na shukri aurtain
Mehreen Saleem Paragraph Story

Na Shukri Aurtain By Mehreen Saleem

Short Story Na Shukri Aurtain

na shukri aurtain
na shukri aurtain

Mehreen Saleem

ایمن بڑی ہی یکسوئ اور مہارت کے ساتھ اپنے ایپل موبائل فون کی ایک ایپ کھولتی تو دوسری بند کرتی!! ابھی ہی تو اسکے شوہر ثاقب نے اسے گفٹ کیا تھا!!۔۔۔۔

“جب انکی شادی کی سالگرہ تھی”۔۔۔۔

حالانکہ کچھ عرصہ پہلے ہی ایمن کی ضد پر اسے سیمسنگ گیلیکسی دلادیا تھا !!! لیکن وہ چونکہ پانی کی نذر ہوچکا تھا اور شہادت کا درجہ پاچکا تھا۔۔۔ اسکی شہادت پر ایمن کی آنکھوں میں آنسوں ضرور تھے ، لیکن اسکے آنسوؤں نے جلد ہی اک نئے سیاپے کا رخ کیا۔۔ اور وہ دوبارہ سے ضد کرنے لگی کہ۔۔۔

” اسے ایپل آئ فون سے نوازا جائے!!!!”

کیونکہ سیمسنگ اب وہ چلاچکی ہے۔۔۔۔۔ جو اب اسے کھٹارہ لگتا ہے!!!

غرض قسمت کا مارہ ، بے چارہ شوہر (ثاقب) یہاں آ پھنسا !!۔۔۔۔ کہ ایپل آئ فون کی قیمت جتنی ہے اتنی تو بے چارے کی تنخواہ بھی نہ ہے۔۔۔

حتی کہ جوڑ توڑ کرکے لون لے کر بیوی کی خواہش پوری کی!!!

لیکن ادےےےےےے ارےےےے یہ کیا !!!! آج رات پھر دونوں میاں بیوی کا جھگڑا ہوگیا!!!!

آخر کیوں؟؟؟
“کیونکہ ایمن کو ایپل آئ فون کے فیچرز سمجھ نہیں آرہے تھے ۔ اب وہ بضد تھی کہ یہ بیچ کر مہنگے والا سیمسنگ ہی دلادیں!!!!”

جس پر شوہر صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا!! اور وہ بھڑک اٹھے !!! ایمن نے مائیکے جانے کی دھمکی دے دی۔۔۔۔۔ کیا کرتے بے چارے دوبارہ فون بدل کر لائے ۔۔۔۔۔ اب تو حالات ایسے تھے کہ کہیں روڈ پہ نہ آجاتے!!!

لیکن انہیں کیا خبر کہ ایک اور مصیبت انکا انتظار کیے ، راہوں میں پلکے بچھائے انکی نذر ہونے والی ہے۔۔۔۔۔۔

جب آفس سے گھر آئے تو معلوم ہوا کہ ایمن ناراض ہوکر مائیکے چلی گئ ہے۔۔۔۔۔

او تیری!!! اب کیا ہوگیا بھلا!!!!

دراصل موبائل تو آگیا تھا لیکن چارجر اور ہینڈز فری لانا وہ بھول گئے تھے ۔۔۔۔ اور ایمن کو لگا کہ جان کے نہیں لائے لہذا وہ ناراض ہوکرچلی گئ ہے۔۔۔۔۔

“اوراب یہ مطالبہ ہے کہ میاں صاحب خود چارجر اور ہینڈز فری دینے مائیکے آئیں پھر وہ انکے ساتھ گھر آئے گی یہ انکی چھوٹی سی غلطی کی سزا ہے”۔۔۔۔

“عجیب ناشکری عورت ہے یہ ایمن!!!”

کال بھی نہیں اٹھارہی!!۔۔۔۔

ابکی بار وہ بھڑک اٹھے ۔۔۔۔۔

لیکن آخر کو پسند کی شادی تھی اور یک طرفہ محبت بھی تھی !!! لہذا ثاقب صاحب کو اپنی انا کا مینڈھا ایمن کی محبت کے آگے قربان کرنا پڑا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ ہینڈز فری اور چارجر دینے کے بعد بھی یہ عورت خوش نہین ہوگی!!! پھر کوئ نیا بکھیرا کھڑا کریگی۔۔۔۔

اففففف!!!! یہ عورتیں اتنی ناشکری کیوں کوتی ہیں؟؟؟

وہ خود سے سوال کرنے لگے۔۔۔۔

لیکن خیر وہ اپنی قسمت پر چارو ناچار سمجھوتا کرچکے تھے!!!

وہ دوسرے دن صبح تیار ہوکر ، اپنی ساس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔۔۔۔

چونکہ ایمن اکلوتی بیٹی تھی لہذا نازوں میں پلی بڑی تھی اور آسائشوں میں کھیلتی تھی۔۔۔ جو اب کسی ہڈی کی طرح بہت ہی بری طرح سے ثاقب صاحب کے گلے میں اٹکی تھی کہ نہ نگل رہی تھی اور نہ ہی اگل رہی تھی!!!

وہ اس پل کو یاد کررہے تھے جب انہوں نے پہلی مرتبہ ایمن کو دیکھا تھا اور بے خود ہوگئے تھے ۔۔۔۔ گھر آکر ضد کی تھی کہ شادی کرونگا تو اسی سے!!!!!

اور پھر شادی ہوگئ اب وہ کیا اپنی قسمت کو کوستے کہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری تھی۔۔ اور۔۔۔۔ “اب کیا پچھتائے حوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت!!!”

خیر وہ جب ساس کے گھر پہنچے تو وہاں عجب گہما گہمی کا عالم تھا ایسا لگتا تھا شاید کسی کی لڑائی ہورہی ہو!!!

جب دہلیز کے اندر قدم رکھا تو پھر بھی ماجرہ سمجھ نہ آیا!!!!

کیا بات ہے آخر؟؟؟

جب مزید اندر گئے اور کمرے تک پہنچے تو پھر حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوئی کہ ساسو ماں سسر صاحب سے لڑ رہی ہیں!!! جو اٹھ کر ناراضگی کا اظہار کرکے جا رہے تھے۔۔۔۔۔

جب سسر صاحب سے ٹکراو ہوا تو فقط وہ ایک جملہ بول کر باہر تشریف لے گئے کہ:

” یہ عورتیں کسی حال میں خوش نہیں رہتی!!!”

ساسو ماں الگ ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے منہ سے انگارے نکال کر ماحول کو گرم کررہی تھی!!۔۔۔۔

اور رہی ایمن وہ بھی اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملا کر انکو شے دے رہی تھی!!!!

ہوا کیا ہے ایمن؟؟؟ ابکی بار ہمت باندھ کر پوچھ ہی لیا !!

ارےےےے ہونا کیا ہےےےے ۔۔۔۔ ساسو ماں پھنکاری!!

یہ تمہارے سسر عجیب ہیں ۔!!!!

اپنی بہن کو پورے1000 روپے دے کر آئے !!!

ارےےےے ابھی ہی تو عید پر لفافہ بھیجا تھا !!!

اب اتنا مہربان بننے کی کیا ضرورت تھی بھلا!!! مجھے تو کبھی جھوٹے منہ 500 بھی نہیں دیے۔۔۔۔

لو یہ کوئی بات ہے !!! دل بڑا رکھیں امی۔۔۔۔

کیا ہوگیا دے دیا تو بہن ہی تو ہے نہ!! ثاقب نے ہمت کرکے بم پھینک دیا!!!

لیکن وہ راکٹ لانچر کی صورت میں انہی کی طرف آگرا۔۔۔ جب ایمن نے کہا کہ۔۔۔” آپ تو چپ ہی کریں”۔۔۔۔

اچھا امی چھوڑیں نہ اب !!! ابا نے جو نئی سونے کی چوڑیاں آپکو بنوادی ہیں وہ تو دکھائیں ذرا ۔۔۔۔ ایمن اپنی ماں کے تپتے ہوئے مزاج پر برف رکھنے لگی!!!

ہاں ہاں بیٹا چلو دکھاتی ہوں ۔۔۔ لیکن تمہارے کنجوس باپ نے بس دو ہی بنوادی میں نے تو چار کی فرمائش کی تھی!!!!

آج پھر سے ثاقب کے ذہن پر اس سوال نے دستک دی کہ: ” آخر عورتیں اتنی ناشکری کیوں ہوتی ہیں؟؟؟”

(واللہ عالم)۔۔۔۔۔

انہی چہ مگوئیوں میں کھانے کے انتظار میں ثاقب ادھر ادھر دیکھتا کہ پتہ نہیں کھانا کب ملیگا؟

اور بیگم صاحبہ واپس چلینگی بھی یا نہیں!!!!!

لیکن خاموش رہنے میں ہی جان امان پائی اسلیے کچھ نہ بولے!!!!

ابھی کچھ ثانیے گزرے ہی تھے کہ ایمن کی کزن طیبہ اپنے بچوں سمیت آ پہنچی!!

وہ ہلکے گلابی کلر کے فروک میں کافی ڈیسینٹ اور اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔ ابھی صرف اس کی جانب آنکھوں نے نظر اٹھائی ہی تھی کہ ایمن کی نگاہوں سے انگارے نکلکنے لگے اور وہ کھنکار کر باہر چلی گئی ۔۔۔”یعنی ڈینجر زون کا سگنل دے کر گئی تھی کہ اب دوبارہ بھولے سے بھی طیبہ پہ نظر نہ پڑنے پائے !!!”

اسی دوران طیبہ اپنے بیٹے کو ڈانٹنے لگی جو ایمن کے بھائی سعد کے لیپ ٹاپ کے ساتھ چھیڑ کھانی کررہا تھا!!

یہ وہی لیپ ٹاپ تھا جو پرائم منسٹر لیپ ٹاپ اسکیم سے سعد کو ملا تھا لیکن نوٹ بک جتنا تھا اس پر طیبہ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ارےےے اتنا چھوٹا لیپ ٹاپ ہے۔۔۔۔ نہیں چھیڑو اسکو ۔۔۔ خراب نہ کردو کہیں!!!

ویسے سعد اتنا چھوٹا ملا ۔۔۔ پہلے تو بڑا دیتے تھے!!! سعد نے دوٹوک انداز میں کہہ ڈالا باجی ہم اس میں بھی خوش ہیں۔۔۔۔ “اور رہے آپ لوگ وہ تو کسی حال میں خوش نہیں ہو!!!”

سعد یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔ امی اسے ڈپٹنے لگی!!!

ثاقب نے سعد کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اسے لے کر باہر راہداری میں سسر کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔ جو اب ٹھنڈے ہوچکے تھے!!!

اب کھانے کا آسرہ تو معدوم ہوتا نظر آرہا تھا ۔۔۔پتہ نہیں کیا عجب مصیبت گلے میں آپھنسی تھی!!! ۔۔۔۔۔۔

اب کرتے تو کیا آخر؟؟؟

لیکن اسی وقت قسمت نے انگڑائی لی اور ایمن آکر کھانا لگ جانے کی نوید سنانے لگی ۔۔۔ وہ ابھی اٹھ ہی رہے تھے کہ ایمن نے ہاتھ آڑہے کر کے روک لیا!! پہلے میری ہینڈز فری اور چارجر دیں ۔۔۔ پھر کھانا ملے گا!!! آخر کو جیب سے نکال کر ثاقب صاحب انکے ہاتھ میں ہینڈزفری اور چارجر رکھتے ہیں۔۔۔۔ لیکن ارےےےےےےے یہ کیا!!!

پھر سے ہال لڑائی سے گونجنے لگتا ہے کہ ہینڈزفری کا ایک ائیر فون ٹوٹا ہوا نکلا تھا!!!!

“ثاقب صاحب سمجھا بجھا کر جیسے تیسے بیگم کو گھر لے آئے” ۔۔۔۔

گھر آئے تو ثاقب کی بہن انکے انتظار میں بیٹھی تھی کہ بھائی سے مل کر جائے۔۔۔۔
اسی دوران بہن جویریہ کے فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔ اسکے میاں کی کال آرہی تھی کہ نیچے آجاو ۔۔۔۔ وہ پوچھنے لگی کہ کونسی کار لے کر آئے ہیں؟؟ اور پھر سامنے سے “مہران کار ” کا نام سن کر ہی منہ بنانے لگی!! اور جھٹ سے کال کاٹ دی۔۔۔۔

ثاقب صاحب پوچھنے لگے کہ کیا ہوگیا ؟؟؟
کیا ہونا ہے بھائی !!! یہ مہران کار لے کر آئے ہیں لینے۔۔۔۔ بندہ میرہ لے آئے یا کوئی اور ۔۔۔۔😥😥 یہ مہران بھی کوئی کار ہے کیا!!! ابکائی آجاتی ہے اسمیں بیٹھ کر!!!!
“چلو اب میں چلتی ہوں”۔۔۔۔۔ جویریہ اداس ہوکر جانے لگی!!
ثاقب صاحب ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ صوفے سے اٹھے۔۔۔۔۔۔۔

“یہ عورتیں!!! اففففف کسی حال میں خوش نہیں”😁😁

ختم شد۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *