Rooh Ka Kia Bana by Mehreen Saleem

روح کا کیا بنا؟

Rooh ka kia bana

Rooh ka kia bana

از مہرین سلیم

 

آسائشیں تو بجھاتی ہیں محض تشنگئ نفس
روح تو پھر روح ہے ؛ وہ جائے تڑپ

 

روح انسان کے اندر موجود ایک کیفیت کا نام ہے ۔ دراصل ہم جب اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور عمر ڈھلنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی رنگینیوں اور اسکی رعنائیوں میں اس قدر گم ہوجاتے ہیں کہ اچھے برے کی تمیز اور صحیح غلط کی پہچان کو کوسوں دور چھوڑ جاتے ہیں ۔اور پھر اپنا سب کچھ اسی دنیا کو سمجھ کر شب و روز گزار دیتے ہیں ، اور جب سانس حلق کو پہنچنے والی ہوتی ہے تب احساس ہوتا ہے کہ کچھ وقت ذکرو استغفار بھی کرلینا چاہیئے!!۔ لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ساری زندگی دیوانہ وار دنیا کے حصول میں گزار دینے والوں کو دنیا تو مل جاتی ہے لیکن آنے والی دنیا کی تیاری رہ

جاتی ہے۔

 

اکثر اک سوال میرے ذہن پر دستک دیتا ہے کہ لوگ جب اس قدر دنیاوی آسائش اور آرائش میں چور ہیں اور ہمہ وقت اپنے نفس کی تشنگی بجھانے میں کوشاں ہیں ۔حتی کہ گھر ، گاڑی پیسہ ان سب چیزوں کے لیے وہ آخری حد تک جان لگادیتے ہیں ۔ لیکن اسکے باوجود بھی وہ پریشان ہیں!۔ “اور اکثر شکایت کرتے ہیں کہ انکے پاس دنیا کی ہر نعمت ہے لیکن سکون نہیں ہے”۔ ایسا کیوں؟؟؟

 

“دارصل سکون کا تعلق کہیں نہ کہیں ہمارے اندر کے وجدان سے ہے ۔ جب انسان اچھا کام کرتا ہے ، حلال کماتا ہے ، اپنے اعمال سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا ، اور جب وہ اپنے ضمیر کی ملامت پر لبیک کہتا ہے تو وہ صراط مسقیم کو ضرور پالیتا ہے۔اور اسکی روح جب مطمئن ہوتی ہے تو سکون بھی سراپے میں اتر کر دل و دماغ کو تازہ رکھتا ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ جہاں معاشرے کے لوگ چوری ، سود ، ریاکاری ، جھوٹ، غیبت ، اور دیگر غیر اخلاقی برائیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنا ضمیر مار کر پیسہ بنانے کی ممکنہ تگ و دو کرتے ہیں۔ تو وہ پیسہ تو ضرور بن جاتا ہے لیکن وجدان میں اضطراب چھوڑ جاتا ہے ، بے چینی چھوڑ جاتا ہے۔ جب روح ہی تڑپ اٹھے تو پھر انسان کو سکون کیسے مل سکتا ہے؟؟؟

 

ہم اکثر جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے طبیبوں ، حکیموں اور بڑے بڑے ڈاکٹرز کا رخ کرتے ہیں کہ کہیں سے ہماری تکلیف دور ہوجائے۔ لیکن وہ روح جو برسوں سے بیمار پڑی ہے کیا کبھی اسکی طرف دھیان گیا؟ یقنیا نہیں ۔۔!! کیونکہ ہم نے کبھی اس زاویے سے سوچا ہی نہیں کہ “بیمار ہم نہیں ہماری روح ہے ” اور یقین جانئیے یہ بات سو فیصد درست ہے کہ جس دن ہم نے اپنی روح کا علاج کرلیا اس دن سکون کی وادیوں کے دروازے ہماری پیشی کے منتظر ہونگے۔ لہذا یہ کہنا قطعا غلط نہیں ہوگا کہ روحانی سکون پانے کے لیے نفس کو ماردینا اولین شرط ہے۔کیونکہ اچھائی میں رہ کر اچھائی کرنا بڑی بات نہیں بلکہ برائی میں رہ کر برائی سے رک جانا اور نفس کے بے لگام گھوڑے کی باگ کو تھام لینا ہی قابل تحسین اور قابل ستائش ہے۔

مہرین سلیم کے مزید ناول اور افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply