Pachtawa by Kanwal Ejaz Urdu Afsana

Pachtawa by Kanwal Ejaz is Urdu Afsana and is very interesting Urdu collection written by very talented Kanwal Ejaz who is famous Urdu Novels Writer and written many Urdu columns and novels..

Pachtawa is Reality based Urdu Afsana and it is a story about social topic and very common issue Avidity that ruins many of the relations and sometime one becomes own enemy. Read here complete story and learn what happened next.. Very Romantic Urdu Novel that you will love reading.

About Kanwal Ejaz

Kanwal Ejaz is very talented and rising Urdu writer who has been writing for not so long time but gain population in different areas of internet social media by her attractive writing skills. Also she has written beautiful columns in News paper.

Thank you for your time and visit Urdu Kitabain. Here you can read and download complete novel by Kanwal Ijaz.

 

پچھتاوا

رات کی تاریکی ہر سو پھیل رہی تھی….. رزق کی تلاش میں گرداں پرندہ بھی اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے…. وہیں اس چھوٹے سے بنگلہ نما گھر میں بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی….تاریکی میں ڈوبا گھر بھی اس تاریک رات کا ہی حصہ لگ رہا تھا…ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس گھر میں کوئی موجود نا ہو….مگر یہ تاریکی میں ڈوبا گھر اکیلا نہیں تھا….یہاں اک کمزور وجود موجود تھا…… جو اب بس تاریکی کا حصہ بن گیا تھا….. آج بھی دروازے کو تکتے ان کی آنکھوں سے نکلے آنسو بے مول ہوتے تکیے میں جذب ہوۓ تھے…ان کا انتظار آج بھی رائیگاں گیا تھا….. آج بھی ان کی بوڑھی آنکھیں دروازے کو تکتے تکتے بند ہوئیں تھیں………
__________________________
“بابا…… مجھے جلدی سے ناشتہ دے دیں نا….مجھے سکول سے دیر ہو جاۓ گی…. ”
تیرہ سالہ ارم کندھے پر سکول بیگ لٹکاۓ منہ پھلاۓ کرسی پر بیٹھتے بولی تھی
“بس ابھی بابا اپنی گڑیا کے کے لیے ناشتہ لاۓ”
مسکرا کر کہتے انہوں نے ناشتہ کی ٹرے اس کے سامنے رکھی تھی…..
“بابا علی ابھی تک سو رہا ہے….. ”
ناشتہ کے دوران وہ شکایت لگاتے انداز میں بولی تھی..
وہ اپنی بیٹی کو یوں شکایتی انداز میں بولتے دیکھ مسکرا دیے تھے…..
___________________________
احمد صاحب کی شادی بائیس برس کی عمر میں ہوئی تھی…. شادی کے ایک سال بعد اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے نواز دیا تھا…وہ اسی ننھی سی گڑیا کو ہاتھوں میں اٹھا بہت خوش ہوۓ تھے…..گڑیا کا نام ارم بھی انہوں نے ہی رکھا تھا…..جب ارم تین سال کی ہوئی تو اللہ نے ان کو اپنی نعمت سے بھی نواز دیا….. مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا…..بچے کی پیدائش کے وقت کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے انہوں نے اپنی بیوی کو کھو دیا……شمائلہ بیگم کی رفاقت میں بس پانچ برس کا عرصہ گزارا تھا….. مگر انہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہی پانچ سال ان کی پوری زندگی گزارنے کے لیے کافی تھے…….اپنی بیوی کی وفات کے بعد وہ بکھر گئے تھے… مگر انہیں خود کو سنمبھالنا تھا….. اپنے لیے نہ سہی مگر اپنے بچوں کے….انہیں سب نے بہت کہا کہ وہ دوسری شادی کر لیں….. مگر انہوں نے نہیں کی…وہ جانتے تھے کہ اگر وہ شادی کر لیتے تو ان کے بچے بکھر جاتے….. اور وہ اپنے بچوں کو بکھرتے نہیں دیکھ سکتے تھے……
وقت کا کام گزرنا ہے اور وہ گزرتا چلا جاتا ہے….. مگر کسی کے بچھڑ جانے سے زندگی نہیں رکتی….. احمد صاحب نے خود کو بہت مضبوط کر لیا تھا….. علی کو نو سال تک ان کی والدہ نے سنمبھالا تھا…. مگر اپنی والدہ کی وفات پر وہ ایک بار پھر ٹوٹ گئے تھے…اور پھر کچھ عرصہ تک اپنی بھابھیوں کے رویہ دیکھنے کے بعد وہ الگ گھر میں شفٹ ہو گئے……
ان کے لیے اپنے بھائیوں سے الگ ہونا مشکل تھا مگر وہیں اپنے بچوں کے لیے ضروری بھی تھا…..گھر میں ہر کام کے لیے ملازم موجود تھے…. مگر صبح کا ناشتہ وہ خود بناتے تھے……
_____________________________
“بابا آپ علی کو بھی اٹھائیں نا….. ”
ناشتہ کرنے کے بعد وہ ان کا ہاتھ پکڑ پیار سے بولی تھی….
اس کی بات سن وہ مسکراۓ تھے…
“گڑیا علی تو آج سکول نہیں جاۓ گا….. ”
مسکرا کر کہتے وہ اپنی گڑیا کا چہرہ دیکھنے لگے تھے جو علی کے نا جانے کا سن کر اتر گیا تھا…..
“بابا میں بھی نہیں جاؤں گی….. ”
وہ رونے والے انداز میں بولی تھی….
“علی تو گندا بچا ہے نا….مگر میری گڑیا تو بہت اچھی ہے…..”
اس کو بہلاتے وہ بولے تھے…….
“جی بابا…. میں تو اچھی بچی ہوں…. میں ضرور جاؤں گی…. ”
اپنے بابا کی بات سنتے وہ فورا سے جانے کو آمادہ ہوئی تھی…… اس کے فورا بیان بدلنے پر وہ مسکرا دیے تھے….
وہ اپنے بچوں سے ہمیشہ نرم لہجہ میں بات کرتے تھے….
ان کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو پورا کرنا….. ان کی ہر ضد کو مان جانا……
مگر کیا واقعی ان کے بچوں نے ان کا احساس کیا تھا…. کیا انہوں نے اپنے باپ کی جوانی کی قربانی کو یاد رکھا تھا…. کیا وہ فرمابردار بچے تھے…..
______________________________
بیتے وقت کو یاد کرتے اس کمزور وجود کے جھریوں زدہ چہرے پر ایک مسکراہٹ اپنی تھوڑی سی جھلک دکھاتے کہیں گم ہو گئیں تھی……..یہ وہ احمد صاحب تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے بچوں کا ساتھ دیا تھا….. ہمیشہ ان سے نرم رویہ اپنایا کہ کبھی انہیں اپنی ماں کی کمی محسوس نا ہو…. مگر انہیں کیا پھل ملا…. آج ان کے اپنے بیٹے کے پاس ان کے لیے وقت میسر نہیں تھا….. وہ بیٹا جس میں ان کی جان بستی تھی اب وہی ان سے لاتعلق ہو گیا تھا……..
وہ ایک بار پھر ماضی میں کی خوبصورت یادوں میں کھو گئے تھے…..
_________________________________
“بابا مجھے آپ سے بات کرنی تھی….. ”
بائیس سالہ علی ان کے پاس سٹڈی میں آتا بولا تھا….
“جی بیٹا بولو کیا بات ہے…. ”
فائل کو بند کر آنکھوں کو عینک کی قید سے آزاد کرتے وہ بولے تھے….
“وہ…ہ بابا میں نے آپ کو کچھ بتانا تھا…. ”
وہ ہچکچاتے ہوۓ بولا تھا
اس کے یوں ہچکچانے پر انہوں نے حیران ہوتے اس کی طرف دیکھا تھا…… وہ پوری طرح اس کی طرف رخ کیے بیٹھ گئے تھے….
“وہ بابا مجھے ایک لڑکی پسند ہے….میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں”
فرش کو دیکھتے اس نے جلدی سے اپنی بات مکمل کی تھی…..
اس کی بات پر انہوں نے حیرانی سے اپنے بیٹا کو دیکھا تھا…. وہ اس سے ہر طرح کی بات کی امید رکھتے تھے مگر اس کے علاوہ…..
“وہ لڑکی کون ہے”
کچھ بھی اور پوچھنے کی بجاۓ جانچتے لہجے میں انہوں نے لڑکی کا پوچھا تھا……
“وہ میری کلاس فیلو ہے…..اور میں بہت جلد اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں”
اس بار وہ مضبوط لہجے میں بولا تھا
“ابھی تمہاری شادی نہیں ہو سکتی….. ”
اسے کچھ بھی اور کہنے کی بجاۓ وہ بس اتنا ہی بولے…
ان کے یوں انکار پر اس نے آنکھیں پھیلاۓ انہیں دیکھا تھا….
“کوئی خاص وجہ….”
وہ بدتمیزی لیے لہجے میں بولا تھا
اس کے گستاخ لہجے پر انہوں نے حیرانی سے اس کے چہرے کو دیکھا تھا…..
“ابھی تمہاری عمر شادی کی نہیں ہے……. پہلے اپنی سٹدی پوری کرو…. ”
اس کو رسانیت سے سمجھاتے وہ بولے تھے…..
“اگر آپ نے جلد ہی میری شادی نہیں تو میں جو کروں گا اس کے ذمہ دار صرف آپ ہوں گے….. ”
غصہ میں بدتمیزی سے بات کرتے وہ روم سے نکل گیا تھا. ….اس کے یوں بدتمیز اور اٹل لہجہ پر وہ چونک ہی تو گئے تھے…..اس کے نکلتے ہی وہ سر ہاتھوں پر گرا گئے تھے…..اس کے خودسری لیے لہجہ کو دیکھ وہ اتنا تو جان گئے تھے کہ جو وہ کہہ کر گیا تھا اسے پورا کرنے میں وہ وقت نہیں لگاۓ گا……
کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے ارم کی شادی اپنے دوست کے بیٹے سے کر دی تھی اور وہ بیرون ملک رہائش پزیر تھے…… جب وہ کوئی فیصلہ نا کر سکے تو انہوں نے ارم سے بات کرنے کا سوچا تھا….
“اسلام و علیکم…. کیسے ہیں بابا ”
کال اٹھاتے ہی ارم خوشی لیے لہجہ میں بولی تھی….
“وعلیکم السلام… میں ٹھیک میری گڑیا کیسی یے اور خوش ہے نا…. “انہوں نے فکرمندی سے پوچھا تھا….
“جی بابا میں بہت خوش ہوں”
اس کی آواز سے وہ اس کی خوشی کا اندازہ لگا سکتے تھے…. وہ دھیمہ سا مسکرا دیے تھے…..
“گڑیا مجھے بات کرنی تھی”
“جی بابا بولیں”
اور پھر وہ روانی میں بتاتے چلے گئے تھے…..
“بابا وہ پاگل تو نہیں ہو گیا.. یہ اس کی شادی کی کون سی عمر ہے ”
وہ بات سن چینخنے کے انداز میں بولی تھی….
“گڑیا میں کیا کر سکتا ہوں….. اس کے لہجہ میں آج میں نے خودسری دیکھی ہے”
وہ ٹھنڈی آہ بھرتے تھکے انداز میں بولے تھے….. ان کی یوں تھکی تکھی آواز سن اس کا دل چاہا تھا وہ اپنے بابا کے پاس پہنچ جاۓ….. جانتی تھی کہ اس کے جانے کے بعد وہ بہت اکیلے ہو گئے تھے…..
“بابا آپ اس کی بات مان لیں…. ایسا نا ہو وہ کوئی غلط قدم اٹھا لیے….. “نم لہجہ میں وہ انہیں سمجھاتے بولی تھی…..
“بابا وہ آپ….. ”
اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ جلدی سے اللہ حافظ بول کر کال کاٹ گئے تھے…….فون کو ہاتھ میں تھامے وہ کتنے ہی پل سوچوں میں گزار گئے تھے….. آخرکار بیٹے کی بات ماننے کا فیصلہ کرتے وہ ٹھنڈی آہ بھرتے اٹھ گئے تھے
____________________________
آج پورا گھر روشن تھا…..ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ دلہن کو رخصت کرو لاۓ تھے….علی کے چہرے پر چھوٹتی خوشی دیکھ وہ خوش تھے….. مگر ایک کسک تھی جو ان کے دل کو جھنجوڑ رہی تھی….. ان کا علی ان سے دور ہو رہا تھا….دل میں پھوٹتے وسوسے کو سلاتے وہ انہیں خوش رہنے کی دعائیں دیتے اپنے کمرے میں جانے کو بڑھ گئے تھے…..
__________________________________
دعوتوں اور رشتہ داروں سے ملتے ملاتے وقت بہت تیزی سے گز رہا تھا….. جہاں علی بہت خوش تھا…. وہیں احمد صاحب خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہے تھے…. وہ گھر آتے تو خالی گھر ان کا استقبال کرتا….. وہ اپنے لیے کھانا خود گرم کرتے اور خاموشی سے اکیلے کھا کمرے میں چلے جاتے…..
علی اور بہو کب گھر آتے انہیں معلوم نہیں ہوتا تھا…. صبح جس وقت وہ اپنے آفس کے لیے جاتے تب بھی پورا گھر سناٹوں کی نظر ہوتا…..یہ سناٹے انہیں بہت کمزور کر رہے تھے….. گھر کے یہ سناٹے ان کے اندر بھی گھر کرنے لگے تھے….. ان کی طبیعت بوجھل سی رہنے لگی تھی…
آج وہ جلدی آفس سے آ گئے تھے…. وہ لاؤنج میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے تبھی علی اور فاطمہ داخل ہوۓ تھے…. فاطمہ انہیں سلام کرتی اور پیار لیتی وہیں پاس بیٹھ گئی تھی….. اس کے یوں پاس بیٹھنے پر وہ بہت خوش ہوۓ تھے….
“بیٹا لگتا ہے اپنے باپ کو تم بھول گئے ہو…. ”
وہ سامنے بیٹھے علی سے بولے تھے
“نہیں بابا ایسا نہیں ہے… میں آتا ہوں مگر تب آپ سو رہے ہوتے ہیں…. ”
آنکھوں کو جھکاۓ وہ جھوٹ بول گیا تھا…..
اس کی بات پر وہ بس سر ہلا کر رہ گئے تھے…. اسے یوں جھوٹ بولتے دیکھ فاطمہ نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا…… وہ دونوں سے نظریں چراتا کمرے میں جانے کو بڑھ گیا تھا…..اسے یوں جاتے دیکھ دو بوڑھی آنکھوں نے دور تک پیچھا کیا تھا…
“بابا آپ بہت کمزور لگ رہے ہیں…. ”
علی کا رویہ دیکھ اسے بہت دکھ ہوا تھا….. ان کے کمزور چہرے کو دیکھتی وہ بولی تھی…..
“ارے نہیں بیٹا…… بس بوڑھا ہو گیا ہوں…”
مسکرا کر جواب دیتے وہ کمرے میں جانے کو اٹھ گئے تھے….
“جاو بیٹا… آرام کر لو ”
اسے بھی آرام کرنے کا کہتے وہ چل دیے تھے… فاطمہ نے افسردگی سے ان کی کمر کو دیکھا تھا…..اسے علی کا ایسا رویہ بہت برا لگا تھا…..سر جھٹکتی وہ کیچن میں جانے کو بڑھ گئی تھی…..
________________________________
“علی ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے…. مجھے ان کے پاس جانا ہے…آپ تو جانتے ہیں نا ابو کے پاس میرے علاوہ کوئی نہیں ہے…. ”
افسردہ لہجہ میں کہتی وہ بس رو دینے کو تھی….
“تم افسردہ نہیں ہو….. ہم دونوں آج ہی ان کی طرف جائیں گے….. اور ان کے ٹھیک ہونے تک وہیں رہیں گے…. ”
وہ اس کو تسلی دیتے بولا تھا….
دونوں کا جانے پر اس حیرانی سے علی کے چہرے کو دیکھا تھا….
“علی پھر بابا کے پاس کون رکے گا…. کافی دنوں سے ان کی بھی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے…. کل بھی میرے بہت اثرار پر وہ میرے ساتھ ڈاکٹر پاس گئے تھے….. اس حالت میں انہیں ہمیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے….. ”
“بابا کو کیا ہوا ہے ”
اس کی بات سن اس نے حیرانی لیے لہجہ میں استفار کیا تھا….
اس کی بات پر فاطمہ نے افسوس بھری آنکھوں سے اسے دیکھا تھا….
“کافی دنوں سے ان کا سانس لینے میں مسلہ ہو رہا تھا…. اور ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اکیلے ہونے کی وجہ سے وہ بہت ذیادہ سٹریس لیتے ہیں جو ان کے لیے بہت نقصان دہ ہے….. ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ یہی سٹریس ان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے…. ہم انہیں کسی بھی وقت اکیلے نہیں چھوڑیں……..”
ااپنی بات مکمل کرتے وہ روم سے نکل گئی تھی….. مگر اس کے لیے سوچوں کے بہت سے در کھول گئی تھی…. کیا وہ اپنے باپ سے اس قدر لاتعلق تھا……کہ اس کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ آخر اس کا باپ کس حال میں تھا
_______________________
اگلے دن وہ فاطمہ کے ساتھ وہاں ایک دن رکنے کے ارادہ سے چلا گیا تھا……وہ شرمندگی کا احساس جو فاطمہ کی باتوں سے اسے ہوا تھا…. وہ بھی ختم ہو گیا تھا…..
مگر شاید یہی لاتعلقی اس کے لیے بہت سے پچھتاوے چھوڑنے والی تھی……. اور انہی پچھتاووں نے اسے پوری عمر بےسکون رکھنا تھا……
________________________
سناٹے میں گونجتی آوازوں سے وہ حال میں لوٹے تھے…. نجانے کتنے ہی آنسو ان کی آنکھوں سے بے مول ہوتے تکیے میں جزب ہو رہے تھے……آج دوسرا دن تھا….. وہ گھر میں بالکل اکیلے تھے……انہیں اس خاموشی سے وحشت ہو رہی تھی….اچانک ان کو لگا تھا جیسے ان کا سانس رک رہا تھا…..ذہن تاریکی میں گم ہوتا محسوس ہو رہا تھا….. ان کے دل نے شدت سے خواہش کی تھی کہ اس وقت ان کے بچے ان کے پاس ہوں وہ ان سے ڈھیروں باتیں کریں…… ان کی آنکھیں دروازے پر ٹکی تھیں جیسے پلک جھپکتے ہی علی ان کے پاس ہو…. مگر ان کا انتظار انتظار ہی رہا تھا…… اور وہ پرسکون سے آنکھیں موند گئے تھے…….. تمام فکروں سے آزاد وہ سکون کی نیند سو گئے تھے….
_______________________________
فاطمہ کو اپنے ابو کا خیال رکھتے دیکھ اسے احساس ہوا تھا کہ وہ اپنے باپ ساتھ کتنا غلط کر چکا تھا….وہ باپ جس نے اپنی خوشیوں کی فکر نا کرتے ان کی ہر خواہش کو پورا کیا…… مگر اس نے کیا کیا…..کبھی ان کو وقت تک نا دیا…… جب کسی چیز کی ضرورت ہوتی بس تب ان سے بات کر لیتا…..مگر اب اس نے ان سے معافی مانگنے کا سوچ لیا تھا….. اسے یقین تھا کہ وہ اسے معاف کر دیں گے…. اب وہ ان کا بہت خیال رکھنا چاہتا تھا…. ان کے ساتھ وقت گزرنا چاہتا تھا…. ان سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتا تھا…..
اس خیال کے آتے ہی وہ گھر آنے کو نکل گیا تھا….. اب وہ اک پل بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا…… فاطمہ کی بات بار بار اس کے ذہن میں گونج رہی تھی کہ بابا کو اکیلے نہیں چھوڑنا… مگر اس نے کیا کیا تھا……
_________________________
ابھی وہ راستہ میں ہی تھا جب اسے ارم کی کال آئی تھی……
“علی کہاں ہو تم…. ”
اس کے کال اٹھاتے ہی وہ بےتابی سے بولی تھی…..
“میں فاطمہ کے ساتھ آیا تھا… اب گھر جا رہا ہوں….. کیا ہوا…. سب ٹھیک ہے نا؟؟؟تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو…… ”
اسے بتاتے وہ اس کی پریشان آواز کی وجہ پوچھ رہا تھا
“علی میرا دل بہت گھبرا رہا ہے….ایسے لگ رہا جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے….. میں کب سے بابا کو کال کر رہی ہوں… وہ میری کال بھی نہیں اٹھا رہے….. ایسا کبھی نہیں ہوا…..تم بابا کے پاس جاؤ نا….. ”
وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی…..
مگر علی کو لگا تھا جیسے وہ بہت دیر کر چکا ہے…..
“میں….. جا.. تا ہوں…. تم پریشان نہیں ہو…. سب ٹھیک ہو گا”
جو خیال اس کے ذہن میں آ رہا تھا وہ ان کو جھٹکتے اس کو دلاسہ دیتے بولا تھا…. اور دوبارہ کال کا کہتا وہ کال کاٹ گیا تھا….. اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی…..
کچھ دیر میں ہی وہ گھر پہنچ گیا تھا….. پورے گھر کو اندھیرے میں ڈوبا دیکھ اس کے دل کو کچھ ہوا تھا…. اس کے قدم بھاری ہو رہے تھے…..لائٹ آن کرتے خود کو سنمبھالتے اس نے قدم بابا کے کمرے کی طرف بڑھاۓ تھے……کمرے میں داخل ہوتے اس کی نظر آنکھیں موندے باپ پر گئی تھی……اسے لگا تھا کہ وہ سو رہے ہیں…. مگر دل میں کے وسوسہ کو جھٹلاتے وہ ان کے قریب گیا تھا……
بہت نرمی سے بیڈ پر پڑے ان کے ہاتھ کو تھاما تھا…. مگر دوسرے ہی پل ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا…وہ یک ٹک ان کے بےجان ہاتھ کو دیکھ رہا تھا….گال پر پھسلتے آنسو سے اس کا سکتہ ٹوٹا تھا….. اب وہ ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا…..ان کے چہرے کا رخ دروازے کی طرف دیکھ اس کے دل میں تکلیف ہوئی تھی…..اسے لگے تھا اس تکلیف سے اس کا دل پھٹ جاۓ گا…….بے اختیار ہوتے وہ کے ٹھنڈے پڑے ہاتھ پر سر ٹکاۓ رو دیا تھا……….
کتنے ہی پل وہ روتا رہا تھا…… پھر خود کو سنمبھالتے ارم اور فاطمہ کو کال کر بابا کی موت کا بتایا تھا……پوری رات وہ ان کے پاس بیٹھ روتا رہا تھا…… ان کی زندگی میں وہ انہیں چند پل بھی نہیں دے پاتا تھا اور اب جب وہ ان کے پاس تھا مگر اب انہیں اس کے ساتھ کی ضرورت نہیں تھی…… وہ تو پرسکون سو رہے تھے..
______________________
علی کے پاس بس پچھتاوے باقی رہ تھے….احمد صاحب کو دنیا سے گئے ایک ماہ ہونے کو تھا…. مگر وہ گھنٹوں ان کے کمرے میں رہتا….. ان کی چیزوں کو چھوتے آنسو بہاتا…… اب اسے احساس ہوتا کہ کاش وہ ان کے ساتھ وقت گزرتا….. ان سے باتیں کرتا….. وہ باپ جو اسے کبھی دکھی نہیں ہونے دیتا تھا…. وہ بھی ان کو ہمیشہ خوش رکھتا…. مگر اس نے کیا کیا تھا……اپنی زندگی کی رنگینوں میں کھوتے وہ اپنے باپ کو بھول گیا….. مگر اب بس پچھتاوے باقی تھے…… اور ایک ڈر تھا…… کہ کہیں اس کی اولاد اس کے ساتھ بھی وہی نا کرے جو وہ اپنے باپ کے ساتھ کر چکا تھا…..
________________________
والدین…. وہ ہوتے ہیں جن کے لیے اپنی خوشی کی بجاۓ اپنے بچوں کی خوشیاں اہم ہوتی ہیں……بچوں کا حق بنتا ہے کہ وہ بڑھاپے میں اپنے والدین کا خیال رکھیں ویسے ہی جیسے ان کے والدین نے ان کا رکھا….. بزرگ گھروں کی رونق ہوتے ہیں….خدارا اپنے گھروں کی رونق کا خیال رکھیں…..والدین بہت بڑی نعمت ہیں…والدین کے بغیر زندگی بےمعنی ہو جاتی ہے……
اللہ سب سب کے والدین کو سلامت رکھیں اور ہمارے بزرگوں کی عمر دراز کرے آمین
__________________________
ختم شد

کنول اعجاز کے تمام ناولز اور افسانے پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

 

Also Read Mohabbat Abhi Baki Hai By Kanwal Ejaz Complete Novel

 

Download Urdu Novels PDF

Urdu Kitabain is wonderful place for urdu readers. If you are Novels and Book lovers, you are at right place where you can read famous Urdu Novels and download them on your device.

You can request us your favorite Urdu Novel which we can share with you on this page upon your request. Further we are providing a wonderful platform for those who like to write and have not started yet. contact us on our facebook page here.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *