Afsaanay Afsana

Time Pass By Ghazal Khalid Urdu Afsana

ٹائم پاس

اردو افسانہ

از قلم: غزل خالد

رابیل موبائل ہاتھ میں لیے صوفے پہ بیٹھی تھی ۔۔۔وہ بار بار موبائل کو دیکھتی کہ کوئ میسج تو نہیں آیا ؟۔۔۔۔
آخر تھک کر اس نے خود ہی مسیج کیا ۔۔۔۔
ارمان کدھر مصروف ہیں آپ ؟۔۔۔۔
ارمان ایک بگڑا ہوا لڑکا۔اللہ پاک نے اسے خوبصورت شکل سے نوازا تھا ۔امیر اور خوبصورت ہونے کی وجہ سے وہ مغرور تھا ۔۔اس کا ماننا تھا کہ لڑکیاں اس کی دیوانی ہیں ۔۔ان سے دوستی کرنا ۔فلرٹ کرنا اس کی عادت تھی ۔۔وہ ایک مہینے سے زیادہ کیسی لڑکی سے دوستی نہ رکھتا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمان نے جب رابیل کا میسج دیکھا تو منہ چھڑانے لگا اور منہ میں ہی بڑبڑایا ۔۔۔۔
یہ تو پیچھے ہی پڑ گئ کیسے جان چھوڑ آؤں اس سے ؟۔۔۔۔
ارمان کے چہرے کے عجیب و غریب تاثرات دیکھ کر اس کا دوست امجد بولا ۔۔۔
کیا ہوا بڈی ؟
ارمان سے دیکھ کے بولا ۔۔۔
کچھ نہیں یا ر ایسے ہی ایک لڑکی ہے میں نے دوستی اس لیے کی کہ ٹائم پاس ہو جائے اب میں بیزار ہو رہا ہوں اس سے ۔۔۔
امجد ہنس کے بولا ۔۔۔
یار تیرے لیے کون سا مشکل کام ہے چھوڑنا ۔۔چھوڑ دے کچھ نہ کچھ کہہ کے ۔۔۔
ارمان بولا ۔۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے تو کرتا ہوں کچھ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
رابیل سے ارمان کی دوستی ہی ایک رانگ کال کے ذریعے ہوئ تھی ۔۔۔۔۔شروع میں تو رابیل نے ارمان کو کوئ رسپانس نہیں دیا لیکن پھر کب دوستی ہو گئ وہ خود بھی نہ جان پائ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستوں سے مل واپس آ کر اس نے رابیل کو میسج کیا ۔۔۔
مصروف تھا ۔۔۔۔
رابیل جو کہ جاگ رہی تھی ارمان کا میسج دیکھ کر رپلائے کیا ۔۔۔
اچھااا جی کوئ بات نہیں ۔۔۔۔
اور سینڈ کر دیا ۔۔۔۔۔
ارمان نے میسج دیکھا ۔۔۔تو رپلائے کیا ۔۔۔۔
ہممم میں تھک گیا ہوں بائے سونے لگا ہوں ۔۔۔۔۔
رابیل نے میسج دیکھا تو افسوس کرنے لگی ۔۔۔رپلائے کیا ۔۔۔۔
اوکے سو جائیں اللّٰہ حافظ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
رابیل ارمان کا لہجہ نوٹ کر رہی تھی ۔۔۔وہ مسلسل اگنور کر رہا تھا اسے ۔۔۔رابیل کو یہ بات بہت ہرٹ کر رہی تھی بہت کم وقت میں رابیل ارمان پہ بھروسہ کرنے لگی تھی اس سے ہر بات شئیر کرتی اور ارمان آہستہ آہستہ اس سے بےزار ہونے لگا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ تو اس نے موبائل دیکھا رابیل کے صبح بخیر کے میسج تھے ۔۔ارمان مسیجز دیکھتا فریش ہو نے چلا گیا واپس آیا تو بیڈ پہ لیٹ کر موبائل استعمال کر نے لگا
آج ارمان نے سوچ لیا تھا کہ وہ جان چھوڑا کے ہی رہے گا رابیل سے ۔۔۔۔۔۔
ارمان نے رابیل کو میسج کیا ۔۔۔

ہائے ۔۔۔
رابیل نے میسج دیکھا تو رہلائے کیا ۔۔۔
ہائے اٹھ گئے ؟۔۔۔
رمان نے میسج دیکھا تو کہا ہاں اٹھ گیا ۔۔۔اچھا رابیل آج ایک بات کہنی ہے تم سے ۔۔۔۔
میسج لکھ کے سینڈ کر دیا ۔۔۔
رابیل نے میسج دیکھا تو رپلائے کیا ۔۔۔۔
ہاں جی بولیں ۔۔۔
ارمان نے میسج دیکھا اور رپلائے دیا ۔۔۔۔
ہماری دوستی ہے میں تم سے ملنا چاہتا ہوں باہر کہیں ۔۔۔۔
رابیل نے میسج دیکھا تو کہا ۔۔۔
ارمان آپ جانتے ہیں ایسا ممکن نہیں ۔میں کبھی اکیلی باہر نہیں گئ گھر سے کبھی ۔۔۔۔
ارمان نے میسج دیکھا اور رپلائے کیا ۔۔۔۔
سیدھے سے کہو نہ بھروسہ نہیں ۔تم میرے سے ٹائم پاس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
رابیل نے میسج دیکھا تو رپلائے دیا ۔۔۔۔
ارمان یہ کیسی بات کر رہے ہیں میں ایسی نہیں ہوں ۔۔۔
ارمان نے میسج دیکھا تو رپلائے کیا ۔۔۔۔۔۔۔
تم ہو ٹائم پاس ۔۔ابھی تک یقین نہیں آیا تہمیں مجھ پہ تو ایسی دوستی کا کوئ دائرہ نہیں بس آج سے مجھے کوئ میسج مت کرنا تہماری جیسی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہے اور مجھے تم جیسی لڑکی سے کوئ بات نہیں کرنی ۔۔۔۔۔
رابیل نے میسج دیکھا تو اس کے آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔اس نے رپلائے کیا ۔۔۔۔
نہیں ارمان ایسی کوئ بات نہیں ہے میں ایسی نہیں ہوں آپ ایسے نہ کہیں پلیز ۔۔۔۔
ارمان نے میسج دیکھ کر رپلائے دیا ۔۔۔۔
بس اب مت کرنا میسج نہیں کرنا میسج تہماری اور میری دوستی ختم بس۔۔۔۔
یہ میسج کرکے ارمان نے رابیل کا نمبر بلیک لسٹ میں لگا لیا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
رابیل نے میسج پڑھا تو حیران پریشان ہو کر موبائل فون کو دیکھنے لگی ۔۔۔
ارمان کی باتیں س کے دماغ میں گھومنے لگیں ۔۔۔۔وہ سوچنے لگی ۔۔۔۔
کیا واقعی میں بری لڑکی ہوں؟۔۔۔۔یقں صحیح تو کہا اس نے میں واقعی بری ہوں جو اس جیسے لڑکے کی باتوں میں آگئ اور دوستی کی اس سے بے حس ہوگئ تھی اپنی نفسی خواہش کی وجہ سے میں نے اس انسان سے دوستی کی ۔۔۔او میرے اللّٰہ یہ کیا کردیا میں نے ۔۔۔
وہ روتے ہوئے اٹھی اور بیڈ پہ آکر بیٹھی ۔۔اوع روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
کیوں کیا ارمان میرے ساتھ ایسا۔ٹائم پاس تم نے خو کیا اور کہا مجھے یا اللّٰہ ۔۔۔۔
روتے روتے کب سو گئ اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔
صبح رابیل کی آنکھ اذان کی آواز سے کھلی ۔۔۔۔وہ اٹھی نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔
اللّٰہ میں گناہ گار مجھے معاف کر میری مدد کر سب جانتے ہیں آپ مجھ سے غلطی ہو گئ معاف کر دیجیے۔۔۔
دعا کر کے وہ اٹھنے لگی تو اس کے دماغ میں آیا ۔۔۔۔
جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد اب کبھی بھی کیسی سے دوستی نہیں کرنی اور موبائل نمبر بھی تبدیل کر دیتی ہوں ۔۔اور استعمال بھی زیادہ نہیں کرنا ۔۔۔
امی جس انسٹیٹوٹ کا بتا رہی ہیں وہ جوائن کرتی ہوں ۔۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔اب ور کیسی کے ٹائم پاس کے لیے استعمال نہیں ہونا ۔۔۔۔یہ سوچتے ہی رابیل خود کو مطمئن کرکے قرآن مجید اٹھا کر پڑھنے لگی ۔۔۔۔
قرآن مجید کی تلاوت کرکے کہ خود کو پرسکون محسوس کیا۔۔۔موبسئم اٹھایا تو ارمان کے وہ سرے میسج دیکھے جو وہ اسے کرتا تھا ۔۔۔۔
ایک بار پھر اس کے دل کو کچھ ہوا اسنے روتے ہوئے سارے میسجز ڈیلیٹ کر دیے ۔۔۔۔۔اور خود کو مضبوط کرتی وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمان اب ایک نئی لڑکی کی تلاش میں تھا جو کہ اس کے وقت گزاری کا ذریعہ بنے ۔۔۔جو اس کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تین مہینے بعد ۔۔۔۔۔
رابیل انسٹیٹوٹ سے واپس آرہی تھی ۔۔۔جب سے یاد آیا کہ بیکری سے سامان لینا تھا ۔۔۔وہ بیکری میں گئ سامان لینے ۔۔سامان لے کے باہر آئ تو اس کی نظر سامنے کیفے میں موجود لڑکے اور لڑکی پہ پڑی ۔۔۔۔۔
تب ہی سوچنے لگی ۔۔۔
ٹائم پاس کون کرتا ہے لڑکی یا لڑکا ؟۔۔. یہ کوئ نہیں جانتا شاہد ہم انسانوں نے اپنے نفس کی خواہش کو ٹائم پاس کہنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

وہ اپنی سوچوں کو جھٹکتی گھر کی طرف چل پڑی ۔۔۔۔۔

 

Download

مزید اردو افسانے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *