Afsaanay Afsana

Thaam Lo Dil Kay Bicharna Aasan Nahi Urdu Afsana

تھام لو دل، کہ بچھڑنا کوئی آسان نہیں

اردو افسانہ

ایس مروہ مرزا

“میرے ایمان کا تقاضا ہے

تو سدا میری دسترس میں رہے

تجھ سے جو پیار کی یہ شدت ہے

یہ میرے پاس، میرے بس میں رہے”

بقلم: ایس مروہ مرزا)

“محبت تو ایمان لانے کا معاملہ ہے۔۔۔۔۔ جان دینے کے بدلے،جان لینے کی فرمائش کرنے والے تو تاجر ہوئے۔۔۔۔اور تاجروں کو اس مسلک سے خارج ہونے میں دیر نہیں لگتی” دو ہیولیے تھے جنھیں اندھیرا اپنے اندر پیوست کرنے والا تھا۔۔۔۔۔دور دور سے آتی سمندر کی لہریں ان دونوں کے تپتے وجود منجمند کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔گو وہ یک جان تھے مگر آج دونوں کے بیچ بہت فاصلہ تھا۔۔۔۔۔۔۔درمکنون جو گہری نیلی فراک پر ستارے پہنے اپنے پاوں شل ہوتے محسوس کر رہی تھی یک دم رخ پھیرے اپنے ساتھ کھڑے اس پتھر سے وجود پر ڈالے بولی تھی۔۔۔۔۔ ساحل سمندر پر جلتی روشنیوں نے جیسے ان دونوں کے چہروں کا انتشار مزید روشن کیا تھا۔۔۔۔۔مگر حد نگاہ تک تو بس لہریں تھیں، اندھیرا تھا اور ان لہروں کا کناروں سے ٹکڑا کر بے دردی سے پھیلتا شور۔۔۔۔۔۔

“تم یہ سمجھتی ہو کہ سب ایمان ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو خوش فہمی کی حد ہوئی نا درمکنون” وہ رخ پلٹ کر اپنی نظریں اس پری پر ڈالے تھا جو اپنے چہرے کی اداسی کے سنگ اس ارگرد کی تمام خوبصورتی سے کہیں زیادہ دلکش تھی۔۔۔۔اقرع کی آنکھیں صاف صاف نااتفاقی لیے تھیں۔۔۔۔وہ بھی ایک تلخ سا خوبصورت چہرہ لیے درمکنون کی سمت دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

“اور دوسری بات کہ اس مسلک سے نکلنا ہی بہت بار نجات ہے” وہ اسے خودغرض اب بھی نہ لگا تھا۔۔۔۔وہ مسکرائی تھی۔۔۔پھر دونوں کی نظریں ایک بار پھر سامنے سے آتی لہروں پر جا اٹکیں۔۔۔

“محبت سے نجات حاصل کرنے والے بدقسمت نہیں ہوتے اقرع؟” وہ سوال کرتے ہوئے اپنی آنکھوں کی سیاہی میں ڈوبی معلوم ہوئی تھی۔

“بدقسمتی تو قسمت کے ساتھ بہت باوقار اور مضبوط طریقے سے جڑی ہے۔۔۔۔۔ اسکا اس سے کیا تعلق کہ نجات ہو یا نہ ہو” وہ بھی شاید کسی نجات کا طالب تھا۔۔۔درمکنون کے چہرے پر ہنسی پھیلی مگر آنکھیں نم ہونے کو بے قرار ہوئیں۔۔۔

“تو پھر اگر نہ ہو تو۔۔۔۔۔۔۔ یہ نجات ہو جانے سے زیادہ بہتر نہیں” اقرع نے ایک نظر اس رخ پھیر کر کھڑی مطمئین سی درمکنون پر ثبت کی۔۔۔۔۔وہ اسے پاگل لگتی تھی۔۔۔۔اور وہ واقعی تھی۔

“جب دونوں ہی بے اثر ہیں تو بہتری دیکھنے کا کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔ زندگی ایک مرکز پر ٹھہرنا نہیں ہے درمکنون۔۔۔۔۔یہ ٹھہراو زنگ آلود کرنے میں دیر نہیں لگاتا” وہ بھی مطمئین تھا۔۔۔۔کہ جیسے آج پورے دل سے بچھڑنے پر آمادہ ہے۔۔۔

“ٹھہراو تو ایمان کے کامل ہونے کی نشانی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ بے ایمانی نقصان دے جاتی ہے۔ زنگ کا کیا ہے وہ تو محبت کی ایک جھلک سے پانی بن کر بہہ جائے گا” درمکنون کی آنکھوں میں حسرت نہ ہو کر بھی تھی۔۔۔

“تم مجھے الجھا دیتی ہو” اقرع نے جیسے اپنا سر جھٹکا۔۔۔۔ بلیک تھری پیس۔۔۔۔اور وائٹ شرٹ۔۔۔۔بال تو وہ کبھی یوں نہ سلجھاتا ہوگا جیسے اس نے اس آخری ملاقات کے اہتمام پر سلجھائے تھے۔۔۔ تیاری بھی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ

“سنو۔۔۔۔درمکنون سنو۔۔۔۔۔ یہ آج کوئی فیصلہ کرنے والا ہے۔۔”

“تم کو سلجھانے کا سارا حق بھی میرا ہونا چاہیے۔۔۔۔۔ میرے ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ میں اس محبت کو اپنے وجود کے آخری کنارے تک اتار لوں۔۔۔۔” وہ شدید دیوانی تھی۔۔۔۔اور وہ الجھا سا ایک مفروررررر۔۔۔۔۔۔۔

“وجود کے چھلنی ہونے کی اذیت تمہارے بس کی بات نہیں۔۔۔ تم بہت نازک ہو درمکنون۔ ” وہ مسکرایا تھا اور درمکنون کی آنکھوں میں دیکھ کر جتاتے ہوئے پھر سے ان آتی لہروں کی جانب دیکھ رہا تھا۔

“عورت نازک ہی ہوتی ہے۔۔۔۔ لیکن بس ٹوٹنے اور چھلنی ہونے میں۔۔۔ محبت اور ایمان کی کچی نہیں ہوتی۔۔ تم کوئی مضبوط بہانہ کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے” اب تو شاید وہ ہنسی تھی۔۔۔۔ اور درمکنون کی ہنسی نے جیسے ہر شے جامد کی تھی سوائے اس فرار کے متلاشی اقرع کے۔۔۔۔۔۔

“ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ محبت اور ایمان کی یہ سخت جان سی قید دم گھوٹ دیتی ہے۔۔۔۔۔۔ دم گھٹ گیا تو پھر موت یقینی ہے۔ محبت کی بھی اور اس قید کی بھی” وہ سیدھا سیدھا کبھی نہیں بچھڑا تھا۔۔۔۔۔شاید بچھڑنے کے لیے بھی الٹا سیدھا ہونا پڑتا ہے۔۔

“تم مجھے چیلنج مت کرو۔۔۔۔میں اسے مر کر بھی ٹوٹنے نہیں دے سکتی۔۔۔۔ جب اس تعلق پر ایمان لائی تھی تو تبھی خود سے عہد کیا تھا کہ اب اگر اس پر آنچ آئی تو موت کا سارا اختیار چھین کر اسے پہلے موقع دوں گی پھر اس تعلق کی باری آئے گی۔۔۔۔۔۔۔ اب اگر وہ موت جسم کی ہو یا پھر میرے دل کی۔۔۔۔۔۔یہ تو حالات پر ہے” وہ اسے خود سے دور پٹخ دینا چاہتا تھا گو وہ پہلے ہی بہت دور تھی۔۔۔۔۔

“ہمممم موت تو برحق ہے” غصہ ضبط کیے بس سنجیدگی سے کہا گیا تھا۔۔۔۔

“بے شک۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دن یاد ہے جب تم نے کہا تھا قبول ہے؟” یک دم اقرع کی نظریں اس دیوانگی کی سمت اٹھیں جو درمکنون کے چہرے سے ہوتی ہوئی اسکی آواز کے سنگ لہروں میں گم ہو گئی تھی۔۔۔وہ سامنے دیکھ رہی تھی۔

“ہاں۔۔۔۔۔ شاید تب تھا۔۔۔۔۔” وہ ہنسا تھا کہ گویا مقابل تکلیف کم ہو۔۔۔

“میری جبین پر لمس کی صورت تمہارا اقرار آج بھی محفوظ ہے۔ میرے دل کی سرزمین پر تمہارے قدموں کے نشان بھی وقت کا کوئی ستم مٹا نہیں پایا۔۔۔۔۔۔تمہاری مجھ تک رسائی کی ہر داستان بھی دل مضطر کے خانوں میں قید ہے۔۔۔۔ سنہرے حروف میں کئی کئی بار درج ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ جب تم نے درمکنون کو اپنا اسیر کیا تھا۔۔۔۔وہ لمحہ میری رگ جان میں تحریر ہے۔۔۔۔۔وہ روشنی جو تمہارے آنے سے میرے مقدر کے اندھیروں کو نگل گئی وہ میری آنکھوں میں آج بھی دیکھائی دیتی ہے” وہ کچھ پل کو اپنے سامنے رخ پھیرے خاموش سے اقرع کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

“شاید یہ سب واقعی بہت زیادہ تھا” درمکنون کا تلخی سے مسکرانا گویا ہر سو ویرانی بکھیر گیا تھا۔۔۔۔۔۔اقرع کی ٹھنڈی آہ نے جیسے اس جلن کو مزید تیز کیا۔۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔ زیادہ نہیں۔۔۔۔۔ شاید میری حد بہت ہی محدود ہو۔۔۔ نچرلی” وہ مطمین سا اسکی سمت دیکھتے مسکرایا۔

“محدود نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید بہت کم” وہ بھی ہنسی تھی۔۔۔جدائی کی مہک نے اسکا سانس پل بھر کو روکا تھا۔۔۔

“کم ہی سہی لیکن پوری ایمانداری کے ساتھ اپنی مدت کو تکمیل تک پہنچایا ہے ” وہ تو جیسے سرشار تھا۔۔۔ خوش تھا۔

“یہ مدت طے کرنا تمہارے ہاتھ تو نہیں” پھر وہ اسے قید کر لینے کی کوشش میں اسکے بلکل سامنے آئی۔۔۔۔ آتی ہوئی لہریں ایک بار پھر ان دونوں کے پاوں شل کرتی ہوئی لوٹ رہی تھیں۔۔۔

“میرے ہاتھ ہی ہے۔۔۔۔۔۔تم اس سے زیادہ شدت کی نہ مستحق ہو نا ہی سہہ پاو گی” اسے کندھوں سے تھامے وہ اسکی آنکھوں میں بے خوفی سے جھانک رہا تھا۔۔۔

“میری حد بھی تم ہی طے کر رہے ہو۔۔۔۔یہ کیا بات ہوئی؟” وہ ہنس دینا چاہتی تھی پر ہنسی نہیں۔۔۔

“کیونکہ فل وقت میں تمہارا حاکم ہوں” اقرع ناقابل برداشت حد تک مغرور ہوا۔۔۔۔۔

“حاکم نہیں۔۔۔۔۔۔۔ میرا ٹوٹ جانے والا ستارہ۔۔۔جو ٹوٹ کر میری جھولی میں گرنے سے انکاری ہے۔۔۔۔۔” وہ حساس تھی۔۔جیسی ہر عورت ہوتی ہے۔۔۔اور وہ ظالم تھا۔۔۔ جیسا ہر مرد ہوتا ہے۔۔

“یہ ستارہ اس جھولی میں نہیں بلکے سمندر کی وسعتوں تک ڈوبنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔اور پھر ڈوب کر ابھرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ اپنا وہ قرار ڈھونڈنا چاہتا ہے جو اس ایمان لانے کے عمل میں نیست و نابود ہو گیا ہے” وہ کرب کی بات تھی پر محبت سے اس تک پہنچا رہا تھا۔

“تم ناشکرے ہو۔۔۔۔۔۔ میں ہی تمہارا سمندر ہوں۔ دیکھو مجھے۔۔۔ سمندر نہ سہی تو سمندر کی تہہ میں سیپ کے دامن میں دھرا درمکنون ہی سمجھ لو۔۔۔۔۔جو ہر کسی کو نہیں ملتا۔۔۔۔ تمہارے مقدر میں اس تک رسائی ہے۔۔۔۔۔۔۔ سوچ لو” وہ رونا چاہتی تھی پر وہ ظالم اسے رونے بھی کہاں دینے والا تھا۔۔۔

“وہ دن یاد ہیں جب تم نے اس محبت میں مجھے یوں جکڑا کہ میں سانس لینا بھی فراموش کر گیا۔۔۔۔۔تمہاری محبت آج بھی اس گرفت جیسی ہے جس میں میرا سانس متاثر ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ اقرع تو آزاد پنچی تھا اور آزاد ہی رہنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ آزادی کے سوا اب ہر چیز سے کنارہ کرنے کا وقت ہے۔۔۔۔ میں جینے کے لیے بنا ہوں درمکنون۔۔۔۔۔محبت کے بوجھ میں دب کر مرنے کو نہیں” بہت محبت سے اسکی پیشانی پر ہونٹ دھرے وہ اس سے چھپے لفظوں میں جدائی کا طالب تھا۔۔۔۔رہائی کا طالب تھا۔۔۔۔۔۔

“تم جی لو جتنا جی سکو۔۔۔۔۔۔۔ درمکنون بھی اسی سمندر میں پڑے اس چھپے موتی کی مانند ساکت کر دی جائے گی۔۔۔۔جسے تیز لہریں بھی کنارے تک نہیں پہنچا سکیں گی۔۔۔۔۔ جس کی کھوج کے لیے تمہیں اس سمندر میں سوچ سے بھی گہرا اترنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ کبھی نہ ابھرنے کے لیے” اقرع کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے وہ ہونٹوں سے لگائے کچھ دور ہوئی۔۔۔۔۔وہی کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی مقررہ جگہ پر۔۔۔۔۔۔اقرع نے ایک گہرا سرد سانس اپنے اندر اتارا۔۔۔۔۔۔

“مجھے منظور ہے یہ کنارا، یہ خسارہ” ظالم بھی کوئی اتنا ظالم نہ ہوگا۔۔۔۔۔دونوں کے چہرے پر خوشی تھی۔۔۔

💔(“درد کی گہرائی کو۔۔ پوروں سے بھی چن سکتے تھے۔۔

تم گر ظالم نہ ہوتے تو۔۔ مجھکو مدت سن سکتے تھے۔۔

میں نے بھی تو عمر لگا کر اس ایمان کو تازہ رکھا۔

تم اپنی بکھری دھجیاں، مجھ جیسی سے بن سکتے تھے”

بقلم: ایس مروہ مرزا

“جاو اقرع کوئی یوں بھی بچھڑتا ہے بھلا۔۔۔۔۔ جدائی کا فیصلہ تو منہ پر مارتے ہیں۔۔۔ تم نے تو سیدھا سیدھا روح پر دے مارا ہے۔۔۔۔ خود سے تو آزاد کیا تمہیں۔۔۔۔ مگر میرے ایمان سے کنارہ کر کے دیکھا دو اگر کر سکو۔۔۔۔۔مان جاوں گی کہ تم ایک فاتخ ہو” اپنی آنکھوں کی ساری نمی کو ان لہروں کے سپرد کرتی ہوئی وہ پھر سے مسکرا دی تھی۔۔نظر اقرع پر گئی جو اپنی فتح پر جشن کی تیاری میں تھا۔۔۔۔۔۔وہ اقرع تھا۔۔ایک مضبوط ڈھال۔ جسے خسارے اور کنارے پسند تھے۔ جسے دنیا کی ہر چیز کا خود تک دیوانہ وار آنا دوبارہ سے چاہیے تھا۔یہ ڈھالیں کب ایک سا وار چاہتی ہیں۔ یہ تو جنگ میں ہر رنگ اور ہر روپ چکھنے کی تمنائی ہوتی ہیں۔۔۔۔وہ در مکنون تھی۔۔۔سیپ کا موتی۔ جس کے اختیار میں چھپ جانا اور گم ہو جانا تھا ۔وہ گم گئی تھی۔۔۔۔وہ چھپ گئی تھی۔۔دونوں کی نظریں ملیں اور یوں اس آخری ملاقات کا اختتام ہوا۔۔

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *