Afsaanay Afsana

Safar Az Mohabbat Ta Maut By Momal Aarain Urdu Afsana

سفر از محبت تا موت

اردو افسانہ

مومل آرائیں

بہت یاد کر رہی ہوں تمھیں کیا تم مل سکتے ہو کچھ دیر

کہیں علی؟؟

اس نے حال احوال پوچھ لینے کے بعد دریافت کیا

بہت بزی ہوں میں ابھی بھی میٹنگ میں ہوں نتاشا_ اسے کہہ دینے کے بعد علی نے اپنے دوستوں کو آنکھ ماری

جو اس کی اور نتاشا کی گفتگو میں مگن تھے

اچھا_ ٹھیک ہے آج نہیں تو پرسوں ہم کافی شاپ پہ مل لیں گے اوکے؟ نتاشا نے ارادہ بناتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے دیکھتے ہیں_ علی نے بیزاری سے حامی بھر لی**

اردگرد سے بے نیاز وہ اپنی محبت کو محبت بھری نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔

تم کتنا مصروف رہنے لگے ہو ناں! وہ اسکی آنکھوں میں کچھ تلاشتے ہوۓ کہہ رہی تھی

ہاں بس کام ہی اتنا ہے _ علی نے نظر اپنی کلائ پہ پہنی گھڑی پہ دوڑائی

کتنا چاہا ہے نا میں نے تمھیں چار سال ! نتاشا نے اپنا ہاتھ علی کے ہاتھ پہ دبایا

ہاں ! یک لفظ جواب دیا گیا

تم چُپ کیوں ہو علی؟ نتاشا کو بے چینی ہوئ

نہیں بس کام ہے میں چلتا ہوں ! یہ کہتا وہ وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا

نتاشا اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو روکتے ہوئے اُسے جاتا دیکھنے لگی__**

تین جنوری کی شام ایک خوبصورت دوشیزہ موسم کا مزہ لیتے ہوئے اپنے گھر کے ٹیرس پہ چاۓ پی رہی تھی_

حسبِ عادت اپنے سلکی سیاہ بال کھولے وہ ناول پڑھنے میں مصروف تھی_

اردگرد سے بے نیاز وہ ‘نمرہ احمد’ کے تحریر کردہ ناول کے ایک غمگین سین پہ آنسو بہا رہی تھی_

اس کی موٹی موٹی آنکھیں بھری ہوئی اور ستوان ناک قدرے لال ہورہی تھی کوئ بہت دلجوئی سے لاہور کے پرانے محلے میں کھڑا اس حسن کو تکنے میں محو تھا

کئ دن سے وہ یونہی روز اس وقت اسے دیکھنے آتا تھا

جو اس سے بے نیاز اپنے ناولز میں مگن رہتی تھی**

تم نے اس سے پوچھا وہ کیوں تم سے احتیاط برت رہا ہے؟ سکینہ نے اس کے چہرے پہ کچھ کھوجتے ہوۓ پوچھا

وہ کچھ بتاۓ تب نا!! نتاشا کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا تھا

میں نے اسے بے انتہا چاہا ہے اور وہ مجھے ہی لمحوں میں اپنی جوتی کی نوک پہ لے آتا ہے ۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں تھیں

چلو کوئی بات نہیں اداس مت ہو اللّہ پہ چھوڑ دو ! سکینہ نے اسکو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا

ہممم ٹھیک ہے _ میں چلتی ہوں اب ! یہ کہتی وہ گھر کیلئے روانہ ہوگئی**

وہ دوشیزہ ناول میں اس قدر مگن تھی کہ اتنے میں ایک پتھر اس کے ہاتھ پہ آکے لگا ۔

کون ہے بدتمیز ! وہ بوکھلا کے اُٹھ کھڑی ہوئی

نیچے نظر دوڑائی تو بائیک پہ بیٹھا اکیس بائیس سال کا جوان لڑکا دِکھا_

تم نے مجھے پتھر مارا؟ بنا لحاظ کیے وہ اسے مخاطب کرگئی

موبائل پہ جھکی اپنی گردن جب اس لڑکے نے اُٹھائ

اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھ کے وہ کچھ دیر ساکت ہوگئی تھی

جی آپنے مجھ سے کچھ کہا؟

وہ مغرور شخص اس سے مخاطب تھا.ج جی آپ نے پتھر مارا کیا؟ اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا

ہاں جی! لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا

ہوا نے رقص کیا تھا

اسے اس نیلی آنکھوں والے کی ڈھٹائ پہ حیرت ہوئی تھی

اس پتھر پہ میرا نمبر ہے مجھے کال کا انتظار رہے گا۔ وہ یہ کہتا زن سے بائیک اُڑا لے گیا تھا

بنا سوچے سمجھے اس نے کمرے میں آتے ہی نمبر پہ کال کردی تھی_

اور یوں ہوئ تھی نتاشا کی محبت اور علی کی ٹائم پاس کی کہانی**

میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔

کیا؟ وہ بے چین ہوئ تھی

میں کچھ دنوں میں ملک سے باہر چلا جاؤنگا ہمیشہ کیلئے۔ علی نے اپنی نیلی آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈال کے کہا

مگر کیوں! نتاشا کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں

میرا پرسوں نکاح ہے میری کزن علینہ سے_ اور کچھ دنوں بعد ہم چلے جائیں گے باہر_ وہ دانت بھینچتے ہوۓ کہہ رہا تھا

وہ علی جس نے اسے چار سال محبت کے کھیل میں پیسا تھا اور اب دل بھر جانے کے بعد اسے دھتکار رہا تھا

تم ایسا نہیں کر سکتے علی ! تم میرے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتے

وہ چلا رہی تھی اس کے آنسو آنکھوں کے پپوٹے پھاڑ کے باہر آگئے تھے

تم جیسی لڑکی سے میں شادی نہیں کرسکتا ! جو کسی کے بھی ساتھ تعلقات با آسانی جوڑ لے_علی نے اسے کچھ کہا تھا

مگر وہ سمجھ نا سکی ! وہ سمجھتی بھی کیا

جو شخص اسے اپنی عزت کہتا تھا وہ اب سرِ بازار اسے بے عزت کر رہا تھا

چپ کر جاؤ تم ! وہ چلاتی چلی گئی تھی

اور بھاگتی ہوئی ہوٹل سے نکل آئ تھی_

اسے ہوٹل میں موجود ہر شخص خود پہ ہنستا محسوس ہوا تھا**

اس کا دماغ شل ہوچکا تھا۔ ہر بیتا لمحہ اس کے سامنے گزر رہا تھا

وہ سڑکیں پھلانگتی نا جانے کس جگہ پہنچ چکی تھی

اس کے وعدے قسمیں کیا نہیں تھا جو اسے رُلا رہا تھا

اسے اپنے جھوٹوں پہ غصہ آرہا تھا جو وہ اس دو ٹکے کے آدمی سے ملنے کیلئے اپنے گھر والوں سے کہتی تھی۔

وہ کچھ دیر بیچ سڑک پہ رکی تھی

شاید اس کی جوتی میں کچھ پھنسا تھا اسے دیکھنے کیلیے

اس کے ہوش بحال ہوۓ نا تھے کہ اتنے میں وہ سامنے آتے ٹرک کے نیچے کچلی گئی۔ اور اسی وقت دم توڑ گئ

یوں ایک تفریح کی نظر ہوئ نتاشا جان سے ہاتھ دھو بیٹھی!

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *