Sunehra Waqt By Momal Aarain Urdu Afsana

Sunehra Waqt by Momal Aarain is Urdu Afsana and is very interesting Urdu collection written by very talented Momal Aarain who is famous Urdu Novels Writer and written many Urdu columns and novels..

Sunehra Waqt is Reality based Urdu Afsana and it is a story about social topic and very common issue Avidity that ruins many of the relations and sometime one becomes own enemy. Read here complete story and learn what happened next.. Very Romantic Urdu Novel that you will love reading.

About Momal Aarain

Momal is young talented writer who has started to write early in 2018 from Poetry. She has written in many topics and got very much appreciation from her column Aankh Aur Aansoo. Here you are going to read another masterpiece.

افسانہ : سنہرا وقت.
میں نے انھیں منع کیا تھا، میں نے ان سے بارہا کہا تھا _ کہ اس رشتہ کا مان رکھیں_ مگر وہ مجھے مسلسل اپنی نگاہوں کے حصار میں رکھتے تھے_ میں نے کئ دفعہ انہیں سمجھایا مگر وہ _ وہ تو بس میرے جسم کی خواہش میں تھے_
ہاں میرے سگھے ماموں نے ہی مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا_

چودہ سال کی عمر میں مجھے ایک لڑکا جو کہ محلے میں رہتا تھا_ وہ پسند آنے لگ گیا تھا_ جب سڑک سے گزرتی تھی تو جہاں وہ ہوتا تھا وہاں سے میرا گزر پکا ہوتا تھا_ مجھے وہ بہت بھاتا تھا_ دوست کی توسط سے مجھے اس کا نمبر مل گیا تھا_ وہ مجھے سے پانچ سال بڑا تھا_ لیکن وہ نہایت ہی شریف گھرانے سے تعلق رکھتا تھا_ مجھے اب بن نا سنورنا اچھا لگتا تھا میں چاہتی تھی کہ وہ مجھے کبھی تو دیکھے کبھی تو مجھے مخاطب کرے_ اس کا نمبر میرے پاس ہونے کے باوجود میں نے اس سے رابطہ کرنے کی کبھی کوشش نا کی تھی_ ایک سال بیت گیا تھا اس کے سامنے سے گزرتے گزرتے _ مگر مجال ہو جو اس نے اک نگاہ تک ڈالی ہو مجھ پہ_
پندرہ سال کی عمر میں قدم رکھتے ہی مجھ پہ روک ٹوک شروع ہوگئی تھی_
میرے بابا کو میں نے ہمیشہ نشے میں ہی دیکھا تھا_ ان کی لال آنکھوں سے مجھے خوف آتا تھا میں اور میرا بھائ ڈر ڈر کے رہتے تھے_ میری ماما کہیں روز رات کو جاتی تھیں_ اور صبح آتی تھیں_ان کا کہنا تھا کہ وہ جاب پہ جاتی ہیں_ مجھے اور میرے بھائ کو سلا کے وہ رات کو چلی جاتی تھیں اور صبح ہمارے بیدار ہونے کے بعد گھر آتی تھیں، اور پھر سارا دن سوتی رہتی تھیں_ لیکن کچھ بھی ہو میری ماما ہماری بہت فکر کرتی تھیں کھانے سے لیکر کپڑے تک وقت پہ ملتے تھے_ لیکن وہ کہتے ہیں ناں کوئ جتنی بھی فکر کرے جب تک ہماری طرف پیار سے متوجہ نا ہو ہمارے دکھ سکھ کا رازدان نا ہو تو زندگی میں ایک کسک باقی رہتی ہے_ خیر ہم اسی طرز سے زندگی بسر کررہے تھے _ میں ویسے ہی اس لڑکے کی ادائوں پہ مرتی تضی مگر ماں بابا کے ڈر سے اس سے رابطہ نہیں کر پاتی تھی_ ایک روز عجیب منظر مہیا آیا _ میں ہمیشہ کی طرح اس روز بھی ٹیوشن سے واپسی میں گھر جا رہی تھی، کہ مجھے پیچھے سے میرے نام سے پکارا گیا میں چونک گئ _ میں رکی میری سانسیں بہت تیز تھیں اور جب کوئ میرے سامنے آیا تو میرے دل میں پھول کھل اٹھے_ اس نے مجھے ایک پیپر پکڑایا اور کہا میں تمھاری کال کا انتتظار کروں گا_ میں خوش تھی بے حد خوش میں نے وہ پرچی کھولی تو اس میں اسکا نمبر تھا اور لکھا تھا کہ
‘میں پچھلے ایک سال سے تمھاری محبت میں یہاں کھڑا ہوتا تھا سوچتا تھا تم بات کروگی پہل کروگی مگر خیر اب پہل مجھے ہی کرنی پڑی ہے آئ لو یو پلوشہ’
اس روز میرے چہرے پہ رنگوں کی بھرمار تھی_ میں نے ماما کے جانے کے بعد اسے کال کی تھی _ اور روز یونہی ہم بات کرتے تھے_ محبت اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئ تھی_
اسی معمول پہ ایک روز میرے مامو ماما کے ساتھ گھر آئے تھے_ جوکہ ڈاکٹر تھے_ ان کی بیوی اور ایک بچہ اندرون سندھ میں تھے_ اور اب وہ ہمارے ساتھ رہنے آئے تھے_ کسی ہسپتال میں ان کا تبادلہ ہوا تھا، مامو دوسری بار ہم سے ملے تھے_
بہت خوش اخلاق اور اچھے لگے تھے،مگر میرے فرشتوں کو بھی علم نا تھا کہ یہ انسان کیسا ہوگا_
ایک روز رات کو اس لڑکے سے بات کر رہی تھی _ جب دروازہ کھلا اور ماموں اندر آئے میں نے جھٹ سے فون رکھ دیا اور ان کیلئے پانی لینے چلی گئ_ واپس آئ تو وہ ٹی وی چلا کے صوفے پہ بیٹھے تھے میں نے پانی دیا اور ان کے ساتھ جا بیٹھی_ ان نے کچھ سوال کیے کہ سوئ کیوں نہیں وغیرہ وغیرہ میں انھے جواب دیتی گئ_ کچھ دیر بعد میں ٹی وی میں مگن تھی _ تو ان کا ہاتھ پشت پہ محسوس ہوا_میرے دل کو انھونی محسوس ہوئ_ میں جھٹ سسے اٹھ کے اندر کمرے میں چلی گئ اور دروازہ بند کردیا_
میں نے اس واقعہ کو سر پہ حاوی نا کیا اور روز کے معمول پہ آگئ ماموں بھی اب مجھ سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے _ لیکن ان کی نظریں مجھے اپنے جسم پہ محسوس ہوتی تھیں_ خیر میں اس لڑکے سے بے انتہا محبت کرنے لگی تھی اس سے بات کرکے خواب بن نے لگتی تھی_
ایک روز ماما کے جانے کے بعد میں نے اسے کال کی اس کا نمبر مصروف تھا میں انتظار میں ٹی وی چلا کے بیٹھ گئ تھی_ معلوم نہیں کب میری آنکھ لگی_ اور کب ماموں گھر آئے _ میری آنکھ تب کھلی جب وہ مجھ پہ جھکے ہوئے تھے_ میں نے بھاگنے کی بہت کوشش کی مگر اس آدمی نے مجھ پہ رحم نہیں کیا_ میرے جسم کو چیر پھاڑ کے نوچ ڈالا میں چلا رہی تھی تو میرا منہ بند کردیا_ اور مجھ سے میرا سنہرا وقت چھین لیا___
کچھ دن میں بہت ڈرتی تھی_ میں نے اس لڑکے کو دوبارہ کال نہیں کی باہر جانا چھوڑ دیا _ اس واقعے کے اگلے دن ماموں سندھ چلے گئے تھے_ مگر میں کسے بتاتی_
میری ایک دوست سے بات ہوئ اس نے مجھے سمجھایا کہ میں ماما کو بتا دوں مگر میں بہت ڈرتی تھی_ ماما نے میرے اندر کی تبدیلیوں کو بھی نہیں جانا_
مجھے ہمیشہ کی طرح نظر انداز کیا، ایک روز دوست کی بہت جدوجہد کے بعد میں نے ماما کو بتا دیا_ کہ ان کے بھائ نے میرے ساتھ کیا کیا__
مگر جانتے ہو کیا ہوا؟؟؟؟
میری ماما نے مجھے کہا کوئ بات نہیں ان نے کرلیا تو کیا ہوا_ وہ ہمیں پالتے ہیں ان کے پیسوں سے ہم جی رہے ہیں_ کوئ بات نہیں کچھ ہوگیا تو _ اب جب وہ واپس آئیں اور کچھ کریں تو کرنے دینا___
میرے وجود پہ بے تحاشہ بوجھ پڑھ گیا تھا_ کیا وہ میری سگھی ماں تھی؟ جو مجھے اس کے ساتھ رہنے کو کہہ رہی تھی۔؟
میں اس رات بہت روئ تھی _ مگر پھر جب ماموں لوٹے ان نے مجھے ماما کے جانے کے بعد بہت مارا_ کہ میں نے ماما کو کیوں بتایا _ اور اس کے بعد وہی سب دہرایا_. میری تکلیف کو پرے رکھے_ میں نے بہت پکارا مگر کوئ نہیں تھا_
میں عاجز آگئ تھی_ روز روز اپنا جسم لٹواتے بنا کوئ پاک رشتے کے،
ایک روز میں اسی دوست کے کہنے پہ گھر سے بھاگ آئ_ میں اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی_ ماموں کے آنے سے پہلے اور ماما کے جانے کے بعد میں کچھ سامان لیکر فرار ہوگئ تھی_
مجھے اپنے اٹھائے قدم پہ کوئ ندامت نا تھی_ بس میں سوار ہوکے ہزار اندیشے تھے مگر ایک خوشی تھی کہ اس گندگی سے جان چھٹ گئ، پھر لاہور پہنچ جانے کے بعد کافی جگہوں پہ خوار ہونے کے بعد
مجھے ایک بہت ہی اچھی آنٹی ملیں جنھوں نے مجھے اپنی اولاد کی طرح رکھ لیا_
ان کے شوہر نے مجھے بیٹی مان لیا اور انھوں نے بھی،
اور اب جب کے میں چوبیس سال کی ہوں ،
اور آج میں ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے ہوں تو اس کا سرا میرے ان ماں باپ پہ جاتا ہے جنھوں نے مجھے ہمت دی حوصلہ دیا _
کل میری شادی ہے_ مجھے اپنے ماں باپ سے دور چلے جانا ہے_ میں بہت اداس ہوجاؤنگی_
مجھے اپنے اصل ماں باپ بلکل یاد نہیں آتے انھوں نے مجھے سوائے درد اور تکلیف کے کچھ نہیں دیا_
میں ہر پل اللّہ سے دعا کرتی ہوں کے جو میرے ساتھ ہوا وہ اور کسی کے ساتھ کبھی نا ہو کبھی نا ہو_

 

Pari by Momal Aarain Complete NovelMomal Aarain is famous for her unique writing style. Also, she has written many Novels before the one you are going to read. She started writing early in 2018 and since then completed her writing journey successfully.

Also Read Here Husna By Huma Waqas

Also Read Pari By Momal Aarain Complete Novel

 

Download Urdu Novels PDF

Urdu Kitabain is wonderful place for urdu readers. If you are Novels and Book lovers, you are at right place where you can read famous Urdu Novels and download them on your device.

You can request us your favorite Urdu Novel which we can share with you on this page upon your request. Further we are providing a wonderful platform for those who like to write and have not started yet. contact us on our facebook page here.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *