Sakht Mizaaj Shohar Short Story by Huma Waqas

Sakht Mizaaj Shohar By Huma Waqas is Urdu Shorty Story. Download PDF HERE. Sakht Mizaaj Shohar is Story of a Urdu best writer who started to love his character and in love started to find her in real..  Also, Beautifully written by Huma Waqas

سخت مزاج شوہر

حقیقت سے قریب ایک مختصر کہانی

Sakht Mizaaj Shohar

Sakht Mizaaj Shohar

Sakht Mizaaj Shohar By Huma Waqas

Huma Waqas Novels List

 

 

یہ کہانی مجھے میری اماں نے سنائی تھی ۔ سچی ہے یا فرضی نہیں جانتی بس دل کو بہت لگی تھی ۔ اس لیے سوچا آج لکھ کر آپ سب سے بھی بانٹ لوں شائد میری طرح بہت سے لوگوں نے سن بھی رکھی ہو ۔ چلیں تو شروع کرتے ہیں ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت ایک بہت ہی مشہور اور نیک پیر بزرگ کے پاس جاتی ہے ۔ بڑی پریشان حال ہوتی ہے ۔ جیسے ہی پیر صاحب کے ہجرے میں داخل ہوتی ہے ان کے سامنے بیٹھ کر ٹسوے بہانے لگاتی ہے ۔
” پیر جی شوہر بڑا ظالم اور سخت مزاج ہے, بات بات پر جھگڑتا ہے غصہ کرتا ہے , آئے دن ہماری لڑائی رہتی ہے ۔ آپ کوئی ایسا تعویز بنا کر دیں کہ میرے شوہر کی سخت مزاجی ختم ہو جائے اور وہ مجھ سے محبت کرنے لگے اور نرمی سے پیش آئے ” عورت نے اپنی عرضی اور پریشانی پیر صاحب کو سنائیپیر نے اس کی بات سنی اور پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد گویا ہوئے ۔” بی بی تعویز تو میں ایسا بنا دوں گا مگر اس تعویز کے لیے ایک خاص جانور کی مونچھ کے بال کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بال بیوی کو ہی اس جانور کا اُکھیڑ کر لانا ہوتا ہے ” پیر نے تحمل مزاجی سے اسے تعویز کی شرط سے آگاہ کیاعورت نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں” پیر جی کونسے جانور کی مونچھ کا بال ؟ میں لے کر آؤں گی آپ بس تعویز بنا دیں کہ میرا شوہر میرا خیال کرنے لگے ” عورت نے جوش سے بال لانے کی حامی بھری

” بی بی تجھے شیر کی مونچھ کا بال لانا ہے ۔ وہ بال تعویز میں رکھوں گا پھر ہی تمھارا شوہر تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمھارا خیال کرنے لگے گا ” پیر نے وثوق سے اسے جانور سے آگاہ کیا

عورت کا حیرت سے اور خوف سے برا حال ہوا اور پریشان لہجے میں گویا ہوئی

” پیر جی شیر کی مونچھ کا بال!!! یہ تو بہت مشکل ہے میں یہ کیسے لاؤں گی ” خوفزدہ لہجے میں پوچھا

” میں کیا جانوں بی بی پر شیر کی مونچھ کے بال کے بنا تعویز نہیں بن سکتا , اب جا اور جس دن بال لے آئے گی اس دن آنا میرے پاس ” پیر نے ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے دو ٹوک لہجے میں کہا ۔


عورت دل مسوس کر پریشان حال سی وہاں سے اُٹھ آئی کچھ دن سوچتی رہی کہ کیا کرے کہاں سے اور کیسے شیر کی مونچھ کا بال لائے , مگر شوہر کو رام کرنے کا بھوت بھی سر پر سوار تھا ۔

پھر ایک دن اس کے ذہن میں ایک خیال آیا کہ شہر کے چڑیا گھر میں ایک شیر ہے کیوں نا اس کی مونچھ کا بال لانے کی ایک کوشش کر کے دیکھوں ۔ بس یہ خیال ذہن میں آنا تھا کہ بازار سے گوشت خرید کر چڑیا گھر جا پہنچی ۔

گوشت کو چھپا کر شیر کے جنگلے کے پاس پہنچی اور شیر کو جنگلے سے گوشت پھینک دیا ۔ شیر اٹھا اور گوشت کھانے لگا ۔ اب اس عورت نے یہ روز کا معمول بنا لیا وہ روز گوشت لے کر جاتی اور شیر کو ڈال کر خود اس کے جنگلے کے پاس بیٹھی رہتی ۔

پھر آہستہ آہستہ وہ گوشت کو ذرا قریب پھینکنے لگی اور شیر بھی پاس آ کر گوشت کھانے لگا ۔ شیر اب اس سے مانوس ہونے لگا تھا۔ وہ گوشت کو اب مزید قریب رکھنے لگی اور جب شیر پاس آ کر گوشت کھاتا تو وہ ڈرتے ڈرتے اس کے سر کے پاس ہاتھ لے جاتی اور پیچھے کر لیتی ۔

اسی طرح اسے کافی دن گزر گئے اس نے صبرو تحمل سے کام لیا اور اس عمل پر جُتی رہی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شیر اب اسے پہچاننے لگا ۔ وہ جیسے ہی جاتی شیر فوراً لپک کر جنگلے کے پاس آ جاتا اور اس کی ٹانگوں سے اپنا سر مس کرتے ہوئے مانوس ہونے کا اظہار کرنے لگتا ۔

اس کا ڈر ختم ہونے لگا شیر اب غرایے بنا سر جھکا کر پاس آ جاتا ۔ وہ اب گوشت شیر کو اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگی ۔ شیر گوشت کھانے کے بعد وہیں جنگلے کے پاس بیٹھ جاتا اور عورت اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتی رہتی۔ اکثر شیر وہیں سو جاتا اسی طرح ایک دن پیار کرتے ہوئے وہ شیر کی مونچھ کا بال کھینچنے میں کامیاب ہو گئی ۔

خوشی خوشی وہ اگلے دن شیر کی مونچھ کا بال لے کر پیر صاحب کے پاس حاضر ہوئی ۔

” پیر جی یہ لیں میں لے آئی شیر کی مونچھ کا بال۔ اب آپ جلدی سے ایک ایسا تعویز بنا دیں کہ میرا شوہر میرا خیال کرنے لگے , اپنی سخت مزاجی بھول کر مجھ سے محبت کرنے لگے, ہمارے جھگڑے ختم ہو جائیں ”

عورت نے جوش اور خوشی کے ملے جلے انداز میں ہاتھ میں پکڑی چھوٹی سی کاغذ کی پُڑی پیر صاحب کی طرف بڑھائی جس میں وہ شیر کا بال لائی تھی ۔

” بیٹھ جاؤ بیٹی ۔۔۔” پیر نے تحمل سے کہا

مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ سے بال لیا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ عورت خوشی سے فوراً سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھ گئی ۔

” کیسے لے آئی ہو شیر کی مونچھ کا بال مجھے بھی بتاؤ ذرا شیر تو اتنا خطرناک اور خونخوار جانور ہے ؟ ” پیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا

عورت نے ایک ہی سانس میں پرجوش انداز میں ساری رام کہانی پیر کی گوش گزار کی ۔ پیر جی نے لب بھینچے اور سر اثبات میں ہلایا ۔

” دیکھ بی بی ۔۔ تو اگر شیر جیسے خطرناک اور خونخوار جانور کو رام کر سکتی ہے , اسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر سکتی ہے , تو تیرا شوہر تو پھر بھی اشرف المخلوقات ہے ” پیر نے تحمل مزاجی سے کہا

عورت نے چونک کر پیر کی طرف دیکھا جو اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے

” عورت کی محبت میں کتنی طاقت ہے تو اس کا عملی نمونہ دیکھ چکی ہے۔ شوہر اگر سخت مزاج ہو تو بیوی کو چاہیے کہ اپنی محبت , خدمت , صبر اور خیال سے اس کا دل جیت لے اس کے دل کو موم کر دے ” پیر صاحب نرم لہجے میں اسے سمجھا رہے تھے

” جس طرح تو نے شیر کو مانوس کیا اسی طرح تو اگر روز ناراض ہونے اور جھگڑنے کے بجائے اپنے شوہر کی خدمت اور محبت میں جُت جائے تو وہ زیادہ دن تک تجھ سے لاپرواہی اور سختی نہیں برتے گا ” پیر نے ہاتھ کھڑا کر کے ہوا میں ہلایا

عورت کی عقل میں بات آ گئی کہ پیر نے اس سے شیر کا بال تعویز میں رکھنے کے لیے نہیں منگوایا تھا بلکہ اسے یہ بات سمجھانے کے لیے منگوایا تھا کہ سخت سے سخت مزاج شوہر کو بھی عورت اپنی محبت , صبرو تحمل اور خدمت سے بدل سکتی ہے ۔

وہ بھی انسان ہے , سینے میں ایک عدد دل رکھتا ہے اور اس دل میں جذبات بھی رکھتا ہے ۔ اللہ تعالی نے عورت کی محبت میں بہت طاقت رکھی ہے بس تھوڑی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ۔

عورت مسکرائی اور مطمئن ہو کر وہاں سے چل دی ۔

==============================
ہما وقاص کے ناولز کی لسٹ۔ پڑھنے کے لئے کلک کریں۔



 

Also Read Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas

Huma Waqas All Novels List

Please support us by providing your important feedback:
Also, Share this post as much as possible at all platforms and social media such as Facebook, Twitter, Pinterest & Whatsapp.

Share with your friends and family members so that we are encourage more and more to bring you much more that you want. Furthermore, please Be supportive and share your comments in below comments section. So that we can be aware of your views regarding our website.

Your best Urdu Digest, Novels, Afsanay, Short Stories, Episodic Stories, funny books and your requested novels will be available on your request.

 

Leave a Reply