتا اسکی مرضی کے بغیر!! ۔۔تو پھر تمہیں کیسے چھوڑ سکتاہے۔ ؟؟
اس پر انشاء نے اکتا کر منہ بسورے کہا!
“مجھے سمجھ نہیں آتا۔”
مشعل نے نرمی سے اسکا شانہ تھپک کر کہا !!
“اک دن سمجھ جاوگی۔”

شاید وہ آج کا ہی دن تھا ۔ شاید آج کی صبح کے سورج طلوع نے ہی انشاء کی زندگی کو روشن کردینا تھا۔
“انشاء نے آخر سے قرآن کھولا ۔”
اور عمہ پارے کی ” سورہ الضحی” پڑھنے لگی۔
جب اس آیت پہ آئی کہ !!
“تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ تم سے بیزار ہوا “۔
(آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے)۔
“اور پچھلی پہلی سے بہتر ہے”
“اور بے شک قریب ہے تمہارا رب تمہیں اتنا دیگا کہ تم راضی ہوجاوگے”۔
آیہ (4-2)
“بس رب کا یہ کہنا تھا اور وہ مان گئی “۔
کیونکہ!!! “ایمان والے تو وہ ہوتے ہیں نہ جنہیں جب حکم دیا جاتا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا ،اور مان لیا”۔ اسے قرآن پاک پر غلاف چڑھایا اور فجر کی اذان کا انتظار کرنے لگی۔ اس روز اسے بڑا سکون ملا تھا ۔
وہ اسی مطمئن چہرے کے ساتھ اب کالج کے لیے تیار ہورہی تھی۔ مامانے پوچھا!
“پھر وہ وظیفہ پڑھا” ؟؟؟
انشاء نے نفی میں سر ہلادیا ۔ بولی کچھ نہیں۔
اور ماما بڑبڑاتے چلی گئیں۔۔۔۔”کچھ نہیں ہونا اس لڑکی کا “۔
لیکن وہ بھی ماما کی ہی بیٹی تھی۔
جانتی تھی ۔”بات کیسے سنبھالنی ہے”۔لیکن اس وقت خاموش رہنا ہی غنیمت سمجھا ۔ وظیفہ تو وہ بھول ہی گئی تھی۔کالج جاکر بڑی گرمجوشی سے مشعل سے ملی۔
“آج وہ خوش تھی؟؟”
“یا مطمئن ؟؟”
پتہ نہیں ۔
اسلامیات کی کلاس میں آج استانی نے سوال جواب کا سیشن رکھا تھا ۔
“انشاء خاموش طبیعت کی بچی تھی۔البتہ ذہین تھی مگر کلاس میں بولتی نہ تھی ۔”
آج بھی اس نے خاموشی سے سیشن سننے کی ٹھان لی تھی۔
کئی کلاس فیلوز نے سوالات کیے اور استانی نے بڑے ہی مطمئن کن جاب دیے۔
اب مشعل نے بھی ہاتھ اٹھایا۔وہ پوچھنے لگی :
“میم! جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی انکے بارے میں کچھ بتائیے ۔انکا یہ نظریہ کس حد تک درست ہے؟؟؟؟”
انشاء ہکا بکا مشعل کو دیکھتی رہ گئی وہ اس حملے کے لیے تیار نہ تھی ۔لیکن تاثرات نارمل کیے استانی کو سننے لگی۔
استانی پہلے تو سوال سن کے مسکرائیں۔۔
اور پھر کہنے لگیں ۔
“بیٹاجی ۔۔۔ یہ جو انسان ہے نہ یہ بہت جلد باز ہے۔یہ چاہتا ہے کہ اسکی فورا سن لی جائے۔اور پھر جب فورا نہیں دیا جاتا تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔ دراصل انسان کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد اگر دعا سنی گئی تو کیا فائدہ؟؟ لیکن انسان وہ نہیں جانتا جو رب جانتا ہے ۔ وہ جلد بازی کر بیٹھتا ہے ۔ بہت سے لوگ تو اسی وجہ سے دعا کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں”۔
انشاء کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
چلیں ہم کچھ مثالوں سے اس بات کو سمجھتے ہیں ۔

“بیٹا آپ لوگ زکریا علیہ اسلام کو جانتے ہیں ؟؟۔”
سب نے اثبات میں سر ہلایا ۔
“جی بلکل بی بی مریم علیہ اسلام کے خالو۔ پتہ ہے آپکو اللہ تعالی نے انہیں حضرت یحیی علیہ السلام بڑھاپے میں عطا کیے تھے اور پتہ ہے بچوں حضرت زکریا علیہ السلام نے کیاکہا تھا؟؟جو سورہ مریم میں بھی ہے کہ
“اے میرے رب! میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا”۔
انکی دعا بڑھاپے میں قبول ہوئی لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اور ہماری طرح دعا کرنا نہ چھوڑا” ۔
وہ مزید بولیں۔
“حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو ہی دیکھ لیں۔ انہیں بھی تو حضرت اسحاق علیہ اسلام بڑھاپے میں عطا کیے گئے تھے
۔جب ولادت کی امید بھی نہ رہی تھی۔ لیکن رب جو چاہے ، جیسے چاہے ، جسطرح چاہے وہ کرنے پر قادر ہے۔ضروری نہیں بچوں! ہم جو دعا کریں ہمیشہ وہ پوری ہو ، اور اسی وقت پوری ہو کیونکہ ہم وہ مانگتے ہیں جو ہمیں اچھا لگتا ہے اور اللہ وہ دیتا ہےجو ہمارے لیے اچھا ہوتا ہے۔”اسلیے امید نہ چھوڑیں ۔اللہ سے امید نہیں بلکہ اللہ پہ یقین رکھیں۔ کیونکہ!! وہ ہر بندے کے ساتھ اسکے گمان کے مطابق ہوتا ہے۔ آپ جلد بازی کرکے اگر دعا نہ کرینگے ، اور ایسے کہیں گے کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی تو پھر آپکی دعا کیسے قبول ہوگی؟؟؟۔ کیونکہ آپ نے تو ناامیدی کو گلے سے لگالیا ہے ۔ بیٹا ! آزمائش تو ہر انسان کی زندگی میں آتی ہے۔ کوئی اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اللہ والا ہی رہتا ہے ، اور کوئی ایک آدھ چیز کے نہ ملنے پر ہی مایوس ہوجاتا ہے”۔
اتنے میں گھنٹی بجی اور پیریڈ آف ہوگیا۔

انشاء کا دماغ ماوف ہوچکا تھا ۔ وہ کچھ کچھ سمجھنے لگی تھی۔۔۔ کہ وہ غلط تھی۔۔ لیکن اب بھی کچھ گرہیں دماغ میں تھیں ۔جنہیں انشاء نے خود ہی کھولنا تھا ۔
کیونکہ راستہ دکھانے والا صرف راستہ دکھاتا ہے ۔ آگے راہی کو سفر خود طے کرنا ہوتا ہے۔ “انشاء کو بھی یہ گتھیاں خود ہی سلجھانی تھیں”۔اسے تنہائی چاہیئے تھی۔
وہ بنا کسی سے بات کیے۔ طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کرکے کالج سے گھر آگئی۔
گھر میں کوئی نہ تھا۔ ماما شاید بازار گئی ہوئی تھیں ۔
انشاء نے آکر پہلے منہ دھویا! خود کو فریش کیا ۔ اسکے بعد وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ گئی۔
ابھی ظہر میں خاصا وقت تھا! “لیکن اسے اپنے رب سے بات کرنی تھی کوئی نہ ہو بس وہ اور اسکا رب”۔
اسے صبح والی آیت یاد آئی!!
“تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ تم سے بیزار ہوا” ۔
” پچھلی پہلی سے بہتر ہے “۔
“اور بےشک قریب ہے تمہارا رب تمہیں اتنا دیگا کہ تم راضی ہوجاوگے”۔
سورہ الضحی آیہ:(-4- 2)

اب وہ کچھ کچھ سمجھنے لگی۔
اور وہ میم انہوں نے انبیائے کرام کی مثال دی ۔اسے شرمندگی ہوئی۔
“کبھی میرا دھیان کیوں اسطرف نہ گیا؟؟”
“ویسے تو دین کی بات آتی کوئی غیبت ، چغلی وغیرہ کی تو میں لمبی لمبی تقریریں کرکے لوگوں کی اصلاح کرتی تھی۔ لیکن میں خود کو ہی کیوں نہ سمجھ سکی ؟؟۔میں کتنا غلط تھی۔میں نے اللہ تعالی کو کتنا کچھ کہہ دیا ۔ لیکن اس نے پھر بھی مجھ سے کوئی نعمت نہیں چھینی۔۔۔۔ اس نے مجھے کتنے پیار سے سمجھایا نہ ، ڈانٹا نہیں کہ اب کیوں آئی ہو ؟؟؟ میں اسکی طرف گئ اور اس نے مجھے تھام لیا۔”

“سوری اللہ تعالی پلیز مجھے معاف کردیں ، میں شرمندہ ہوں۔میں نے جلد بازی کی۔”
اس نے بیچ سے قرآن کھولا!!
اور (سورہ یونس کی آیہ 89 تلاوت کی
ترجمہ پڑھا):

“فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی تو ثابت قدم رہو اور نادانوں کی راہ نہ چلو۔”
تفسیر پڑھی تو معلوم ہوا کہ!!
یہ آیت حضرت موسی علیہ اسلام کی نسبت سے ہے جب ُفرعون والوں کی ایمان نہ لانے کی امید رہی۔ تو موسی علیہ السلام نے دعا کی کہ ” یا اللہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں” اور ایسا ہی ہوا ۔لیکن حضرت موسی علیہ اسلام کی دعا 40 سال بعد قبول ہوئی”۔

انشاء نے قرآن بند کیا اور پھر سوچنے لگی !! “اوہ میرے خدایا موسی علیہ السلام کی دعا 40 سال کے بعد مقبول ہوئی اور میں فقط اسلیے مایوس ہوگئی کہ ٘پچھلے دو سالوم سے میری دعا نہ سنی گئی۔کہاں 2 سال اور کہاں 40 سال!! ۔ کہاں دو سال اور کہاں زکریا و ابراہیم علیہ السلام کا بڑھاپا۔”

اللہ تیرے تو نبیوں کی شان نرالی ہے۔ میں تو حقیر سی بندی ہوں ، اللہ میرا ایمان کہاں اتنا پختہ اللہ مجھے معاف کردینا۔

نماز پڑھ کر کھانا کھا کر قدرے مطمئن ہوکر وہ پلنگ پر لیٹی کہ اسے یاد آیا کہ مشعل کہتی ہے کہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔۔۔ “مطلب مجھے اسکالرشپ نہیں ملی ، ابا کا ٹرانسفر نہیں ہوا۔اس میں بھی مصلحت ہوگی ۔”
لیکن ایک بات نے اسکے دل کو چھلنی کردیا !اللہ تعالی۔۔۔!! “بابا کے جانے میں کیا مصلحت تھی؟؟؟”

“آپ نے میرے بابا کو کیوں لے لیا مجھ سے ؟؟؟”

انہی ملے جلے دکھ و سکون کے تاثرات میں وہ گم فیس بک کی وال پر پوسٹس دیکھے بغیر نیچے کیے جارہی تھی۔ ایک پوسٹ پہ وہ رکی اور پڑھنے لگی:

“جب کبھی تم پر دنیا تنگ ہونے لگے تو اس قصے کو یاد کر لیا کرو۔”
وہ سات بچوں کا باپ تھا۔
تین بیٹے اور چار بیٹیاں۔
اُس کا پہلا بیٹا دو سال چند ماہ کی عمر میں فوت ہو گیا۔
دوسرا بیٹا پندرہ ماہ میں چل بسا۔
تیسرا بیٹا سترہ ماہ میں داغ مفارقت دے گیا۔
اس کی پہلی بیٹی کی شادی ہوئی وہ 28 برس میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔
اس کی دوسری بیٹی کی شادی ہوئی وہ 21 برس میں اَللّٰہ کو پیاری ہو گئی۔
پھر اس کی تیسری بیٹی کی شادی ہوئی وہ بھی 27 برس میں اس جہاں فانی سے کوچ کر گئی۔
اس نے اپنے تمام بیٹے بیٹیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا۔
“اور اس کی اپنی رحلت کے وقت صرف ایک بیٹی دنیا میں رہ گئی تھی”۔
کیا تم نے جان لیا یہ کون تھا ؟؟؟
“یہ اَللّٰہ کے حبیب(صلی اللہ علیہ وآلہ سلم)۔ ”
آخری نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) اور امت کے غم خوار
“محمد بن عَبدُاللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تھے۔”

“جب کبھی تمہیں کسی سخت آزمائش یا دل چیر دینے والے غم کا سامنا ہو تو اپنے نبى(صلی اللہ علیہ وآلہ سلم) کے اس قصے کو یاد کر لیا کرنا۔”

“اوہ اللہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔۔۔ قربان جاوں ان پر ۔ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے بھول گئی”؟؟؟۔
آج سارے آنسوؤں کے بند ٹوٹ گئے تھے۔
آج اسے اسکے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے ۔آج وہ سمجھ گئی تھی کہ۔۔۔” پچھلی پہلی سے بہتر ہے”۔اس نے موبائل اٹھایا ، اور مشعل کو میسج کیا۔
“مشعل تم نے نہ کہا تھا کہ اک دن انشاء تم سمجھ جاوگی ۔میں سمجھ گئی مشعل ، میں سمجھ گئی۔ ”
سامنے سے مشعل نے۔۔۔۔” سمائلی فیس بیجھا۔”

اب ساری گتھیاں سلجھ چکی تھیں۔۔۔ اور وہ اپنی اس بیوقوفانہ حرکت پر قدرے شرمندہ بھی تھی ۔ یہ حرکت اسے جاہلانہ بھی لگی تھی۔۔۔۔۔لیکن اب کے پچھتانا بیوقوفی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس نے اپنی غلطی مان لی تھی۔اس نے اس حقیقت کی کسوٹی پر خود کو لاکھڑا کردیا تھا کہ “ہر چیز کا مقرر وقت ہے اور ہر چیز اپنے ہی وقت پر ملتی ہے۔ بس ہم بے صبرے بن جاتے ہیں۔”

“بعض اوقات آزمائشیں بھی انسان کو انمول بنانے کے لیے آتی ہیں۔ جسطرح سونے کو کندن بننے کے لیے جلنا پڑتا ہے ۔اسی طرح ! انسان کو بھی آزمائش کی بھٹی میں سلگنا پڑتا ہے۔ اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ جل جل کر کندن بن جاتا ہے یا پھر راکھ کا ڈھیر۔”

“اب اسکا یقین رب پر پختہ ہوگیا تھا ، اب وہ جس کشتی میں سوار ہونے کو تھی!!۔۔۔ اسکا چپو رب کے ہی ہاتھ تھا بس اب کشتی آر لگے ، یا پار لگے یا ڈوب جائے ، کیا فرق پڑتا ہے؟؟ وہ ہے نہ بچا لے گا”۔

**************

دن گزرتے گئے۔ انشاء کا بی ایس سی ہوگیا ۔اسی دوران اسکا رشتہ کسی اچھی جگہ سے آیا اور ماما نے ہاں کردی ۔
انہیں دنوں اسے پتہ چلا کہ!!
“جس میرٹ اسکالرشپ کے لیے اس نے دعاکی تھی۔ وہ جن لوگوں کو ملی تھی انہیں اب اسلام آباد شفٹ کردیا گیا تھا۔”
انشاء نے شکر ادا کیا کہ اگر اسے ملتی تو وہ ماما کوچھوڑکر تھوڑی جاتی۔۔۔۔

پھر اسکی ماما نے اسے بتایا کہ۔
“بابا نے جہاں اپنا ٹرانسفر کرانے کی کوشش کی تھی لاہور میں ، وہ کمپنی سیل ہوگئی ہے۔”
“اگر تمہارے بابا آج اس دنیا میں ہوتے تو بہت دکھی ہوتے۔”
“وہ کمپنی باباکو پسند جو اتنی تھی۔۔۔۔ وہاں کام کرنے والے مخلص تھے نہ امی۔؟” انشاء گویا ہوئی ۔

لیکن امی نے دوٹوک جواب دیا۔۔۔
“کوئی مخلص نہیں تھے
کتنے لوگوں سے فراڈ کرچکے تھے یہ تو شکر کرو تمہارے بابا کا ٹرانسفر نہ ہوا۔”

انہیں دنوں ماما کی طبیعت بھی کچھ خراب رہنے لگی تھی۔۔۔۔ انشاء کی شادی قریب تھی کہ ۔۔۔۔ماما کو فالج کا اٹیک ہوگیا۔
لیکن وہ اس بار مایوس نہیں بلکہ پر امید تھی۔
“اسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شدت سے یاد آئی۔ ” اس نے ہمت نہ ہاری۔۔۔ اور یہ بھی سمجھ گئی کہ۔۔۔”بابا ہوتے تو ماما کی یہ حالت نہ دیکھ سکتے”
اس نے دعا کی کہ اللہ تعالی اسے ہمت دیں۔ آمین

****************

۔۔دو سال بعد۔۔

اب وہ نا صرف اپنی ماں کی خدمت کیا کرتی تھی۔ بلکہ اپنی ازدواجی زندگی میں بھی بہت خوش تھی ۔
“غرض ایک مثالی بیٹی اور ایک مثالی بیوی”۔

“یہی انشاء جو کبھی دعا قبول نہ ہونے کے رونے روتی تھی آج سب کے لیے دعائیں بھی کرتی تھی اور سب سے دعائیں بھی لیتی تھی”۔

ختم شد۔

مہرین سلیم کے مزید ناول اور افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply