Takhleeqi Salahiyat Paragraph By Kainaat Maqsood

 Paragraph Story

Kainaat Maqsood

ابرش کیا ھوا رک کیوں گٸ؟نیہا نے اُسے یوں سڑک کے درمیان رکتے دیکھ کر پوچھا
نیہا وہ یہاں ھے۔۔ابرش اِدھر اُدھر دیکھتے ھوۓ بولی
کون ھے یہاں؟ کوٸی نہیں ھے چلو نیہا اسکا ہاتھ پکڑتے بولی
وہ ھے یہاں میرا دل کی ڈھرکن دیکھو نیہا کا ھاتھ اپنے دل کے عین اوپر رکھتے بولی
یہ تب ایسے ڈھرکتا جب وہ آس پاس ھوں۔۔انکی خوشبو ھے یہاں۔۔۔انکھوں سے موتیوں کی برسات جاری تھی۔۔

اچھا چلو اُسے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنتے ددیکھ کر نیہا بازو سے کھنیچتی پاس ہی ایک ریسٹورنٹ لے گٸ۔۔۔
ابرش کیوں خود کا تماشا بنا رہی۔نہیں ھے وہ یہاں کہیں۔

ابرش نے بھیگی نگاہیں جونہی اٹھاٸی چار سال بعد وہ چہرہ نظر آیا جس کی ایک جھلک دیکھنے کی دعا وہ پچھلے چار سال سے کر رہی تھی۔۔وہ مسکراہٹ اُس کے چہرے پر تھی جس کے لیے وہ دن رات دعاٸیں مانگتی تھی۔۔

چار سال پہلے کے دن راتیں ابرش کے زہن میں ایک فلم کی مانند چلنے لگے۔۔اسامہ کا ملنا۔۔ محبت کرنا سیکھانا زندگی کا مطلب سمجھانا۔۔۔ساری ساری رات باتیں کرنا۔۔۔ابرش کا اُسکے لیے سجنا سنورنا۔۔اور پھر دو سال کی بھرپور محبت کے بعد اسامہ کا یہ کہہ کر چھوڑ جانا۔۔میں مزید اِس ریلشن میں نہیں جی سکتا۔۔ہمیں الگ ھونا چاہیے۔۔میرا پہلا پیار میرا بچپن ک پیار ھے۔۔

ابرش ٹکٹکی بندھے اُسے دیکھ رھی تھی اور ماضی میں کھوٸی تھی ۔۔اُسے کھونے کے ڈر سے وہ پلکیں تک نہ چھپک پا رھی تھی۔۔

اُسے خود پر کسی کی نظریں محسوس ھوٸی تو سامنے دیکھا۔۔سامنے موجود چہرہ کو دیکھ کر اسامہ پلکیں چھپکنا تک بھول گیا۔۔
وہ چہرہ جہاں مسکراہٹوں کا رقص ھوتا تھا آج وہاں آداسی ھی آداسی تھی اسکی آنکھوں کی چمک آنسوں کے ساتھ ہی کہیں بہہ گٸی تھی۔۔

ابرش اسامہ بےاختیار ھی دونوں کی زبانوں سے نکلا۔
وہ بے اختیار چلتے ابرش کے پاس آیا۔۔
ابرش۔۔۔ابرش کو اس عکس کے لب ہلتے نظر آۓ۔۔

ابرش خواب ٹوٹنے کے ڈر سے بغیر حرکت کیے اُسے دیکھے جارہی تھی۔۔
ابرش اُس نے جونہی ابرش کے کندھے پہ ھاتھ رکھ ابرش یکدم پیچھے ہٹی۔۔
ابرش میں اسامہ۔۔۔ابرش اسکے بولنے پر ہوش میں آٸی۔۔آنسو ابھی بھی بہہ رھے تھے۔۔۔
آپ؟ابرش کا دل چاھا اس بےوفا کے گلے لگ کر ہر زخم پر مرہم رکھ لے۔۔
ھاں میں اسامہ۔۔۔اسامہ اسکی ازیت بھری آواز محسوس کرتے بولا۔۔

کہاں چلے گۓ تھے؟نہیں یاد آٸی آپکو میری؟ کتنی تڑپی ھوں میں احساس ھے آپکو؟پچھلے چار سال۔۔۔وہ سال نہیں نہیں صدیاں تھی کیسے گزاری میں یہ صدیاں کتنی روٸی میں کون دے گا اِس کا جواب؟کیا کہا تھا تم خوش رہو گٸی۔میری ہر خوشی تو آپ لے گۓ کیسے خوش رہتی میں؟بولیں دیں جواب مجھے۔۔وہ اُسے گریبان سے پکڑے آج ضبط کا دامن چھوڑے چلا رھی تھی۔۔جواب مانگ رھی تھی اپنی تکلیف ازیتوں کا۔۔

ابرش مجھے معاف کر دو۔۔میں تمھارے ساتھ بہت برا کیا۔۔تم سے دور جا کر میں کبھی سکون سے نہیں رہ پایا۔۔میرا سکون چھن گیا ھے۔۔۔پلیز میرا سکون لوٹا دو۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔مجھے تو خدا بھی معاف نہیں کرتا تم معاف کر دو تو وہ بھی کردے شاید۔۔۔اسامہ اُسکے سامنے ہاتھ جوڑتے ھوا بولا۔۔
واہ مسٹر اسامہ آج آپ آۓ بھٸ تو اپنی غرض کے لیے۔۔۔آج بھی آپکو میری ازیت نہیں بلکہ آپنی تکلیف میرے پاس لاٸی ھے۔۔

وہ مسکراتے لب بھیگی آنکھوں سے اُس دشمن جان کو دیکھ رھی تھی۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ھے بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ ابرش بولی۔۔

جاٶ معاف کیا تمہیں اور خدا بھی تمہیں معاف کریں۔۔آج تک یہی دعاٸیں مانگی تھی کہ آپ مل جاٸیں لیکن آج سے یہ دعا کروں گی کے ھمارا دوبارہ ملن کبھی نہ ھو۔۔

وہ پہلے سے دوگنی اذیت لیے مسکراتے لبوں سے اپنی زندگی کو الوداع کہتے ریسٹورینٹ س نکل گٸی۔۔۔
ابھی کچھ ہی قدم بڑھی تھی کہ دل میں یکدم درد اٹھا اور وہ وہیں دھیڑ ھوگٸ۔۔ابرش نیہا دور سے اُسے گرتا دیکھ کر چلاٸی۔۔

لیکن اسکے پہنچنے تک ابرش آخری سانس لے چکی تھی اور اسکے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔۔یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کہہ رہی تھی دیکھو خدا نے میری ازیت ختم کردی۔۔
شاید وہ اِسی آخری ملن کے انتظار میں تھی۔۔

کاٸنات مقصود

Image may contain: cloud and sky

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *