Afsaanay Afsana

Mohabbat Reh Gai Hai Bus Time Pass By Mehreen Saleem Urdu Afsana

محبت رہ گئی ہے بس ٹائم پاس

اردو افسانہ

مہرین سلیم

“شام ڈھلنے کو تھی ، تندو تیز ہوائیں طوفانی بارش کی پیشن گوئی کررہی تھیں ، کالی گھٹائیں چھانے والی تھیں ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا بارش ہوجائے گی ۔۔

عالیہ ان کالے بادلوں پر نظر ٹکائے اپنی انگلی میں زلفوں کو لپییٹتی اور کافی کو لبوں سے لگاتی اس سہانے موسم سے لطف اندوز ہونے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ لیکن بار بار وہ اپنی نگاہیں دور پڑے سیمسنگ گیلیکسی پر لے جاتی اور پھر دوبارہ شکست خوردہ نگاہوں سے کالے بادلوں میں لپٹے نیم سیاہ آسمان کو تکنے لگتی۔۔۔۔

اب کے عالیہ کے ماتھے پر پڑی شکنجیں کچھ تشویش کا شکار تھیں کہ “پورے 5 منٹ گزر چکے ہیں لیکن اب تک سارم کا کوئی رپلائے نہیں آیا”۔۔۔

اسکے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار نمودار ہوئے ، جب کمرے میں آکر سارم کو کال ملائی اور جواب میں کال کاٹ دی گئی۔۔۔۔ وہ عجب تذبذب کا شکار تھی کہ پہلی بار سارم نے اسکی کال کاٹی ہے۔۔۔ وہ خاصی ہرٹ ہوئی تھی کہ اسے سارم نے ان دو مہینوں میں پہلی بار نظر انداز کیا تھا ۔۔۔

دوسری جانب سارم موسم کی خراب صورت حال اور شدید ٹریفک کے باعث راستے میں دشوار مراحل سے گزر رہا تھا ۔ وہ خود پریشانی کے عالم میں محو غرق تھا کہ گھر کیسے پہنچے گا ۔۔۔۔اور ایک عالیہ نے اسکی زندگی عذاب بنا کر رکھ دی تھی۔۔۔ اسے اس دن بڑی ہی شدت سے احساس ہوا تھا کہ ٹائم پاس کے نام پر کتنی بڑی مصیبت اس نے اپنے گلے سے لگالی ہے۔۔۔۔

“گویا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ لڑکی اسکے گلے میں کسی ہڈی کی سی مانند اٹکی تھی کہ جو نہ ہی نگل رہی تھی اور نہ ہی اگل رہی تھی”۔۔۔

لہذا اس نے ٹھان لیا تھا کہ اب وہ ڈارلنگ ، شونا ، مونا اور بے بی بول بول کر اکتا چکا ہے۔۔۔۔ اب اسے ان چکروں سے خلاصی چاہیئے۔۔۔۔

” اور سارم کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ تو ٹائم پاس کررہا ہے اور رہی عالیہ وہ بے وقوف لڑکی ٹائم پاس کا مطلب سمجھنے کے بجائے اسکے بے پناہ عشق میں پاگل ہوچکی ہے”۔۔۔۔۔

جان کی امان پاکر جب وہ گھر پہنچا اور اپنے سائلنٹ موبائل کو چیک کیا ۔۔۔تو حقیقت واضح ہوئی کہ تقریبا عالیہ کی 10 سے زائد مسڈ کالز لگی ہوئی تھیں ۔۔۔۔دو تین بار تو اس نے خود ہی کاٹ دیا تھا ۔۔۔ خیر فریش ہوکر کھانا کھا کر وہ بیڈ پر لیٹا۔۔۔ اسے کال ملانے لگا ایک ہی گھنٹی پر اسے ریسیو کرلیا گیا ۔۔۔۔ “ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا موبائل کو وہ لڑکی اپنے ہاتھوں میں چپکا کر ہی بیٹھی تھی۔۔۔ یا پھر موبائل کے نشے میں مصروف تھی کہ یوں کال ملائی اور یوں ریسیو ہوئی “۔۔۔۔

“کہاں مرگئے تھے تم ؟؟”۔۔۔

عالیہ کسی شیرنی کی مانند غرانے لگی ۔۔۔

وہ اتنی ہائی پچ سے چیخیی تھی کہ سارم کے کانوں سے سیٹیاں بجنے لگیں اور وہ غصے سے مخاطب ہوا۔۔۔

” او ہیلو آرام سے ذرا”۔۔۔۔

ساتھ ہی عالیہ کی سسکیوں کی آواز جب اسکے کانوں سے ٹکرائی تو لہجہ کچھ نرم پڑا۔۔۔ اور پھر محبت آمیز لہجے میں سارم مخاطب ہوا کہ کیا ہوگیا بھئی؟؟ !! کیوں اتنا رو اور پیٹ رہی ہو کونسا میری موت ہوگئی ہے!!۔۔۔۔

اس بات پر عالیہ مزید چیخنے لگی کہ ایسی بات کبھی غلطی سے بھی نہ کہنا!!۔۔۔۔ وہ اسکی زندگی ہے اور وہ اسکے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتی۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اس نے سارم کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا کہ پچھلے دو گھنٹوں سے وہ روئے جارہی تھی کہ سارم کال کیوں نہیں اٹھارہا!!۔۔۔

دوسری جانب سارم کے چہرے پر ابھری تلخ مسکراہٹ اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ وہ اس لڑکی کو اپنے شکنجے میں پھنسا چکا ہے۔۔۔ لیکن بہت جلد ہی وہ اس سے پیچھا چھڑانے کا سامان بروئے کار لانے والا ہے۔ وہ اس خوش فہمی میں تھا کہ بے چاری عالیہ کو اسکے کیے ہوئے سارے جھوٹے وعدے سچ لگ چکے ہیں۔۔۔اور وہ اپنے ہی ہاتھوں خود کو برباد کرنے کے درپے ہے ۔۔۔۔

اور پھر سارم کال پر یہ کہہ کر عالیہ کو بہلا لیتا ہے کہ “راستے میں پھنس گیا تھا اسلیے کال ریسیو نہ کرسکا اور باقی باتیں وہ لوگ مال روڈ پر موجود سوپ کارنر میں کرینگے” ۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر سارم نے کال کاٹ دی اور عالیہ کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔۔۔

کیا واقعی وہ اسکے عشق میں پاگل ہوچکی تھی ؟؟؟

حالانکہ وہ جانتی تھی کہ سارم اس سے پہلے دو لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرچکا ہے۔۔۔۔ لیکن کیا اب وہ خود بھی یہی غلطی کرکے سارم کی ہیٹرک مکمل کرنے جارہی تھی؟؟؟ ۔۔۔۔ یا حقیقت کچھ اور تھی؟؟

اسکا فیصلہ تو اب وقت نے ہی کرنا تھا ۔۔۔۔

دوسرے دن دوپہر دو بجے کے قریب سارم سوپ کارنر میں پوری تیاری کے ساتھ اپنا آخری داو لگانے آیا تھا ۔۔۔۔کہ آج تو اس چڑیل سے پیچھا چھڑا کر ہی دم لینا ہے!! ۔۔۔۔

کیونکہ اب مزید وہ روز روز کے چکروں سے تنگ آچکا تھا اور اپنے بینک اکاؤنٹ کافی حد تک تحفے تحائف سے خالی کرواچکا تھا۔۔۔۔ ہاں وہ کسی حد تک عالیہ میں انٹرسٹڈ بھی تھا۔۔۔۔۔ لیکن نہیں نہیں اب اسکا دل بھر چکا تھا اور وہ بیزار ہوچکا تھا۔۔۔۔ کیونکہ محبت تو اسے ہوئی ہی نہیں تھی کہ جدائی ناممکن لگتی کیونکہ وہ تو ٹائم پاس کررہا تھا۔۔۔لہذا اس نے کنارہ کشی کا پلین بنایا۔۔۔۔۔

ان سب باتوں سے ناآشنا بے چاری عالیہ کالے سوٹ میں ملبوس ،آنکھوں پر کالہ چشمہ لگائے ، بال کھلے چھوڑے، ہیل والی سینڈل پہنے اور ہلکا میک اپ کیے کافی ڈیسنٹ اور خوبصورت لگتی تھی۔۔۔ پتہ نہیں آخر اس نے اس کھڑوس سارم میں ایسا کیا دیکھ لیا تھا البتہ سارم کے جیل سے چپکے ہوئے بال اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں پر اتنے بڑے بلیک گوگلز سجائے تھے کہ گویا اندھے کی بھی بینائی لوٹ آئے۔۔۔۔

وہ موبائل پر انگلیاں چلاتا تو کبھی اپنی کاکروچ کے اینٹینا نما مونچھوں کو گھماتا عالیہ کے انتظار میں مصروف تھا۔۔۔

اسی اثناء سامنے سے آتی عالیہ نے اسکی توجہ کو پورا اپنی طرف مرکوز کردیا تھا۔۔۔۔ وہ خاصی اچھی لگ رہی تھی لیکن سارم کی یہ اس سے آخری ملاقات تھی اس پر وہ ذرا پشیمان بھی تھا۔۔۔۔ لیکن کیا کرتا کہ اب اور برداشت کی سکت نہیں رہی تھی۔۔۔۔ نہ ہی کانوں میں عالیہ کی چیخیں سننے کی اور نہ ہی جیب میں اسکے اخراجات برداشت کرنے کی!!!۔۔۔۔

خراماں خراماں چلتی عالیہ اسکی سامنے والی کرسی پر آبیٹھی تھی۔۔۔ چونکہ سردی کا موسم تھا۔۔۔ لہذا ہیٹر کی گرمائش ماحول کو گرما رہی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی سوپ کی اٹھتی بھاپ فضاء میں تازگی اور طبیعت میں فرحت کا احساس غالب کررہی تھی ۔۔۔۔ دونوں نے ایک سے ہی چکن کارن سوپ کا آرڈر دیا۔۔۔۔

اور پھر عالیہ نے انگلیاں مڑوڑتے بات شروع کی۔۔۔۔

“ہاں تو سارم تمہیں کیا بات کرنی تھی؟؟”

“بولنے کو بچا ہی کیا ہے اب؟؟؟۔۔۔۔”

سارم نے دکھی آواز سے عالیہ کو مخاطب کرکے کہا۔۔۔۔۔

” بولو نہ سارم کیا بات ہے ؟؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟؟ مجھے بتاو ۔۔۔۔”

عالیہ مجھے اپنی انکھوں پر یقین نہیں ہورہا۔۔۔۔ کہ تم ایسا کرسکتی ہو میرے ساتھ۔۔۔۔

“لیکن میں نے کیا کیا؟؟؟ “

عالیہ تشویش کا شکار ہوئی ۔۔۔

“کس قدر ٹوٹ کر میں نے تمہیں چاہا تھا اور تم نے مجھے دھوکا دیا ۔۔۔۔ مائے گاڈ میں نے تمہیں اتنے مہنگے مہنگے تحائف دیے ، تمہاری ساری خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔ اور تم نے کیا کیا؟؟؟۔۔۔۔”

“ونڈر فل!! اس نے انگلی اٹھا کر عالیہ کی طرف اشارہ کیا تم نے میری پیٹھ میں ہی چھرا گھونپ دیا لڑکی۔۔۔۔۔ میں تو تمہیں معصوم سمجھتا تھا لیکن تم تو کسی اور کے ساتھ بھی گھوممتی پھرتی ہو اور یہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔۔ “

واٹ!! عالیہ کے تو گویا پیروں تلے زمین کھسک گئی۔۔۔۔ انسان ہر چیز برداشت کرسکتا ہے لیکن عزت نفس جس سے مجروح ہو اس پر روح بھی تڑپ اٹھتی ہے۔۔۔

عالیہ مشکل ضبط کرکے بولی ۔۔۔۔

“سارم تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو ۔۔۔۔خدارا ایسا نہ کرو میری کردار کشی نہ کرو۔۔۔۔ “

“کردار کشی انکی کی جاتی ہے کہ جنکا کوئی کردار ہو عالیہ!!۔۔۔۔

تم تو ہو ہی کریکٹر لیس تم نے مجھے دھوکا دیا ہے اور میں بس یہی کہنے آیا ہوں کہ یہ میری اور تمہاری آخری ملاقات ہے ۔۔۔۔۔اب مزید مجھ سے کبھی بات کرنے کی جرات بھی نہ کرنا لڑکی ڈیم اٹ!!۔۔۔”

سارم نے اپنا فیصلہ صاف لفظوں میں سنادیا ۔۔۔۔۔ کسی جج کی مانند کہ جس نے فیصلہ سنا کر قلم کی نوک توڑدی ہو۔۔۔ اور اب اس فیصلے میں ردو بدل کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی ہو۔۔۔۔ اور یہ فیصلہ اس قدر ناانصافی پر مبنی تھا کہ حریف کی سنے بغیر ہی سولی پر چڑھانے کا حکم صادر کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن کون جانے اور کون بتائے؟؟ کہ۔قسمت کی دیوی کب مہربان ہوجائے۔۔۔۔

عالیہ اپنے ہاتھوں میں سر لیے بلکنے لگی ، تڑپنے لگی، بلکنے لگی۔۔۔ اپنی محبت کی بھیک مانگنے لگی ۔۔۔۔اور سارم اس سارے تماشے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے موبائل میں موجود عالیہ کی کسی اور لڑکے کے ساتھ گرافکس سے عالیہ کو فکس کی ہوئی تصویر دکھانے لگا۔۔۔۔

“یہ دیکھو میڈم تمہارے کارنامے۔۔۔۔ خیر تم اپنے دوسرے بی ایف کے ساتھ خوش رہو ۔۔۔۔ میری طرف سے اللہ حافظ۔۔۔۔ “

اک پل کو ایسا لگا کہ سارم نے عالیہ کی زندگی برباد کردی ہے وہ جسے اپنی زندگی کہتی تھی وہی اسکی زندگی کی ڈور کاٹ کر جارہا تھا ۔۔۔۔ اور وہ بھی اس قدر گھٹیا الزام لگا کر۔۔۔۔

سارم اٹھنے ہی لگا تھا کہ عالیہ نے اپنا سر اٹھایا اور زور زور سے ہنسنے لگی۔۔۔۔۔ ہاہاہا ہاہاہاہا۔۔۔۔

سارم کو خاصی حیرت ہوئی!! ۔۔۔۔

“ارے کھوتے تم کیا سمجھے تھے کہ تم مجھ پر الزام لگاو گے اور میں ماتم کرونگی۔۔۔۔ تمہارے ہاتھ جوڑونگی ، تمہارے پاوں پڑونگی کہ پلیزز مجھے چھوڑ کر مت جاو میں تمہارے بغیر زندہ بھی نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔ یہ تو تمہاری خوش فہمی ہے کہ میں نے تمہیں منہ لگایا ورنہ تمہاری مونچھوں کو دیکھ کر ہی ابکائی آجاتی ہے ۔۔۔۔ اور ہاں مزے کی بات یہ کہ۔۔۔۔۔۔

بے وقوف انسان تمہارا اگر یہ تیسرا فلرٹ ہے۔۔۔۔ تو میرا بھی پانچواں ہے”۔۔۔۔۔ آیا بڑا تیس مار خان!!!۔۔۔۔۔

تم اگر سیر ہو تو میں بھی سوا سیر ہوں مسٹر!!۔۔۔۔

غرض اک فاتحانہ مسکراہٹ لیے وہ کرسی دور کیے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔

رہا سارم تو اسے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اس چکن سوپ میں پڑی چکن بھی اسکی حالت پر ہنس رہی ہے۔۔۔۔۔ اس قدر انسلٹ اففففف زندگی تو وہ عالیہ کی خراب کرنے گیا تھا۔۔۔۔ اور شاید وہ اسکی خراب کرکے چل دی تھی۔۔۔۔۔۔

درحقیقت اس دن احساس ہوا کہ آجکل محبت کہیں معدوم ہوچکی ہے اور ٹائم پاس اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے۔۔۔۔ محبت تو وہ تھی کہ جو پنو کو سسی سے ہوئی تھی ، جو فرہاد کو شیریں سے اور رانجھا کو ہیر سے ہوئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ محبت لباس نہیں ہے کہ جسے روز بدلا جائے بلکہ محبت تو کفن ہے کہ جسے پہن کر کبھی اتارا نہیں جاتا۔۔۔۔۔

اور جناب آجکے اہل دل کے تو کیا کہنے

عمر اگر سولہ ہے تو عشق سترہ ہے!!۔۔۔۔

ختم شد

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *