Wabaa Kay Dinon Main Mohabbat By Arsalan Khan Urdu Novel

وباء کے دنوں میں محبت

از قلم : ارسلان خان

مکمل ناول

 

صبح کا وقت تھا سورج بادلوں سے جھانک رہا تھا. سورج کی کرنوں نے نے گلاب کے پھولوں کو صبح کا سلام پیش کیا نتیجے میں انھوں نے سر جھکا کر ان کو خوش آمدید کہا. ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی تھی. پرندے چہچہا کر مالک کی کی تعریف کر رہےتھے.

ا ٹھ جاؤ زاویار بیٹا ناشتہ کرلو کب تک سونا دیکھو صبح ہو گئ ہے”.

چھٹی کے دن تو سونے دیں امی”

اسنے اونگھتے ہوۓ جواب دیا اور پھر اٹھ گیا.

. ………………………

زاویار ان کی اکلوتی اولاد تھی. ایم بی بی ایس کرنے کے بعد کے بعد اسلام آباد کے مشہور سرکاری ہسپتال میں جاب کررہا تھا لوگوں کی مدد کرنا اس کا جنون تھا وہ ہسپتال کے بعد مریضوں کا مفت علاج کرتا. اس کے والد بھی ایک کامیاب ڈاکٹر تھے. وہ بھی اسی ہسپتال میں بطور انچارج کام کر رہے تھے

…………………

زاویار جیسے ٹی لاؤنج آیا تو اس کی امی نور جہان کاگانا سن رہی تھی.

” سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

کتنا آساں تھا تیرے ہجر میں مرنا جانا

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے”

وہ نور جہان کی دیوانی تھی.

“امی ذرا نیوز تو لگائیں.”

“ایک تو بیٹا تم مجھے کچھ دیکھنے نہیں دیتے. اور نیوز دیکھ کر کیا کرنا ہے کوئ اچھی خبر تو سننے کو ملتی ہی نہیں”

اسکی امی نے ناراض ہوتے ہوۓ ریموٹ اس کی طرف بڑھا دیا.

اس نے جیسے نیوز چینل لگایا وہاں کوئ بریکنگ نیوز تھی اور اینکر چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ چین کے شہر وہان میں ایک عجیب او غریب بیماری نے جنم لیا جو چوہوں سے انسانوں میں منتقل ہوئ ہے اور تیزی سے شہر میں پھیل رہی ہے. یہ پراسرار بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان کو چھونے اور سانس کے ذریعے پھیل رہی ہے.

اس نے تشویش ناک حالت میں آواز اونچی کردی.

…………………………

اگلے کچھ دنوں تک وہ مصروف رہا

رات کو کھانا کھانے کھانے کے بعد معمول کے مطابق اس نے ٹی وی لگائ تو وہ پریشان ہوگیا

ایک چینل پر بتایا جارہا تھا کہ وہان میں بیماری پورےشہر میں پھیل چکی ہے ہزاروں لوگ اسکا شکار ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے. چین کی حکومت صورت حال کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے. انھوں نے پڑوسی ممالک سے مدد کی اپیل کی ہے. اور حکومت پاکستان نے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم چائینا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے

حکوومت پاکستان کی جانب سے ڈاکٹرز کو رضاکارانہ طور پر چائینا جانے کی دعوت دی گئ. ماں باپ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود ذاویار نے بھی اپنا نام ان میں شامل کروایا لیا پہلے تووہ اسکی امی بلکل راضی نہیں تھی کیونکہ وہ انکی اکلوتی اولاد تھی آخر کار اس کی ضد کے آگےان کو ہتھیار ڈالنے پڑے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ذاویار جس بات کی ٹھان لے اسے کرکےہی دم لیتاہے.

اگلے دن وہ اپنے والدین کو رنجیدہ چھوڑ کر چائینا کی طرف روانہ ہوگیا. اسکی ٹیم میں بیس ڈاکٹرز شامل تھے. ان میں ایک اس کا ہم عمر عمار بھی شامل تھا. جہاز میں دونوں کی سیٹ اکٹھی تھی. بات چیت کے دوران معلوم ہوا عمار کے خیالات بھی اس کے جیسے تھے. اسکا کہنا تھا ایم بی بی ایس کرنے میں اس کا مقصد پیسے کمانا نہیں بلکہ دکھی انسانیت کے لیے کچھ کرنا تھا. باتوں باتوں میں وقت کا پتہ نہیں چلا اور وہ ان کا جہاز وہان ائیر پورٹ پر لینڈ کر گیا.

وہان پہنچ کر ان کو ٹھنڈ کا احساس ہوا. زاویار نے اپنے بیگ سے کوٹ نکال کر پہن لیا. ائیر پورٹ پر ان کا استقبال مسٹر ژانگ نے چین کی روایتی انداز میں سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک کے کیا. وہ پست قد کے مالک تھے. گول مٹول چہرا اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں جن میں شفقت عیاں تھی. راستے میں وہ وہان شہر کی گزشتہ رونقوں اور موجودہ حالات کے بارے میں بتاتے ہوۓ رو پڑے. آہ بھرتے ہوتے بولے وہان چین کے صوبے ہوبے کادارلخلافہ ہے. وہان کو چائینا کا واشنگٹن کہا جاتا ہے.یہ شہر دریاکے کنارے آباد ہے جسکی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے.یہ دنیاء کے جدید ترین شہروں میں سے ایک ہے. آسمان سے چھوتی عمارتیں مکڑی کے جالوں کی طرز پر بنا سڑکوں کا کانظام قابل دید ہے.آنسوں پونچھتےہوۓ بولے وباء سے پہلے یہاں بہت رونق ہوا کرتی تھی.یہاں کے لوگ ذندگی سے محبت کرنے والے اور لڑائ جھگڑے سے نفرت کرنے والے ہیں. لوگ کہتے ہیں وہان شہر کبھی نہیں سوتا.

.. ……………………

ہاسپٹل پہنچے تو اک دلخراش منظر نے ان کا استقبا ل کیا. ہر طرف لوگ موت کی سے لڑنے کی کوشش کررہے تھے زندگی کو وینٹلیٹر کا سہارہ تھا. عملے کی جانب سے ان کو حفاظتی لباس اور ماسک فراہم کیے گۓ.وہاں کے اک ڈاکٹر نے ان کو ہاسپٹل کا دورہ کروایا اور تما م صورت حال سے آگاہ کیا.ہاسپٹل میں وزٹ کے دوران ان کو ایک لڑکی سے ملوایا گیا جو بڑی محنت سے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی پوچھنے پر معلوم ہوا اس کا نام “یان” ہے وہ یونیورسٹی کی ایک طالبہ ہیں. جب بہت ساری نرسوں اور ڈاکٹروں نے کام کرنے سے انکار کیا تب ان حالات میں اس بہادر لڑکی نے خود کو اس کام کے لیے پیش کردیا. بلی کی طرح سبز آنکھیں پتلا جسم لمبے قد اور سنہری بال بالوں والی وہ لڑکی دور سے کوئ گڑیا لگ رہی تھی

اگلے دن شدید برف باری ہوئ شاید آسمان پر اڑتے بادل بھی اپنے لوگوں کا غم برداشت نہ کر سکے اور ٹوٹ کر گر گۓ ہر چیز نے برف کی چادر اوڑھ لی. اونچی عمارتیں دور سے برف کے بڑے ٹکڑے لگ رہے تھے. سات رنگوں کے شہر کا شہر اب سفید رنگ کا ہوگیا. جہاں زندگی راج کر تی تھی اب وہاں موت کے ڈیرے تھے. ایک لاکھ چمکتی ہوئ سنہری اینٹوں سے بنا وہان شہر کا قدیم یلو کرین ٹاورجسے وہان شہر کی پہچان سمجھا جاتا ہے جو ماضی میں اپنے اوپر متعدد حملوں کےبعد بھی اپنی جگہ پر قائیم ہے وہ بھی لڑکھڑانے لگا تھا .شہر کے سب سے بڑے مندر گوییان میں لوگ دئیے جلا کر خدا سے دعائیں مانگ رہے تھے. سب کو ایک چیز مطلوب تھی “زندگی”.

حالات بگڑتے جارہے تھے. ایسے ہی ان کو وہاں ایک ہفتہ گزرگیا. وہ سارا سارا دن مریضوں کی تیماداری میں گزارتے. ان کا فلیٹ ہاسپٹل سے تھوڑے فاصلے پر تھا. آج زاویار لیٹ ہوگیا تھا باقی سب پہلے ہی جاچکے تھے. شام ہوچکی تھی اس نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا جیسے ہی وہ نکلا اسے راستے میں یان مل گئ وہ بھی چھٹی کر کے گھر جارہی تھی.اس نے قریب جاکراس کو ہیلو کہا.اور ساتھ چلنے لگے. راستے میں یان ذاویارکو اپنے ملک کے بارے میں بتانے لگی جسے سن کر وہ بہت حیران ہوا. اس نے بتایا کہ یہاں گیارہ سال کی عمر کے ہر شخص کے لیے لاذمی ہے کہ وہ تین سے چار درخت لگاۓ اور چین اکثر لوگ اپنی جائیداد کا آدھا حصہ اپنے ہم شکل کو ڈھونڈنے میں لگا دیتے ہیں اور باقی اس پر خرچ کردیتے ہیں. اس کے مطابق یہاں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں. چلتے چلتے شام ہوگئ.راستے میں بہت بڑا پل آیا دونوں نے کچھ دیر کے لیےبیٹھنے کا فیصلہ کیا. پل کے اوپر بہت سارے بلب لگے ہوۓ تھے جن کا عکس پانی میں عیاں تھا.

آپ اپنے بارے میں بھی کچھ بتانا پسند کر یں گی زاویارنے دھیرے سے بولا تھا.

“میرےسارے گھر والے اس جان لیوا بیماری کاشکار ہوکر مر چکے ہیں میرا اس دنیا ء میں اس شہر کے سوا کوئ نہیں ” یان نے مسکراتے ہوۓ اسکی جانب دیکھ کر کہا تھا.ذاویار ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگیا.یان کی آنکھوں میں نمی تھی. اور ہونٹوں پر ناکام سی مسکراہٹ. زاویار کو انداذہ نہیں تھا. کہ ایک ننھی سی جان اتنا بڑا بوجھ اپنے دل میں لے کر جی رہی ہے. اسے یان کی بہادری دیکھ کر اس پر رشک ہوا.اس نے دھیرے سے اپنا سر زاویار کے کندھے پر رکھ دیا. اس نے اپنی سانسیں روک لی.

زاویار نے اس دن یان کے چہرے کو غور سے دیکھا تھا. لمبی پلکیں, بڑی بڑی آنکھیں,چھوٹی سی ناک. ایسا لگتا تھا جیسے کسی مصور کی برسوں محنت کرکے بنائ ہوئ تصویر میں کوئ جان ڈال دی گئ ہو.

یان کچھ دیر کے لۓ آنکھیں بند کر کےاس کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھی رہی. زاویار کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس کو کیسے تسلی دے.

کچھ لمحے بعد یان کو اچانک جیسے ہوش آیا وہ اس نے ہڑ بڑا کر اپنا سر زاویار کے کندھوں سے ہٹایا اور معزرت کی.

تو آج سے ہم دوست” اس نے اپنا ہاتھ زاویار کی طرف بڑھایا تھا.

دوست” زاویار نے مسکراتے ہوۓ اس کا نازک ہاتھ تھاما تھا.

فلیٹ پہنچا تو امار ابھی تک جاگ رہا تھا. اس کو دیکھتے ہی بولا “کہاں رہ گۓ تھے یار میں کب سے تمہارا انتظار کر رہاہوں مجھے نیند نہیں آرہی.

امار میں ایک عجیب سی اپنائیت تھی ایسا لگتا جیسے وہ اسے برسوں سے جانتے ہوں.

اسے زندگی سے محبت تھی وہ زندگی جینے کا سلیقہ جانتاتھا.

اسے اپنی کزن سے محبت تھی. وہ اکثر زاویار سے اس کی باتیں کرتا تھا. آج بھی شاید اسے اس کی یاد آرہی تھی.

اس نے نے بتا یا کہ وہ اکثر چاندنی راتوں میں چھپ کر چھت پر بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتے تھے.

زاویار اس کی باتوں کو غور سے سنتا.

.. ………………..

حالات مزید بگڑتے جارہے تھے. حکومت نے شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی . زندگی بچانے والی دواؤں کی قلت ہوگئ. ہاسپٹل میں جگہ کم پڑ گئ. کئ لوگ اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے. ان سب حالات کی پیش نظر وہ یان سے کئ دن نہ مل سکا.

پھر اگلے کچھ دن یان ہاسپٹل نہ آئ تب وہ ہاسپٹل سے اس کے گھر چلا گیا. وہ اسے دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہوئ. اس نے بتایا کہ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ اتنے دن ہاسپٹل نہ آسکی.

وہ دونوں باہر نکل کر ٹہلنے لگے. سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا گول مٹول بچہ اپنی زبان میں کوئ دھن گا رہا تھا. کچھ لوگ اسے توجہ دۓ بغیر گزرگۓ کچھ لوگوں نے اسکے آگے رکھی ہوئ ٹوکری میں سکے ڈالے تو اس نے سر جھکا کر ان کا شکریہ ادا کیا جبکہ کچھ لوگوں نے اسے صرف داد دینا سے کام چلایا. وہان کے لوگ بھیک مانگنے کو معیوب سمجھتے ہیں اور جن کو کوئ کام نہیں ملتا وہ ایسے سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر لوگوں کا دل بہلاتے ہیں اورکام سے تھکے ہارے لوگ خوش ہوکر ان کو چند سکے دے دیتے ہیں جن سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے. زاویار نے سوچا کاش ہمارے ملک میں بھی ایسا ہوتا. یان زاویار کو اپنی یونیورسٹی لے گئ جس کا نام وہان یونیورسٹی تھا پہاڑ پر بنائ گئ یونیورسٹی کو چاروں طرف سے ایک خوبصورت جھیل نے گھیر رکھا تھا. یان کے مطابق اس یونیورسٹی کی خوبصو رتی ہی یہاں پڑھنے والوں کو یہاں آنے پر مجبور کرتی ہے

واپسی پر زور کی بارش شروع ہوگئ اور وہ دونوں بھیگنے لگے. زاویار کو کہی پڑھی ہوئ وہ بات یاد آگئ کہ یہ بارشیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں ہمارے جسم کو تو بھگو دیتی ہیں لیکن ہمارے اندر کی پیاس کو نہیں سیراب کر پاتی . دونوں بارش سے بچنے کے لئے ایک کیفے میں گھس گۓ.یہ پرانے طرز کا لکڑی سے بنا ہوا ایک چھوٹا سا کیفے تھا. جس کی چھت سے کئ چھوٹے بلب لٹک رہے تھے. اور دیواروں پر پرانے طرز کی بڑی بڑی گھڑیاں اور چند تصویریں تھی کہیں کہیں چائینیز زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا کونے میں ایک چھوٹی سی الماری تھی جس میں کچھ کتابیں اور رسالے پڑے ہوۓ تھے. یان نے کافی کا آرڈر دیا. کافی کے اوپر کریم سے ایک چھوٹا سا دل بنا ہوا تھا. یان نے بتایا کہ وہ جب بھی اداس ہوتی ہے تو وہ یہاں آکے بیٹھ جاتی ہے. اور وہ پہلی بار کسی کے ساتھ یہاں آئ ہے کیفے میں مکمل خاموشی تھی.کیفے مدہم آواز سے چینی زبان میں دھن چل رہی تھی.

“اے میرے محبوب اگر

تجھے یقین نہیں ہے

میری محبت پر

تو میرا دل چیر کے

دیکھ لو

وہاں تمہارا صرف

تمہارا نام ہوگا”(ارسلان)

اچانک ہی ایک لمحے کے لیے دونوں کی نظر ملی اور یان نے اپنی نظریں جھکا لی. زاویار کو اسکا مشرقی طرز میں شرمانا بہت اچھا لگا.

یان نے زاویار سے اس دن دل کھول کر باتیں کی اور وہ خاموشی سے اس نازک سی لڑکی کی باتیں سنتا رہا. اس نے بتایا کہ اس نے زندگی میں کبھی کسی سے اتنی دیر باتیں نہیں کی.

کیفے سے نکل کر دونوں روڈ پر پیدل چلنے لگے. چلتے ہوۓ یان نے اس کا مظبوط بازو اپنے نازک ہتھیلی سے پکڑ لیا. آخر کچھ دیر بعد اس کا گھر آگیا.

کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ راستہ ختم ہی نہ ہو”

یان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا.

جواب میں زاویار مسکرایا.

یان کو گھر چھوڑ کر وہ تیزی سے اپنے فلیٹ چلنے لگا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ امار سویا نہیں ہوگا اور اس کا انتظار کر رہا ہوگا.

اس کے اندازہ ٹھیک نکلا امار ابھی تک جاگ رہا تھا.

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سلام کیا.

امار نے کوئ جواب نہیں دیا اور منہ دوسری طرف کرلیا.

جانے من آپ کی یہ خاموشی مجھ سے برداشت نہیں ہورہی کچھ تو بولو”

اس نے پھر بھی کوئ جواب نہیں دیا.

دیکھو میں کیا لایا ہوں اس نے آئسکریم کا کو اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا.

امار کو آئسکریم بہت پسند تھی. اس لۓ اس نے آتے ہوۓ اسکا فیورٹ چوکلیٹ فلیور خریدا تھا.

امار کے منہ میں پانی آگیا. لیکن اسنے زاویار کی طرف نہیں دیکھا.

اچھا تو میں خود ساری کھا لیتا ہوں ویسے بھی کسی اور نے نہیں کھانی.

جیسے ہی اس نے پہلا چمچ منہ کی طرف بڑھایا امار اس پر کسی بھوکے شیر کی طرح جھپٹا. آئسکریم اس کے ہاتھ سے چھین لی اور زاویار مسکرانے لگا.

امار ایسا ہی تھا. بچوں کی طرح بات بات پر روٹھ کر فورا” مان جانے والا.

امار کچھ دیر میں سوگیا.

زاویار کو نیند نہیں آرہی تھی. اس نے ٹی وی چلائ تو وہاں کسی انڈین چینل پر ایک پرانا گانا چل رہا تھا.

بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم

قسم چاہے لے لو خدا کی قسم

ہماری غزل ھے وہ تصور تمھارا

تمھارے بنا آب جینا نہیں گوارہ

ہم تمھیں چاھے گئے جب تک ھے دم

بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم

اسے یان یاد آگئ. اس نے سوچا شاید یہ اس کا وہم ہے. اس نے ٹی وی بند کرکے سونے کی کوشش کی مگر بے سود.

یہ مجھے کیا ہورہا ہے”

اسنے ہمکلامی کی

وہان شہر میں لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے لگے. دفنانے کے لیۓ جگہ کم پڑ گئ لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جانے لگا. سائنسدان اس بیماری کا علاج ڈھونڈنے میں بری طرح ناکام ہوگۓ.دنیاء کی جدید ترین ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود بھی وہ موت کو شکست دینے میں مسلسل ناکام ہورہے تھے.

ادھر اچانک صبح امار کی طبیعت بگڑگئ. اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی.زاویار اس صورت حال سے پریشان ہوگیا اس نے فورا ہاسپٹل کال کر کے ایمبولینس منگوائ. ہاسپٹل میں اسے پین کلرز دی گئ اور آکسیجن ماسک لگایا جس سے اسکی طبیعت کچھ سنبھلی. ڈاکٹر نے اس کے خون کے سیمپل ٹسٹ کرنے کے لیے لیب بھیج دۓ.

زاویار پریشانی کی حالت میں آئ سی یو کے باہر بیٹھا رہا.

ڈاکٹر کے نکلنے کے بعد وہ فورا وہ اندر داخل ہوا.

امار اسے دیکھ کر مسکرانے لگا.

زاویار اس کے قریب بیٹھ گیا.

کچھ نہیں ہوگا تجھے یار”

اس نے امار کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ کہا.

میں اتنی آسانی سے مرنے والا نہیں ہوں”

اس نے زاویار کو آنکھ مار کے بولا.

وہ کافی دیر تک اس کے پاس بیٹھا رہا.

دواؤں میں نشے کی وجہ سے اسکو کچھ ہی دیر میں نیند آگئ.

ڈاکٹر نے زاویار کو کہا کہ امار کو ایک دن یہی رکنا پڑے گا.

زاویار نا چاہتے ہوۓ بھی اپارٹمنٹ چلا گیا.

رات کو 3 بجے کے قریب اسکا موبائل بجنے لگا.

کسی انجانے نمبر سے اسے کال آرہی تھی.

اس نے آنکھیں مسلتے ہوۓ فون پک کیا.

آپ زاویار بات کر رہے ہیں”

فون پر ایک انجانی آواز آئ.

جی! آپ کون؟”

میں ہاسپٹل سے بات کر رہا ہوں, امار صاحب اب اس دنیاء میں نہیں رہے”

وہ سکتے میں آگیا اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اس کر دماغ کو ماؤف کردیا ہو. اس کے ہاتھ سے موبائل گر گیا.

اور وہ وہی بیٹھ گیا.

………………………..

امار کے مرنے کی خبر ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائ گئ. وہ دوسروں کو زندگی دیتے دیتے خود زندگی ہار بیٹھا.

اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لۓ شہر بھر میں بڑی سکرینوں پر اسکی فوٹو لگائ گئ.

………………….

شہر میں اب حالات بہتر ہورہے تھے. اک نئ دوائ بنائ گئ جو اس بیماری میں بہت اثر دکھا رہی تھی مریض تیزی سے صحت یاب ہونے لگے. شہریوں کا گھر سے نکلنے پر پابندی لگائ گئ. ایک مہینے کے بعد حالات مکمل کنٹرول میں آگۓ.

…………………

وہان شہر میں بہار کا موسم شروع ہوگیا.

فضاں میں ہر طرف پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو تھی.

زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئ.

حکومت پاکستان نے اپنے ڈاکٹرز کو دوبارہ بلانے کا اعلان کردیا.

………………….

آج بہت دنوں بعد اس نے یان کو دیکھا

وہ آج بے حد حسین لگ رہی تھی.

میں نے سنا ہے کہ تم واپس جارہے ہو”

یان نے زاویار کی طرف دیکھ کر بولا

ہاں”

زاویار صرف اتنا کہہ سکا.

کیا تم ہمیشہ کے لۓ رک نہیں سکتے”

یان نے دھیرے سے کہا.

ایسا ممکن نہیں میرے گھر والے میرا انتظار کر رہے ہیں

تم بھی تو میرے ساتھ پاکستان چل سکتی ہو”

اس شہر کو اور اپنی دادی کو اکیلے چوڑ کر جانا میرے لۓ ممکن نہیں”

یان نے مسکراتے ہوۓ کہا.

اس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے سے کوئ بات نہیں کی. زاویار اسے گھر چوڑ کر اپنے جانے کی تیاری کرنے لگا کیونکہ آج اس کی فلائیٹ تھی.

شام کووہ ائرپورٹ پر مو جود تھا. اسکی نظریں یان کو تلاش کرر ہی تھی. وہ اس سے ملنے نہیں آئ آخر مایوس ہوکر وہ جہاز کی سیڑھی پر چڑھنے لگا. اچانک اسے دور سے یان اپنی طرف بھا گتی ہوئ نظر آئ اس نے نے دوبارہ جانے کی کوشش کی لیکن تب تک جہاز کا دروازہ بند ہوچکا تھا. یان بھاگتے بھاگتے گر گئ.

رخصت ہوا تو ہاتھ، ملا کر نہیں گیا

وہ کیوں گیا ہے یہ بھی، بتا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا

جاتے ہوئے چراغ، بجھا کر نہیں گیا

شائد وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط

وہ اپنے نقش پا کو، مٹا کر نہیں گیا

ہر بار مجھ کو چھوڑ گیا اضطراب میں

لوٹے گا کب؟ کبھی وہ، بتا کر نہیں گیا

رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے

اور خاک میں بھی مجھ کو، ملا کر نہیں گیا. (ختم شدہ)

 

ڈاؤنلوڈ کریں

Leave a Reply